پوتن کی جبری بھرتی سے بچنے کے لیے برف سے ڈھکے بیابان میں پناہ

،تصویر کا ذریعہADAM KALININ
- مصنف, بین ٹوبیاس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
گزشتہ سال ستمبر میں جب صدر ولادیمیر پوتن نے شہریوں کو جزوی طور پر متحرک (جبری بھرتی) کرنے کا اعلان کیا تو ایڈم کالینن (فرضی نام) نے ایک ہی ہفتے کے اندر فیصلہ کر لیا کہ ان کے لیے اس سے بچنے کا بہترین راستہ جنگل میں جا کر رہنا ہے۔
پیشے کے اعتبار سے وہ آئی ٹی سپیشلسٹ ہیں۔ ایڈم شروع سے ہی جنگ کے خلاف تھے۔ انھیں اپنے اپارٹمنٹ کی عمارت پر ’جنگ سے انکار‘ کا پوسٹر چسپاں کرنے پر جرمانہ اور دو ہفتے حراست میں گزارنے پڑے تھے۔
اس لیے جب روس نے ایک ہاری جانے والی جنگ کا پانسا پلٹنے کے لیے تین لاکھ روسیوں کو طلب کرنے کا اعلان کیا تو کالینن نے یوکرین کے شہریوں کو مارنے کی غرض سے فرنٹ لائن پر جانے کا خطرہ مول نہ لینے کا فیصلہ کیا۔
لیکن لاکھوں دوسرے لوگوں کے برعکس وہ ملک نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔
تین باتوں نے انھیں روس چھوڑنے سے باز رکھا: دوست، مالی تنگی اور وہ سب کچھ کھو دینے کا خوف جس سے وہ آشنا تھے۔
تیس سالہ کالینن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے لیے اپنے آرام دہ ماحول سے باہر نکلنا ایک مشکل کام ہے۔ یہ بھی آرام دہ نہیں ہے لیکن پھر بھی، نفسیاتی طور پر، اسے چھوڑنا واقعی مشکل ہوگا.‘
اس لیے انھوں نے اپنی بیوی کو الوداع کہہ کر جنگل کی طرف جانے کا غیر معمولی قدم اٹھایا، جہاں وہ تقریباً چار مہینے سے ایک خیمے میں رہ رہے ہیں۔
وہ انٹرنیٹ تک رسائی کے لئے درخت سے بندھا اینٹینا اور توانائی کے لئے شمسی پینل استعمال کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہاں انھیں منفی 11 سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برداشت کرنا پڑا ہے۔ ان کی بیوی باقاعدگی سے انھیں کھانا پہنچاتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ نظروں میں آنے سے بچنے کا بہترین طریقہ فون کال سے گریز کرنا۔ اگر حکام انھیں ذاتی طور پر سمن نہیں دے سکتے تو انہیں جنگ میں جانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
’اگر وہ جسمانی طور پر مجھے ہاتھ سے پکڑ کر بھرتی کے دفتر تک لے جانے سے قاصر ہیں، تو یہ متحرک ہونے یا دیگر ہراساں کیے جانے کے خلاف 99 فیصد دفاع ہے۔‘
کالینن اپنے معمولات برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ روزانہ آٹھ گھنٹے تک اپنا کام کرتے ہیں۔ البتہ سردیوں میں دن چھوٹا ہونے کی وجہ سے انھیں چھٹی والے دن بھی کام کرنا پڑتا ہے۔
ان کے کچھ ساتھی جبری بھرتی کے ڈر سے قازقستان چلے گئے ہیں۔ لیکن چیڑ کے درخت پر لگے اونچے اینٹینے کے ذریعے ان کا انٹرنیٹ کنکشن اتنا طاقتور ضرور ہے کہ رابطے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔
وہ گھر سے باہر وقت گزارنا پسند کرتے ہیں ماضی میں کئی بار اپنی بیوی کے ساتھ جنوبی روس میں کیمپ لگا کر چھٹیاں گزار چکے ہیں۔ اسی لیے جب انھوں نے مستقل طور پر بیابان میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس پہلے سے ہی بہت سا ساز و سامان موجود تھا۔

،تصویر کا ذریعہADAM KALININ
جنگل میں ان کی بقا کا زیادہ انحصار ان کی بیوی پر ہے۔ وہ ہر تین ہفتے میں ایک بار ایک مخصوص جگہ پر سامان لاتی ہے اور اس طرح ان کی ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔ کھانا گرم کرنے کے لیے وہ ایک عارضی چولہے میں لکڑی جلاتے ہیں۔
کالینن کا نیا گھر ایک بڑا سا خیمہ ہے۔ شروع میں انھوں نے دو خیمے لگائے تھے جن میں سے ایک انٹرنیٹ کے لیے تھا۔
مگر جیسے جیسے موسم سرما قریب آیا اور ٹھنڈ بڑھی تو انھوں نے سب کچھ ایک ہر جگہ پر جمع کر لیا۔
حال ہی میں درجہ حرارت منفی 11 سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا، جو ان کی توقع سے زیادہ تھا۔ لیکن اب دن پھر سے لمبے ہو رہے ہیں اور برف پگھلنے لگی ہے۔
اگرچہ کالینن کا بلاوا ابھی تک نہیں آیا ہے، مگر ان کے بقول جس طرح سے صورتحال بدل رہی ہے ہو سکتا ہے ہے کہ ان کے گھر پر بھی سمن بھیج دیا جائے۔ سرکاری طور پر اگرچہ کالینن جیسے آئی ٹی ماہروں کو استثنیٰ حاصل ہے، لیکن روس میں اسی طرح کی چھوٹ کو نظر انداز کرنے کی کئی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہADAM KALININ
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 21 ستمبر کو خارکیف کے علاقے میں یوکرین کے زبردست جوابی حملے کے بعد روسی شہریوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ملک کی سرحدوں پر افراتفری مچ گئی تھی کیوںکہ بہت سے لوگوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس کا روس پر گہرا اثر پڑا۔ اس وقت تک بہت سے روسی اپنی زندگی اسی طرح گزار رہے تھے جیسی جنگ سے پہلے تھی۔ اگرچہ بعض مغربی مصنوعات بازاروں سے غائب ہو گئی تھیں اور بیرونی پابندیوں کی وجہ سے کچھ معاشی مشکلات پیدا ہونے لگی تھیں، مگر اس کا معاشرے پر براہ راست اثر سامنے نہیں آیا تھا۔
موبلائز یا متحرک کرنے کے اعلان نے جنگ کو بہت سے روسی خاندانوں کی دہلیز پر پہنچا دیا تھا۔ بہت سے لوگوں کو کم تربیت اور ناقص ساز و سامان دے کر اگلے محاذوں پر بھیج دیا گیا تھا۔
روس کے اندر عوامی سطح پر مظاہرے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں جس پر یوکرین اور مغرب میں تنقید کی جاتی رہی ہے۔ لیکن کالینن کا کہنا ہے کہ لوگ واقعی اپنے انجام سے ڈرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری ریاست مطلق العنان ہے جو بہت طاقتور ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ناقابل یقین رفتار سے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں۔ اگر اب کوئی شخص جنگ کے خلاف بولے گا تو ریاست اسے نہیں چھوڑے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہADAM KALININ
جنگل میں کالینن کی زندگی نے انھیں آن لائن مقبولیت کی ایک خاص سطح پر پہنچا دیا ہے۔ 17 ہزار افراد ان کی تقریباً روزانہ اپڈیٹس کو ٹیلی گرام پر فالو کرتے ہیں۔ وہ اپنے ارد گرد، اپنے روزمرہ کے معمولات اور اپنے کیمپ کے انتظام کے بارے میں ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرتے ہیں۔
کالینن کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی پچھلی زندگی کو زیادہ مِس نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ میں مگن رہنے والے انسان ہیں اس لیے تنہائی انھیں زیادہ نہیں ستاتی۔ البتہ بیوی انھیں بہت یاد آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی موجودہ صورتحال اب بھی فرنٹ لائن یا جیل جانے سے بہتر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس قدر بدل چکا ہوں کہ بہت کچھ اب پس منظر میں چلا گیا ہے۔ چیزیں پہلے اہم لگتی تھیں، اب ان کا اثر کم ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہم سے بھی بدتر حالت میں ہیں۔‘










