کیا کمل حسن سیاست میں فلمی پردے کے جادو کو برقرار رکھ سکیں گے؟

کمال حسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سدہا جی تلک
    • عہدہ, دہلی

انڈیا کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کی سیاست میں ایک نئے رہنما کے وارد ہونے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور وہ ہیں معروف اداکار کمل حسن۔

یہ محض ایک اتفاق ہے کہ اس سے پہلے تین انڈین فلم سٹار تامل ناڈو کی سیاست میں آئے ہیں۔

کمل حسن کی عمر 62 سال ہے۔ ان کے پرستار انھیں 'اولاگا نیاگن' کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے 'دنیا کے ہیرو۔'

ان کا کہنا ہے کہ وہ سیاست میں آنے اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ کرپشن اور فرقہ واریت کو ختم کر سکیں۔

ان کے مطابق، تامل ناڈو کے لوگوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سماجی اور سیاسی طور پر سمجھ سکیں۔

سیاست میں آنے کے بارے میں کمل حسن کے بیان پر انڈیا میں بحث شروع ہو گئی ہے، کیا وہ تامل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی لہر پیدا کر سکیں گے؟

کمل حسن نے گذشتہ ماہ بہت سے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، وہ کہتے ہیں 'اگر اگلے 100 دنوں میں ریاست میں انتخابات کروائے جائیں تو میں ضرور اس میں حصہ لوں گا۔'

رجنی کانت

تمل فلموں کے دوسرے سپر سٹار رجنی کانت کے برعکس، کمل حسن سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ رجنی کانت نے اس سال مئی میں سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے اور رجنی کانت کے درمیان تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسن کہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان دوستانہ مقابلہ ہو گا اور وہ ایک دوسرے پر انفرادی طور پر تبصرہ نہیں کریں گے جیسا کہ پہلے تامل ناڈو کی سیاست میں ہو رہا ہے۔

کمل حسن کے مداحوں کی تعداد 500،000 کے قریب ہے تاہم رجنی کانت کے 50،000 فین کلبز اور ایک بہت بڑا فین بیس ہے جو اپنے حق میں ووٹ بینک کے طور پر کام کرتا ہے۔

پوسٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کمل حسن کے فین کلب کو 'نارپانی لائی کم' کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے 'اچھا کام کے لیے تحریک۔' ان کے فین کلب سماجی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں لیکن رجنی کانت اپنی پرستش جیسے پرستار کلبوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔

کمل حسن کے فین کلب کی جانب سے حال ہی میں جاری ایک بیان میں یہ واضح طور پر کہا گیا 'کمل حسن عام سیاست دان نہیں ہیں جو لوگوں کے سامنے بہانے کرتا ہیں تاہم انھوں نے نارپانی لائی کم کے ذریعہ بہت سے کام کیے ہیں۔'

کمال حسن

کمل حسن کی جانب سے بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ انٹرویوز کی تعریف کرنے پر بہت سے افراد نے سوالات اٹھائے ہیں۔

چنئی سے ایک سینیئر صحافی کا کہنا ہے 'اگرچہ وہ اکثر واضح طور پر بولتے ہیں لیکن وہ عوام کو اپیل نہیں کرتا۔'

ایک سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے 'وہ رجنی کانت کی طرح ہوشیار ہیں لیکن کبھی کبھی ایک پہیلی پر مبنی زبان میں گفتگو کرتے ہیں جو عام عوام کی سمجھ سے باہر ہے۔'

ان کے مطابق جو لوگ تامل ناڈو کی سیاست کو سمجھتے ہیں، کمل حسن واضح طور پر بولتے ہیں لیکن اس میں سفارت کاری کی کمی ہے جس کی سیاست میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

کمل حسن نے ابھی تک وضاحت نہیں کی ہے کہ ریاست میں تعلیم، معیشت اور روزگار کے میدان میں کس طرح کا کام کیا جائے گا اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنی نئی پارٹی تشکیل دیں گے یا نہیں۔

کمل حسن کا تعلق تامل ناڈو کی وکلا کے برہمن خاندان سے ہے۔ انھوں نے گذشتہ 50 سالوں میں جو حاصل کیا ہے وہ ان کی غیر معمولی صلاحیت اور جذبے سے ظاہر ہوتا ہے۔

انھوں نے سنہ 1960 میں ایک چائلڈ سٹار کے طور پر اپنے کریئر کا آغاز کیا اور اب تک 200 سے زائد فلموں میں کام کیا ہے۔

کمل حسن نے بہت سے قومی اور بین الاقوامی اعزاز حاصل کیے ہیں لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا وہ سیاست میں فلمی پردے کے جادو کو برقرار رکھ سکیں گے؟