ٹیگور کی محبت حقیقی یا مجازی؟

فلم کا منظر

،تصویر کا ذریعہSuraj Kumar

،تصویر کا کیپشنفلم تھنکنگ آف ہم انڈیا کے معروف ادیب رابندرناتھ ٹیگور اور ارجنٹائن کی ادیبہ اور کارکن وکٹوریہ اوکامپو کے رشتے پر مبنی ہے
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

ہندوستان کے معروف نوبل انعام یافتہ ادیب شاعر اور مصور رابندرناتھ ٹیگور کی ارجنٹائن کی معروف ادیبہ وکٹوریہ اوکیمپو کے ساتھ 'قریبی' اور 'پاک محبت' کی داستان پر مبنی فلم 'تھنکنگ آف ہِم' تیار ہے۔

یہ فلم بیک وقت چار زبانوں انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی اور بنگلہ میں ریلیز کی جا رہی ہے۔ ٹیگور کی داستان محبت ایک ایسا موضوع ہے جس پر انڈیا میں اور بطور خاص بنگال کے دانشوروں میں کم ہی بات ہوتی ہے۔

اس فلم کے معاون پروڈیوسر اور تخلیقی ہدایت کار سورج کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فلم دو مختلف براعظموں پر رہنے والی دو عظیم شخصیتوں کے 'روحانی رشتے' کی کہانی ہے اور وہ اسے کین فلمی میلے کے مقابلے میں شامل کیے جانے کی امید رکھتے ہیں۔

فلم سازی کی تحقیق میں شریک جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر ایس پی گانگولی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ٹیگور کے کسی خاتون کے ساتھ رشتے کو پیش کرنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوستان میں انھیں ایسے مقام پر رکھا گیا ہے جہاں ذرا بھی لغزش پریشانی کا سبب ہو سکتی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ٹیگور کے اپنے دور میں کئی خواتین کے ساتھ رشتے تھے اور اس بارے میں دو طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ ان کا رشتہ 'پاک اور روحانی' رشتہ تھا جبکہ دوسری طرح کے لوگوں کو جسمانی رشتہ ہونے سے بھی پرہیز نہیں کیونکہ وہ ٹیگور کو عام انسان تصور کرتے ہیں۔

فلم کا منظر

،تصویر کا ذریعہSuraj Kumar

،تصویر کا کیپشنفلم کا ایک حصہ بلیک اینڈ وائٹ میں شوٹ کیا گیا ہے تو دوسرا حصہ رنگین ہے

یہ فلم در اصل ٹیگور کے ڈیڑھ سو سالہ جشن کے لیے تیار ہونی تھی لیکن فنڈ اور تحقیق کی کمی کے سبب اس میں تاخیر ہوئی اور اب یہ پوسٹ پروڈکشن کے مرحلے میں ہے۔

سورج کمار نے بتایا کہ انھیں جیسے ہی اس فلم کی پیشکش ہوئی انھوں نے پروفیسر گانگولی سے اس کے سکرپٹ پر نظر ثانی کے لیے کہا اور اس فلم پر اپنا سب کچھ لگا دیا ہے۔ انھوں نے اس سے قبل دور درشن پر کئی مقبول پروگرام پیش کیے جن میں 'اک پیار کا نغمہ' اور 'فائنل کٹ' وغیرہ شامل ہیں۔

فلم کی شوٹنگ انڈیا اور ارجنٹائن میں ہوئی ہے۔ فلم 'تھنکنگ آف ہِم' یا 'ان کا خیال آیا' کے ہدایت ارجنٹائن کے معروف ہدایت کار پابلو سیزر نے دی ہے۔ انھوں نے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے 'ارجنٹائن میں ہندوستانی سفیر کے مشورے پر فلم پر سنہ 2008 میں کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن یہ ٹیگور کے ڈیڑھ سو سالہ جشن کے موقعے کی مناسبت سے تیار نہیں ہو سکی۔'

سورج کمار نے بتایا کہ ٹیگور اور ارجنٹائن کی ادیبہ وکٹوریہ اوکیمپو کی ملاقات دو ڈھائی ماہ کے لیے نومبر دسمبر سنہ 1924 اور جنوری سنہ 1925 میں رہی تھی اور اس وقت ٹیگور کی عمر 63 سال تھی جبکہ وکٹوریہ کی عمر 34 سال تھی لیکن وکٹوریہ ٹیگور کی تصنیف 'گیتانجلی' سے متعارف تھیں اور انھوں نے فرانسیسی زبان میں اس کا ترجمہ پڑھ رکھا تھا۔

سورج کمار

،تصویر کا ذریعہSuraj Kumar

،تصویر کا کیپشنسورج کمار فلم کے پروڈیوسر ہونے کے ساتھ اس فلم کے تخلیقی دائرکٹر بھی ہیں

سورج کمار کے مطابق ٹیگور کی نظموں میں 'وجیہ' یا 'بیجیا' نام کی خاتون در اصل وکٹوریہ ہیں اور ان کی دو درجن سے زیادہ نظمیں وکٹوریہ اور ان کے آپسی تعلقات پر مبنی ہیں۔

پروفیسر گانگولی کہتے ہیں کہ ٹیگور اور وکٹوریہ او کیمپو کی ملاقات محض ایک اتفاق ہے۔ 'در اصل ٹیگور یورپ اور لاطینی امریکی ملک پیرو کے سفر پر تھے کہ وہ بیمار پڑ گئے اور انھیں بیونس آئرس میں اپنا سفر روکنا پڑا۔'

صحت یابی کے لیے انھوں نے دو ماہ کا عرصہ بیونس آئرس کے دیہی علاقے سین اسیدرو میں پلیٹ نامی ندی کے کنارے ایک باغات والے بنگلے میں گزارا اور وہیں 'اوکیمپو نے ایک پرستار کی طرح ان کی خدمت کی۔'

اس دوران انھوں نے تقریباً 30 نظمیں لکھیں جن میں سے ایک' اتیتھی' یعنی مہمان بھی ہے جس میں انھوں نے ابتدا میں ہی کہا ہے کہ 'میرے عارضی قیام کو تم نے اپنی مہربانیوں کے امرت سے شرابور کر دیا۔‘

فلم کا منظر

،تصویر کا ذریعہSuraj Kumar

،تصویر کا کیپشنپروفیسر ایس پی گانگولی نے کا کہنا ہے کہ ربندرناتھ ٹیگور اپنے زمانے میں کئی خواتین سے رابطے میں آئے لیکن جو جذبہ وکٹوریہ کے لیے ظاہر کیا وہ کہیں اور نظر نہیں آتا

سورج کمار نے بتایا کہ اسی دوران وکٹوریہ نے ٹیگور کے سکیچز کو دیکھ کر انھیں پینٹنگ کی جانب متوجہ کیا اور ٹیگور کی پینٹنگ کی تحریک دراصل وکٹوریہ اوکمیپو ہی ہیں۔

اس کے بعد دونوں کی دوسری اور آخری بار 'محبتوں کے شہر' پیرس میں ملاقات ہوئی جہاں وکٹوریہ اوکیمپو نے ٹیگور کی پینٹنگز کی نمائش کا اہتمام کیا تھا اور وہ ان کی پینٹنگز کی پہلی نمائش بھی تھی۔

اس کے بعد ٹیگور کی سنہ 1941 میں موت تک دونوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ پروفیسر گانگولی نے کہا کہ دونوں کے خطوط اب شائع ہو چکے ہیں جن میں مزید قربت کی خلش نظر آتی ہے۔

رائما سین

،تصویر کا ذریعہSuraj Kumar

،تصویر کا کیپشناداکارہ رائما سین نے ٹیگور کے قائم کردہ ادارے شانتی نکیتن کی موجودہ دور کی ایک طالبہ کا کرادار ادا کیا ہے

سورج کمار نے بتایا کہ اوکیمپو کی ازدواجی زندگی میں تلخی در آئی تھی اور ایسے میں انھیں 'گیتانجلی' کے مطالعے نے سہارا دیا تھا اور وہ ٹیگور سے بنفس نفیس ملنے سے قبل ہی ان سے متاثر تھیں۔

فلم کے ڈائرکٹر سیسر نے اول اول خیال ظاہر کیا تھا کہ ٹیگور کا کرادار امیتابھ بچن ادا کریں گے لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور ان کا کردار معروف اداکار وکٹر بینرجی نے ادا کیا ہے جبکہ اوکیمپو کا کرادار ارجنٹائن کی اداکارہ ایلینیورا ویکسلر نے ادا کیا ہے۔

یہ فلم دو مساوی سطحوں پر چلتی ہے ایک کا تعلق موجودہ دور میں انڈیا کے معروف تعلیمی ادارے شانتی نکیتن سے ہے جس میں استاد فیلکس اپنی طالبہ کملی سے ملتے اور جدا ہوتے ہیں۔ یہ حصہ آج کے رنگین فلم پر شوٹ کیا گیا ہے جبکہ اس کے متوازی ٹیگور اور وکٹوریا اوکیمپو کی کہانی پرانے بلیک اینڈ وائٹ ریل پر شوٹ کی گئي ہے۔

فیلکس کا کردار ارجنٹائن کے سٹیج اور فلم اداکار ہیکٹر بردونی نے ادا کیا ہے جبکہ کملی کا کردار معروف اداکارہ ریما سین نے ادا کیا ہے۔