ممبئی حملے اور پاک بھارت میڈیا جنگ

ممبئی
    • مصنف, محمد حنیف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

گزشتہ ہفتے جب انڈیا اور پاکستان کے ٹیلی ویژن چینل جنگی ترانے بجا رہے تھے تو میں نے بھی ایک بے وقت کی راگنی الاپنے کی کوشش کی۔ پہلے دہلی میں پھر کراچی میں

’عام طور پر ٹی وی کیمرہ دیکھتے ہی مجھ پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے تو پھر ایسا کیا ہوا کہ دو دنوں میں سرحد کے دونوں طرف کے کرنٹ افیئرز شوز میں پایا گیا؟

ٹیلی ویژن پر بمبئی حملوں کی لائیو کوریج دیکھتے ہوئے مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کہیں پہ کوئی ہولناک غلطی ہو رہی ہے۔ ابھی تاج ہوٹل کے گنبد میں لگی آگ نہیں بجھی تھی، ابھی ہوٹلوں کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ زندہ نکل پائیں گے یا نہیں لیکن ہندوستانی ٹی وی کے میزبان پاکستانی نقشے پر وہ شہر دکھا رہے تھے جہاں ہندوستان کو بمباری کرنی چاہیے۔ اور پاکستانی ٹی وی چینلوں والے نقشے بنا کر یہ بتا رہے تھے کہ پاکستان سے تو کبھی ایسا کام نہ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔

میں نے اپنی خودی کو بلند ہوتے پایا اور سوچنے لگا کہ شاید میں کوئی عقل کی بات کرسکتا ہوں۔

میں دہلی میں تھا ایک انگریزی ٹی وی چینل سے فون آیا کہ بمبئی حملوں کے تناظر میں انڈیا پاکستان تعلقات پر بات کرنی ہے تو میں امن و آشتی کی سوچیں سوچتا سٹوڈیو پہنچ گیا۔ پروڈیوسر نے مجھے پروگرام کا اصلی موضوع بتایا: کیا انڈیا کو پاکستان کے اندر ٹارگٹس پر حملہ کرنا چاہیے؟

ٹی وی
،تصویر کا کیپشنممبئی حملوں کے ساتھ ہی میڈیا میں بھی ایک جنگ شروع ہو گئی

پاکستانی ٹی وی چینلوں والے نقشے بنا کر یہ بتا رہے تھے کہ پاکستان سے تو کبھی ایسا کام نہ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے

حالانکہ میں نے صرف دھیمے لہجے میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ پاکستان میں کچھ علاقے ایسے ضرور ہیں جو قانون کی پہنچ سے باہر ہیں لیکن جس مظفر آباد اور مریدکے پر آپ بمباری کرنا چاہتے ہیں وہاں تو چند تھانیدار ہی کافی ہیں۔

ایک موقع پر میں نے جھّلا کر کہا کہ کسی زمانے میں پاکستانی ہندوستان کو دشمن سمجھتے ہونگے لیکن آج کل ہمارے اپنے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ کوئی ہندوستان کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں نے یہ بات چند مثالیں دے کر واضح کرنے کی کوشش کی لیکن تب تک میزبان مجھے کاٹ کر ایک ریٹائرڈ انڈین جنرل کے پاس جاچکی تھی جسکے پاس پاکستانی دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کاایک چار نکاتی پروگرام تیار تھا۔

واپسی پر میں نے انڈین ٹیکسی ڈرائیوں سے پوچھا کہ کیا ہندوستان کو پاکستان پر حملہ کرنا چاہیے۔ وہ سمجھا کہ میں شاید ایک بیہودہ مذاق کر رہا ہوں۔ کہنے لگا کہ ابھی تو یہ ہی نہیں پتہ کہ یہ سب کیا کس نے ہے۔ شاید آپ کے لوگوں نے کیا ہو، شاید ہمارے لوگوں نے کیا ہو۔ کون کہ سکتا ہے۔

اگلے دن میں کراچی میں تھا۔ ایک پاکستانی چینل سے بلاوا آیا۔ میں نے سوچا پھر کوشش کرنی چاہیے۔

ایک دوست سے پوچھا کیا کہوں۔ اس نے کہا وہ جو انڈیا میں کہا تھا۔ میں نے کہا وہ تو اس لیے کہا تھا کہ میں ہندوستان میں تھا۔ پاکستانی چینل کے میزبان نے مجھ سے دلی کے تجربات کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا لوگ بڑے پیار سے ملے۔ ہر چیز نارمل تھی سڑکوں پر ٹریفک جام تھی۔ بمبئی حملوں کے ردّعمل کے بارے میں پوچھا گیا میں نے عرض کیا کہ لوگوں میں کافی غم تھا لیکن میڈیا بہت غصے میں ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں تو ابھی تک ذمہ دارانہ بیان دے رہی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے ٹیلی ویژن چینل اور انکےمیزبان جنگ کرانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے زیادہ پسند نہیں کی گئی۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے عرض کیا کہ ہندوستان میں ایک ایسی مڈل کلاس ہے جو ایک نو دولتیا سپر پاور کی طرح ڈرون خریدنا چاہتی ہے پھر ان سے حملے کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ پسند کی گئی۔ اس کا اثر زائل کرنے کے لئے میں نے امن پسندوں کا پرانا حربہ استعمال کیا کہ کراچی اور دلی کی سڑکوں پر پانچ سال کی عمر کے بچے بھیک مانگتے ہیں انکا بھی سوچیں۔ اس وقت تک میرا ٹائم ختم ہو چکا تھا۔

بعد میں خیال آیا کہ شاید ٹی وی پر بولنے اور لکھنے میں شاید ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ کاغذ پر لکھتے ہوئے یا کمپیوٹر پر ٹائپ کرتے ہوئے دو جملوں کے بیچ میں رک کر ایک ٹھنڈی آہ بھر سکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں کہ اصل میں مجھے کچھ نہیں پتہ کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ کس نے کیا ہے۔ شاید یہ سلسلہ میری زندگی میں تو ختم ہونے والا نہیں۔

آپ ذرا ٹی وی کیمرہ کے سامنے ٹھنڈی آہ بھر کے دیکھیں۔ کیمرہ آپ سے فوراٰ کٹ کر ریٹائرڈ جنرل پر چلا جائے گا۔