'سنجے دت سنی لیونی کے گانے میں شامل ہونا چاہتے تھے'

سنی لیونی

،تصویر کا ذریعہइमेज कॉपीरइटSTUDIO TALK PR

،تصویر کا کیپشنسنی لیونی نے فلم بھومی میں ٹپّی ٹپّی نامی آئٹم سانگ کیا ہے

فلم ہدایت کار امنگ کمار کا کہنا ہے کہ اداکار سنجے دت آنے والی اپنی فلم 'بھومی' میں اداکارہ سنی لیونی کے ساتھ گانے میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن اس فلم کی کہانی کی وجہ سے وہ اس آئٹم سانگ کا حصہ نہیں بن پائے۔

امنگ کمار اس سے قبل 'میری کوم' اور 'سربجیت' جیسی بایوپک فلمیں بنا چکے ہیں۔

انھوں نے جیل سے رہائی کے بعد سنجے دت کی پہلی فلم 'بھومی' کی ہدایت کاری کی ہے۔ اس فلم میں اداکارہ سنی لیونی نے ایک آئٹم سانگ کیا ہے۔

سنی لیونی بالی وڈ میں 'جسم 2' اور 'راگنی ایم ایم ایس2' جیسی ہٹ فلموں میں کام کر چکی ہیں لیکن انھوں نے اب تک کسی بڑی فلم میں یا کسی سٹار اداکار کے ساتھ بطور اداکارہ کام نہیں کیا ہے۔

سنجے دت، امنگ کمار

،تصویر کا ذریعہSTUDIO TALK PR

،تصویر کا کیپشنسنجے دت ہدایت کار امنگ کمار کے ساتھ

امنگ کمار سے بی بی سی نے جب اس بارے میں پوچھا کہ آخر لوگ ان کے ساتھ کام کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن کوئی کام نہیں کرتا، تو کیا بالی وڈ کے لوگوں کو سنی لیونی کے ساتھ کام کرنے میں شرم آتی ہے؟

اس پر امنگ کمار نے کہا: 'جو لوگ اس طرح سے سوچتے ہیں ان کا دوہرا معیار ہوتا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ کام کرنے میں شرم آتی ہے۔ عامر خان نے ان کے ساتھ کام کرنے کی بات کہی ہے۔ ہماری فلم میں بھی سنی لیونی نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔'

امنگ کا کہنا تھا کہ سنی لیونی کے آئٹم سانگ میں شامل ہونے کے لیے سنجے دت نے بھی کہا تھا۔

فلم بھومی کا پوسٹر

،تصویر کا ذریعہSTUDIO TALK PR

،تصویر کا کیپشنجیل سے رہائی کے بعد اداکار سنجے دت کی یہ پہلی فلم ہے

انھوں نے کہا: 'سنجے دت نے مجھ سے کہا کہ پوری فلم میں میرا کوئی ایک بھی گانا نہیں ہے، میں گانے میں سنی کے پیچھے سے نکل جاؤں گا۔ مجھے گانے میں لے لو۔'

فلم ڈائریکٹر امنگ کو باقا‏عدہ سنجے دت کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑی کہ فلم کی سٹوری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اس گانے میں شامل نہ ہوں۔

انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ فلم میں اس آئٹم سانگ کی ضرورت تھی اور اسے زبردستی نہیں ڈالا گيا ہے۔

امنگ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سنجے دت سے ملاقات سے پہلے وہ بہت پریشان تھے کیونکہ ان سے متعلق وہ پہلے عجیب و غریب کہانیاں سن چکے تھے لیکن پہلی ہی ملاقات میں ان کا نقطہ نظر بدل گيا۔