عرفان خان کو کبھی پاکستان تو کبھی ایران سے ہیروئن کیوں تلاش کرنی پڑتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہfacebook
- مصنف, سپریا سوگلے
- عہدہ, بی بی سی ہندی
ہندی میڈیم، مقبول، پیکو اور مداری جیسی فلمیں کرنے والے عرفان خان کا خیال ہے کہ ان کی فلموں کے لیے اداکاراؤں کا انتخاب کرنے میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں اس لیے ان کی فلموں کے لیے اداکارائیں پاکستان یا ایران سے بلانی پڑتی ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں عرفان خان نے اپنی فلموں کی ہیروئنز کے بارے میں کہا کہ اپنی فلموں میں ہیروئنز کے لیے میں بہت احتیاط سے کام لیتا ہوں کیونکہ ان میں صرف گلیمرس لڑکی سے بات نہیں بنے گی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عرفان کا کہنا تھا کہ ’ہماری انڈسٹری میں چند ہی اچھی اداکارائیں ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر بار میری فلموں کے لیے ان کے پاس وقت ہو۔ اور میرے لیے یہ ایک چیلنج ہوتا ہے کہ میں ہیروئن کہاں سے لاؤں، اس لیے نئی ہیروئن تلاش کرنی پڑتی ہے۔ کبھی پاکستان سے کبھی ایران سے تو کبھی جنوبی بھارت سے‘۔
عرفان خان نے کئی خاتون ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے سامنے وہ خود کو کافی کمتر محسوس کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عرفان کا کہنا تھا کہ خواتین میں ایک خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ ایک وقت پر کئی کام کرسکتی ہیں جو مردوں کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عرفان کی خواہش ہے کہ وہ شیر اور ہاتھی جیسے جانور پالیں۔
عرفان اداکارہ دپیکا پادوکون کے کام کے قائل ہیں اور وشال بھاردواج کی اگلی فلم سپنا دیدی میں دپیکا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
اداکاری سے ہدایت کاری میں قدم رکھنے والے عرفان خان اپنی اگلی رومانٹک کامیڈی 'قریب قریب سنگل' کے پروموشن میں مصروف ہیں۔








