اپنے ریپ کے خلاف 32 سال تک قانونی جنگ لڑنے والی خاتون: ’یہ سوال ہمیشہ میرے ذہن میں رہتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا‘

،تصویر کا ذریعہ PUNEET BARNALA/BBC
- مصنف, موہر سنگھ مینا
- عہدہ, راجستھان، انڈیا
’میں اس وقت 18 سال کی تھی اور گانوں کی کیسٹ خریدنے بازار گئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت دوپہر کے 12 بجے تھے۔ وہ میرا پڑوسی تھا اور مجھے جانتا تھا۔ اس نے میرے ہاتھ سے دونوں کیسٹس چھین لیں اور بھاگنے لگا۔ دوڑتے ہوئے ہم کھنڈرات تک پہنچ گئے۔
وہاں سات، آٹھ لوگ پہلے سے موجود تھے۔ انھوں نے میرا منھ اور میرے دونوں ہاتھ باندھ دیے۔
اُن سب نے میرا ریپ کیا اور برہنہ تصویریں کھینچیں۔ مجھے ریپ کرنے کے بعد انھوں نے مجھے 200 روپے دیے اور کہا کہ لپ سٹک اور پاؤڈر خرید لینا۔ میں نے وہ رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔
ان کھنڈرات میں داخلے کے دو راستے تھے، انھوں نے مجھے دوسرے راستے سے باہر جانے دیا۔ اُس وقت شام کے چار بج رہے تھے۔‘
یہ واقعہ سُناتے ہوئے سنجنا (فرضی نام) کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ سنجنا کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
سنجنا ان 16 خواتین میں سے ایک ہیں جنھیں سنہ 1992 میں راجستھان کے شہر اجمیر میں ریپ کیا گیا تھا۔
ریپ کرنے والے ان لڑکیوں کو کئی دنوں تک بلیک میل کرتے رہے اور پھر شہر میں لڑکیوں کی عریاں تصویریں تقسیم ہونے لگیں۔
ان تصاویر کے پرنٹس ایک فوٹو لیب سے نکالے گئے تھے جہاں سے یہ تصویریں لِیک ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہ PUNEET BARNALA/BBC
معاملہ کیسے سامنے آیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنہ 1992 میں اپریل اور مئی کے مہینوں میں روزنامہ ’نوجیوتی‘ نامی اخبار نے اس معاملے کو بےنقاب کیا اور خبریں شائع کرنا شروع کر دیں۔
اسی اخبار میں کام کرنے والے صحافی سنتوش گپتا نے بی بی سی کو بتایا ’بلیک میلنگ کا یہ کھیل خبر سامنے آنے سے کئی ماہ پہلے سے جاری تھا جس کی اطلاع ضلعی پولیس سے لے کر محکمہ انٹیلی جنس اور ریاستی حکومت کو بھی تھی لیکن سب خاموش تھے۔‘
ریاست میں اس وقت بھیرو سنگھ شیخاوت کی حکومت تھی اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کرائم برانچ کو سونپ دی تھی۔
حال ہی میں، اجمیر کی خصوصی ’پوکسو‘ عدالت نے اس معاملے میں نفیس چشتی، نسیم عرف ٹارزن، سلیم چشتی، اقبال بھٹی، سہیل غنی اور سید ضمیر حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
اس معاملے کے 18 ملزمان میں سے کچھ مفرور ہیں۔ ایک نے خودکشی کی، ایک کے خلاف ریپ کا مقدمہ ہے، کچھ جیل میں ہیں جبکہ باقی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔
سنجنا کو کھنڈرات میں لے جانے والے ان کے پڑوسی کا نام کیلاش سونی تھا اور اس معاملے میں عدالت نے انھیں بھی عمر قید کی سزا بھی سنائی تھی۔
اس معاملے میں سرکاری وکیل وریندر سنگھ راٹھور کا کہنا ہے کہ ’کیلاش سونی کو ذیلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی اور وہ تقریباً آٹھ سال تک جیل میں رہے لیکن ہائی کورٹ نے کیلاش سونی کو بری کر دیا۔‘
سنجنا کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور وہ لوگ بہت بااثر تھے۔ یہ ایک طویل جنگ تھی، انصاف ملا لیکن تاخیر سے۔
یہ کہہ کر سنجنا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ اس سارے عرصے میں سنجنا کے والدین، بھائی اور بہنوئی بھی وفات پا چکے ہیں۔
سنجنا نے ابتدا میں اس واقعے کے بارے میں اپنے گھر والوں کو نہیں بتایا تھا۔
وہ سہمی ہوئی آواز میں بتاتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے بہت ڈرایا، دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر میں نے اپنے بھائیوں کو بتایا تو وہ خنجر سے انھیں مار دیں گے۔‘
لیکن یہ خبر ان کے اہلخانہ تک پہنچ ہی گئی۔
سنجنا بتاتی ہیں، ’میں دھمکیوں سے ڈر گئی تھی۔ کبھی کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا لیکن، واقعے کے تقریباً تین سال بعد پولیس اس بارے میں تحقیقات کے لیے گھر آن پہنچی۔اس وقت گھر والوں کو پہلی بار اس کا علم ہوا۔‘
اپنا اور اپنے گھر والوں کا درد بیان کرتے ہوئے سنجنا کا چہرہ بالکل زرد پڑ گیا تھا۔
سنجنا کے مطابق سب جاننے کے باوجود ان کے اہلخانہ خاموش رہے کیونکہ ’ہم بااثر لوگوں کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں رکھتے تھے اور انصاف کی کوئی امید بھی نہیں تھی۔‘
لیکن پھر رضاکار تنظیموں اور کچھ پولیس والوں نے انھیں سمجھایا کہ اس معاملے میں ملزمان کو سزا دلانے کے لیے انھیں گواہی دینی چاہیے۔
سرکاری وکیل وریندر سنگھ راٹھور کا کہنا ہے کہ '32 سال تک چلنے والے اس مقدمےمیں سنجنا نے انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اس مقدمے میں تین زندہ بچ جانے والے تین گواہان میں سے ایک تھیں۔‘
شوہر نے طلاق دے دی

،تصویر کا ذریعہ PUNEET BARNALA/BBC
اس سب کے دوران سنجنا کی زندگی چلتی رہی اور ریپ کے واقعے کے تقریباً چار سال بعد اُن کی شادی ہو گئی۔
سنجنا اس رشتے کو پورے اعتماد اور سچائی کے ساتھ شروع کرنا اور اپنے شوہر سے اس واقعے کو چھپانا نہیں چاہتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں ’میری شادی قریبی شہر میں ہوئی۔ ابھی چار دن ہی گزرے تھے اور میرے ہاتھوں کی مہندی کا رنگ بھی پھیکا نہیں پڑا تھا۔ اس نے سب کچھ سُن کر پہلے تو کچھ نہیں کہا، لیکن اگلی صبح اس نے مجھ سے کہا کہ چلو میں تمہیں تمہارے والدین کے گھر لے چلتا ہوں۔ وہ دھوکے سے مجھے یہاں لایا اور پھر طلاق دے دی۔ ایسا لگا جیسے میری بسی بسائی دنیا ایک بار پھر اجڑ گئی ہو۔‘
سنجنا نے وقت کے ساتھ ہمت جمع کی اور اس دوران چار سال گزر گئے۔ اسی دوران مقدمے کی عدالتی کارروائی بھی ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو گئی۔
جس کمرے میں ہم سنجنا سے بات کر رہے تھے اس کی دیوار پر بہت سی تصویریں لٹکی ہوئی تھیں۔
ایک تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنجنا نے بتایا کہ ’جب میں 28 سال کی ہوئی تو گھر والوں نے میری اس شخص سے دوسری شادی کر دی، میں ان کی تیسری بیوی تھی۔‘
’کچھ عرصے بعد میرے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ ایسا لگتا تھا جیسے زندگی ایک بار پھر شروع ہو گئی ہو۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے دوسرے شوہر کو باہر سے علم ہوا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ پھر اس نے بھی مجھے طلاق دے دی اور میرا دس ماہ کا شیرخوار بچہ بھی مجھ سے چھین لیا۔‘
کمرے میں رکھی اپنے بچے کی تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’وہ اب 22 سال کا ہے۔ انڈیا سے باہر کسی ملک میں رہتا ہے۔ وہ صرف نام کا میرا بیٹا ہے۔‘
’مفت راشن کے ساتھ دن گزار رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہ PUNEET BARNALA/BBC
سنجنا آج کل کرائے پر ایک کمرے میں رہتی ہیں اور محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اپنے دن پنشن اور مفت راشن کے بل بوتے پر گزار رہے ہیں۔‘
ان کے پاس روزگار نہیں ہے۔ وہ زیادہ باہر نہیں جاتیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ بیمار بھی رہنے لگی ہیں۔
اس واقعے کی کیا یاد آپ کے ذہن میں کیا باقی ہے؟ یہ سوال ان کے لیے 32 سال کی کہانی سنانے جیسا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت چھوٹی تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔ اس وقت میں سمجھ نہیں پائی کہ کیا ہوا ہے۔ یہ سوال ہمیشہ میرے ذہن میں رہتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔‘
وہ بہت دکھی انداز میں کہتی ہیں کہ ’32 برس میں کسی نے میری مدد نہیں کی۔ جب مجھے گواہی کے لیے عدالت میں جانا ہوتا تھا تو میرے چچا مجھے لے جاتے تھے، وہی مجھے پہلی پیشی پر عدالت لے گئے۔ لیکن پھر وہ بھی مر گئے۔‘
’2015 میں مجھے بیان دینے کے لیے عدالت میں بلایا گیا۔ میں نے سمن لانے والے پولیس والے سے کہا میں کس کے ساتھ آؤں، لانے والا ہی کوئی نہیں ہے۔ پھر وہ پولیس والا ہی مجھے بیان دلوانے کے لیے عدالت لے گیا۔‘
اچانک وہ پھر سے جذباتی ہو گئیں اور کہنے لگیں، ’میں نے ان برسوں میں بہت دُکھ دیکھے ہیں، میں نے اپنے پیاروں کو جدا ہوتے اور مرتے دیکھا ہے۔ اب باقی زندگی بھی ایسے ہی گزرے گی۔ ہم کر ہی کیا سکتے ہیں، بھائی ہماری قسمت میں جانے کیا لکھا ہے۔‘
اتنی لمبی جنگ لڑنے کی ہمت کہاں سے آئی؟ اس سوال پر سنجنا کہتی ہیں، ’یہ لڑائی میڈیا نے لڑی ہے۔ جب میں عدالت میں جاتی تو مجھے ان سے حوصلہ ملتا تھا کیونکہ وہاں مجھ سے بہت سے سوالات کیے جاتے اور میں ان کے جوابات دیتی تھی۔‘









