پردے پر مدھوبالا کا نصف حسن ہی دکھائی دیتا تھا

،تصویر کا ذریعہMADHUR BHUSHAN
کچھ چہرے آنکھوں میں بس جاتے ہیں اور انھیں میں سے ایک چہرہ ہے مدھوبالا کا بھی ہے جو آج بھی ان کے چاہنے والوں کی آنکھوں میں رہتا ہے۔
زندگی کے محض 36 سال لیکن ایک طویل داستان پر مشتمل جس کو سننے سے کبھی بوریت نہیں ہوتی۔
مدھوبالا کا اصلی نام ممتاز تھا، اور وہ 14 فروری کو دہلی میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ سلور سکرین کی 'وینس' کے نام سے بھی معروف ہیں۔
مدھوبالا کے متعلق آج بھی بہت کچھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے اور اس سے کہیں زیادہ انھیں دیکھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMADHUR BHUSHAN
فلم فیئر میگزین کے سابق مدیر بی کے كرنجيا کے ایک مضمون میں اس بات کا ذکر ہے کہ ’مدھوبالا نے اپنے کانٹریکٹ میں یہ بھی لکھنا شروع کر دیا تھا کہ ان کے ساتھ فلم میں ہیرو کا کردار کون کرے گا اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار انھیں خود ہو گا۔'
آج بہت سے فلم سٹارز اپنے ساتھ باڈی گارڈ رکھتے ہیں۔ بالی وڈ میں اس کا آغاز مدھوبالا نے ہی کیا تھا۔
مدھوبالا سے منسوب تقریباً سبھی کہانیاں حقیقت لگتی ہیں۔ بی کے کرنجيا کے مطابق: 'جب وہ پہلی بار مدھوبالا سے ملے تو انھیں محسوس ہوا کہ فلمی پردہ مدھوبالا کی نصف خوبصورتی ہی پیش کر پاتا ہے۔ حقیقت میں وہ کہیں زیادہ خوبصورت تھیں۔'

،تصویر کا ذریعہMADHUR BHUSHAN
بالی وڈ کی بعض اداکارائیں اب ہالی وڈ میں بھی کام کر کے پیسہ کمار رہی ہیں لیکن برسوں پہلے ہالی وڈ کے معروف صنعت کار فرینک كوپر نے مدھوبالا کو فلموں کی پیشکش کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستانی سینیما کی تاریخ میں 'مدھوبالا' محض ایک نام نہیں ہے۔ انھیں ان کی بے داغ خوبصورتی کے لیے 'وینس آف انڈین سینیما' بھی کہا جاتا ہے۔
ان کی پہلی فلم 'بسنت' (1942) تھی۔ اس دور کی مشہور اداکارہ دیویکا رانی اس فلم میں ان کی اداکاری سے بہت متاثر ہوئی تھیں اور ان کا نام ممتاز سے بدل کر 'مدھوبالا' رکھ دیا تھا۔
حیدرآباد کی خدیجہ اکبر نے مدھوبالا پر 'آئی وانٹ ٹو لیو' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کے مطابق مدھوبالا شہرت کے باوجود ایک ایسی اداکارہ تھیں جو وقت کی انتہائی پابند تھیں اور ہمیشہ سٹوڈیو مقررہ وقت پر پہنچا کرتی تھیں۔







