انڈین سینسر بورڈ کا ’پدماوتی‘ کو گرین سگنل

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے فلم سینسر بورڈ نے آخر کار متنازع بالی وڈ فلم 'پدماوتی' کو ریلیز کرنے کی اجازت دے دی ہے، فلم کی ریلیز کے لیے جلد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
سینسر بورڈ نے فلم کا نام ’پدماوتی‘ کے بجائے ’پدماوت‘ رکھنے کی تجویز دی ہے۔
یہ فلم 14 ویں صدی کی ایک ہندو رانی اور مسلمان بادشاہ کی کہانی پر مبنی ہے، جس پر ملک بھر میں ہندو گروپس کی جانب سے بھرپور مخالفت کی گئی۔
اب انڈیا میں سینٹرل بورڈ فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس نے فلم میں کسی منظر کو کاٹے جانے کی تجویز نہیں دی ہے۔
اس سے قبل نومبر میں انڈیا کی ایک اعلی عدالت نے فلم کی بین الاقوامی سطح پر ریلیز پر پابندی کے مطالبے کی ایک درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
فلم پدماوتی میں اعلیٰ ذات کی راجپوت رانی اور مسلم حکمراں علاء الدین خلجی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ بالی وڈ اداکارہ دیپکا پاڈو کون نے رانی جبکہ رنویر سنگھ نے بادشاہ کا اہم کردار ادا کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کئی ہندو گروپ اور راجپوت ذات کی تنظیم نے سنجے لیلا بھنسالی کی فلم پر الزام لگایا کہ اس میں دونوں کے درمیان قریبی رومانوی مناظر فلمائے ہیں جس کی فلم ساز نے تردید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گو کہ پدماوتی ایک افسانوی کردار ہے لیکن راجپوت انھیں احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں انھیں خواتین کی عزت کی علامت کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندو قوم پرستی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کے دور حکومت میں اپنے عروج پر ہے۔
گائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو مارنے کے واقعات رونما ہوئے، تاریخی عمارت تاج محل کو مسلم وراثت ہونے کے لیے نشانہ بنایا گیا اور مہاتما گاندھی کے ہندو مسلم اتحاد کے نظریے کو پس پشت ڈالنے کی کوشش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سینسر بورڈ نے کہا کہ اس نے مظاہرین کے خدشات پر غور کرنے کے لیے مخصوص بورڈ تعینات کیا تھا جس نے فلم کا بغور جائزہ لیا ہے۔
'فلم ساز اور معاشرے دونوں کو مدِ نظر میں رکھتے ہوئے فلم پر متوازن نظر ڈالی گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بورڈ نے کہا ہے فلم سے پہلے یہ اعلان جاری کیا جائے کہ اس فلم کا تاریخی صداقت سے کوئی سروکار نہیں اور اس میں یہ بھی کہا جائے کہ یہ فلم ستی (خاتون کی شوہر کی موت پر خود سوزی کی رسم) کے رواج کو فروغ نہیں دیتی جسے 19 ویں صدی میں غیر قانونی قرار دیا گيا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
بورڈ نے یہ تجویز دی کہ فلم کا نام پدماوتی سے بدل کر پدماوت کر دیا جائے جیسا کہ 16 ویں صدی کے شاعر ملک محمد جائیسی کی رزمیہ کا عنوان ہے۔
سی بی ایف سی کے سربراہ پرسون جوشی نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ فلم میں کسی منظر کو کاٹنے کی تجویز پیش نہیں کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/RUPESH SINGH
راجستھان کے ایک مقامی گروپ 'راجپوت کرنی سینا' نے فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا، اس فلم کی شوٹنگ کے دوران اس کے سیٹ پر توڑ پھوڑ کی تھی، ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کو تھپڑ مارے تھے جبکہ دوسرے گروپس نے سینیما گھروں میں توڑ پھوڑ کی تھی اور اداکارہ دیپکا پاڈو کون کی ناک کاٹنے کی دھمکی دی تھی۔
فلم پہلے یکم دسمبر کو ریلیز ہونی تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اب سینسر بورڈ سے پاس ہونے کے بعد اس کی ریلیز کی نئی تاریخ طے کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہDEEPIKA PADUKONE, TWITTER








