آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عرفان خان کو کبھی پاکستان تو کبھی ایران سے ہیروئن کیوں تلاش کرنی پڑتی ہے؟
- مصنف, سپریا سوگلے
- عہدہ, بی بی سی ہندی
ہندی میڈیم، مقبول، پیکو اور مداری جیسی فلمیں کرنے والے عرفان خان کا خیال ہے کہ ان کی فلموں کے لیے اداکاراؤں کا انتخاب کرنے میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں اس لیے ان کی فلموں کے لیے اداکارائیں پاکستان یا ایران سے بلانی پڑتی ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں عرفان خان نے اپنی فلموں کی ہیروئنز کے بارے میں کہا کہ اپنی فلموں میں ہیروئنز کے لیے میں بہت احتیاط سے کام لیتا ہوں کیونکہ ان میں صرف گلیمرس لڑکی سے بات نہیں بنے گی۔
یہ بھی پڑھیے
عرفان کا کہنا تھا کہ ’ہماری انڈسٹری میں چند ہی اچھی اداکارائیں ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر بار میری فلموں کے لیے ان کے پاس وقت ہو۔ اور میرے لیے یہ ایک چیلنج ہوتا ہے کہ میں ہیروئن کہاں سے لاؤں، اس لیے نئی ہیروئن تلاش کرنی پڑتی ہے۔ کبھی پاکستان سے کبھی ایران سے تو کبھی جنوبی بھارت سے‘۔
عرفان خان نے کئی خاتون ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے سامنے وہ خود کو کافی کمتر محسوس کرتے ہیں۔
عرفان کا کہنا تھا کہ خواتین میں ایک خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ ایک وقت پر کئی کام کرسکتی ہیں جو مردوں کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عرفان کی خواہش ہے کہ وہ شیر اور ہاتھی جیسے جانور پالیں۔
عرفان اداکارہ دپیکا پادوکون کے کام کے قائل ہیں اور وشال بھاردواج کی اگلی فلم سپنا دیدی میں دپیکا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
اداکاری سے ہدایت کاری میں قدم رکھنے والے عرفان خان اپنی اگلی رومانٹک کامیڈی 'قریب قریب سنگل' کے پروموشن میں مصروف ہیں۔