سکالرشپ کا جھانسہ دے کر نوجوان لڑکیوں کا ریپ: ’مصنوعی ذہانت کے ذریعے خاتون کی آواز میں کال کی گئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نیتو سنگھ
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے، مدھیہ پردیش
’میں ایک غریب لڑکی ہوں۔ یہ سکالر شپ ہماری مزید تعلیم کے لیے بہت اہم تھی۔ جب ارچنا میڈم نے سکالر شپ کے نام پر بلایا تو ہم نے زیادہ نہیں سوچا اور چلے گئے۔‘
یہ الفاظ ان قبائلی لڑکیوں میں سے ایک کے ہیں جنھیں انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر سدھی سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع گاؤں میں ایک منظم منصوبے کے تحت جھانسہ دے کر ریپ کیا گیا۔
ریپ کی نصف درجن کے قریب شکایات سامنے آنے کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر غریب گھرانوں کی قبائلی لڑکیوں کو سرکاری وظیفہ دلانے کے نام پر ایک ویران جگہ پر بلا کر ریپ کرنے کے الزامات ہیں۔
ان واقعات میں ایک چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ملزمان نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی یا اے آئی) کا سہارا لے کر نوعمر لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسایا۔
ضلعی پولیس کے مطابق 30 سالہ مرکزی ملزم برجیش پرجاپتی نے میجک وائس ایپ کی مدد سے عورت کی آواز میں ان معاشی طور پر کمزور لڑکیوں سے بات کی اور انھیں سکالر شپ دینے کا وعدہ کر کے اپنے پاس بلایا۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق ملزم نے اپریل اور مئی میں پانچ قبائلی لڑکیوں کو ریپ کیا اور اس کا آخری ہدف وہ 21 سالہ قبائلی لڑکی ثابت ہوئی جسے 13 اور 14 مئی کی درمیانی شب ریپ کیا گیا جس کے بعد مذکورہ لڑکی نے 16 مئی کو ایف آئی آر درج کروائی۔
حکام کے مطابق اگر یہ لڑکی ایف آئی آر درج نہ کراتی تو یقیناً ملزمان کا شکار ہونے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی تھی کیونکہ اس سے قبل کسی نے اس سلسلے میں پولیس سے رجوع نہیں کیا تھا۔
مذکورہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس کی حرکتوں سے یہ تاثر ملا کہ وہ پہلے بھی کئی لڑکیوں کے ساتھ غلط کام کر چکا ہے۔ اگر میں آواز نہ اٹھاؤں تو آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں نے ہمت کی اور یہ بات اپنے چچا کو بتائی جو پولیس میں ہیں۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ غریب لڑکیاں سکالر شپ کے لالچ کا شکار ہوں۔‘
ملزم نے اس لڑکی کو سکالر شپ کے حوالے سے غلط معلومات بھی دیں۔ قبائلی لڑکی کے مطابق ’اس نے مجھے بتایا کہ اس سکیم کے تحت مجھے گریجویشن کے تین سال کے لیے ہر سال 20 ہزار روپے ملیں گے۔ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، اس لیے میں وہاں گئی۔‘
مذکورہ لڑکی اپنے خاندان کی پہلی قبائلی لڑکی ہے جسے اس کے والدین نے گریجویشن کے لیے سدھی بھیجا تھا جہاں وہ اپنے چچا کے گھر مقیم تھی۔ اس کے والدین کسان جبکہ اس کے بھائی دوسرے شہروں میں بجی کارخانوں میں کام کرتے ہیں، جن کی آمدنی بہت کم ہے۔
ریپ کا شکار ہونے والے پانچ میں سے صرف تین کے خاندان ہی ملاقات پر راضی ہوئے۔ ان خاندانوں سے بات کرنا بھی بہت مشکل اور چیلنجنگ تھا۔ یہ بیگا اور گونڈ برادریوں کے قبائلی ہیں جن کا باہر کے لوگوں سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔ ان خاندانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ میڈیا کے سامنے بات کریں گے تو پولیس انھیں گرفتار کر لے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ملزم خاتون کی آواز میں لڑکیوں کو ورغلاتا تھا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
واقعے کے دن شام چار بجے کے قریب اس قبائلی لڑکی کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف آواز کسی عورت کی تھی۔
لڑکی کا نام لیتے ہوئے اس خاتون نے کہا کہ ’میں آپ کے کالج سے بات کر رہی ہوں، ارچنا میڈم۔ آپ کی وظیفے کی رقم رکی ہوئی ہے۔ ایک دستخط کریں اور رقم آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے گی۔‘
لڑکی کے مطابق اس نے جواب دیا کہ ابھی شام کا وقت ہو رہا ہے اس لیے وہ اس وقت نہیں آ سکے گی جس پر ’ارچنا میڈم نے فون پر کہا، بیٹا آج آخری تاریخ ہے۔ اگر آپ آج دستخط نہیں کرتیں، تو آپ کو ’گاؤں کی بیٹی یوجنا‘ سکالر شپ نہیں ملے گی۔‘
اس بات چیت کے بعد مذکورہ لڑکی وظیفے کے لالچ میں 13 مئی 2024 کی شام بس کے ذریعے سدھی سے تقریباً 35 کلومیٹر دور ٹکری میں ’ارچنا میڈم‘ کے بتائے گئے مقام پر پہنچ گئی۔
ٹکری پہنچنے کے بعد لڑکی نے ’ارچنا میڈم‘ سے ایک بار پھر رابطہ کیا تو انھوں نے مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو بھیج رہی ہیں اور لڑکی اس کے ساتھ چلی جائے۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد ٹکری چوراہے پر ایک لڑکا موٹر سائیکل پر آیا۔ وہ پیلے رنگ کی ٹی شرٹ میں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر سیاہ رنگ کے دستانے پہن رکھے تھے۔ اس نے خود کو ارچنا میڈم کا بیٹا بتایا۔
لڑکی موٹر سائیکل پر بیٹھی تو لڑکا اسے جنگل کی طرف لے جانے لگا۔ پوچھنے پر اس نے جواب دیا کہ ’والدہ گھر پر ہیں، میں آپ کو وہاں لے جا رہا ہوں۔‘
مذکورہ لڑکی کے مطابق وہ لڑکا اسے ایک سنسان جگہ لے گیا جس کے چاروں طرف جنگل تھا اور مٹی کی ایک جھونپڑی بنائی گئی تھی۔ لڑکی نے جب پوچھا کہ ’ارچنا میڈم کہاں ہیں تو اس نے کہا کہ زیادہ سوال مت پوچھو ورنہ میں تمہیں مار دوں گا۔‘
لڑکی کا کہنا ہے کہ پھر اسی جھونپڑی میں اسے ریپ کیا گیا۔

’رات کو گھنے جنگل میں چھوڑ دیا گیا‘
پولیس کا کہنا ہے کہ برجیش پرجاپتی اسی خستہ حال جھونپڑی میں لڑکیوں کو جھانسہ دے کر لاتا تھا اور انھیں ریپ کرنے کے بعد جنگل میں چھوڑ دیتا تھا۔ ایسا ہی کچھ اس لڑکی کے ساتھ بھی ہوا اور درمیانی شب کے وقت ملزم اسے جائے واردات سے قریباً دس کلومیٹر دور جنگل میں چھوڑ کر چلا گیا۔
لڑکی نے بتایا، ’قریب ہی ایک جنگل تھا۔ میں ڈر گئی کہ اتنی رات کو کہاں جاؤں؟ اس نے میرا فون پہلے ہی لے کر بند کر دیا تھا۔‘
جب ملزم کافی دیر تک واپس نہ آیا تو قبائلی لڑکی مدد کے لیے انھی جنگلوں میں بھٹکنے لگی۔ رات گئے اس نے جنگل میں واقع کئی جھونپڑیوں کے باہر مدد کے لیے پکارا لیکن کوئی باہر نہ نکلا۔ اس کے بقول ایک 65 سالہ بوڑھی عورت نے اس کی مدد کی۔
اس بزرگ خاتون تک پہنچنے سے پہلے انھیں کچے راستوں پر سفر کرتے ہوئے ایک دریا بھی عبور کرنا پڑا۔
اس خاتون نے بتایا کہ ’رات کو جب میں نے لڑکی کی ایسی حالت دیکھی تو میں خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ مجھے ڈر بھی تھا کہ اگر ہم نے اسے پناہ دی تو کوئی ہم پر حملہ نہ کر دے لیکن میں نے محسوس کیا کہ اسے ابھی مدد کی ضرورت ہے۔ اس نے پانی مانگا اور پھر سارا واقعہ سنایا۔ وہ بہت تکلیف میں تھی۔‘
’وہ درد کی وجہ سے سو نہیں پا رہی تھی۔ رو رہی تھی۔ میں نے ایک دوائی ڈھونڈ کر اسے دی۔ کچھ دیر بعد اسے سکون ملا اور پھر وہ سو گئی۔ جیسے ہی صبح ہوئی، اس نے فون مانگا اور اپنے چچا کو فون کیا جو پولیس میں تھے۔‘
ریپ کے دوسرے خوفناک واقعات
بیگا برادری سے تعلق رکھنے والی ایک اور لڑکی بھی اس گروپ کا نشانہ بنی۔ وہ سدھی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ایک جھونپڑی جیسے خستہ حال مکان میں رہتی ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس دن بارش ہو رہی تھی اس لیے مختلف جگہوں پر برتن رکھے تھے جن میں چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔
اس لڑکی کی تعلیم کا سلسلہ 2018 میں آٹھویں جماعت کے بعد رک گیا تھا کیونکہ اس کے گھر کے آس پاس کوئی سکول نہیں تھا اور دور بھیجنے پر اسی چیز کا خوف تھا جس کا وہ اب شکار ہوئی۔
بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’مجھے 15 اپریل کو کسی آنٹی کا فون آیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی عمر 18 سال ہے تو آپ کو پیسے مل جائیں گے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا، میں نے سوچا کہ حکومت کوئی ایسی سکیم لے کر آئی ہے جس میں 18 سال کے ہونے پر رقم دی جائے گی۔ میں اس دن اپنی خالہ کے گھر تھی۔ ان کی خالہ کی بیٹی کو لے کر چوراہے پر چلی گئی جہاں بلایا گیا تھا‘۔
جب یہ دونوں لڑکیاں چوراہے پر پہنچیں تو ملزم انھیں موٹر سائیکل پر اسی ویران جھونپڑی میں لے گیا۔ ’جب ہم نے اس سے کہا کہ وہ کچھ غلط (ریپ) نہ کرے، تو اس نے ہمیں تین چار تھپڑ مارے۔ یہ دیکھ کر میری چھوٹی بہن مزید ڈر گئی۔ وہ خاموش بیٹھی رہی۔ اس نے تین چار گھنٹے تک ہم دونوں کے ساتھ غلط حرکتیں کیں اور پھر ہمیں کمرے سے باہر پھینک دیا۔‘
جب انھیں کمرے سے باہر نکالا گیا تو وہ نہیں جانتی تھیں کہ وقت کیا تھا۔ وہ دونوں وہاں سے بھاگ نکلیں اور رات بھر جنگل میں چلتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ہم تھوڑی دور پیدل چلتے اور پھر اگر کوئی گاڑی وہاں سے گزرتی تو درخت کے پیچھے چھپ جاتے۔ ہم نے پیدل چلنا شروع کیا اور صبح سات بجے گھر پہنچے۔‘
ان کے بقول ملزمان نے انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس لیے جب گھر میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔
مذکورہ لڑکی بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے اور اس واقعے کے بعد وہ اور اس کا خاندان لوگوں سے زیادہ بات نہیں کرتے۔
لڑکی کی ماں نے جھجکتے ہوئے کہا، ’ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ جنگل میں رہتے ہیں۔ مجھے ڈر لگتا ہے جب باہر سے لوگ آتے ہیں۔ اب ایک فکر اور ہے کہ لڑکی کی شادی کیسے ہوگی؟ سب کو پتہ چل گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’گاؤں میں ہر ایک کو پتا چلا ہے کہ پولیس ہر روز دروازے پر آتی ہے۔ اب لڑکیاں خوفزدہ ہیں۔ اب کوئی بھی اپنی بیٹی کو اکیلے بازار یا سکول نہیں بھیجتا۔ انھیں لگتا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط ہو سکتا ہے۔‘
ریپ کا شکار ہونے والی ایک اور 16 سالہ لڑکی کی ماں نے ہم سے بات کی اور کہا ’میری بیٹی چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے۔ ہم محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ اسے پیسوں کا لالچ دیا گیا ہو گا، اس لیے وہ چلی گئی۔‘
وہ بھی پریشان ہیں کہ اب ان کی بیٹی کی شادی کیسے ہو گی کیونکہ اس معاملے کے میڈیا میں آنے کے بعد سب کو اس بارے میں علم ہو گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد ریپ کا شکار لڑکیاں پریشان ہیں کہ کہیں ان کے گھر والے تعلیم کا سلسلہ ہی نہ روک دیں۔
اس واقعے کو تین ماہ گزر جانے کے باوجود اپنے خوف کا اظہار کرتے ہوئے ایک لڑکی نے کہا کہ وہ اس واقعے کے بعد سے کہیں آنے یا جانے کے قابل نہیں۔
’جب مجھے وہ دن یاد آتا ہے تو میں بہت ڈر جاتی ہوں اور رونے لگتی ہوں۔ قبائلی لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اب یہ اور مشکل ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے سکالر شپ کا حوالہ کیوں دیا گیا؟
ریپ کے ان واقعات میں ملزم نے پانچوں لڑکیوں کو سکالر شپ یا کسی اور سرکاری سکیم کے فوائد کا حوالہ دیا۔
21 سالہ قبائلی لڑکی کے معاملے میں ملزم کی طرف سے ’گاؤں کی بیٹی یوجنا‘ نامی سرکاری سکالر شپ سکیم کے نام کا سہارا لیا گیا۔
اس سکیم کے تحت مدھیہ پردیش میں انٹرمیڈیٹ کی وہ طالبات جن کی مالی حالت خراب ہے اور وہ مزید پڑھنا چاہتی ہیں، انھیں پانچ ہزار روپے کا وظیفہ دیا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم اچھی طرح جانتا تھا کہ ان لڑکیوں کی مالی حالت قابل رحم ہے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی لڑکیاں سرکاری سکیموں کے بارے میں بہت زیادہ آگاہ نہیں ہیں اس لیے وہ آسانی سے پیسوں کے لالچ کا شکار ہو سکتی تھیں جس کا ملزمان نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
اس واقعے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے، سدھی کے گورنمنٹ کالج کی استاد اجیتا دویدی نے کہا کہ ’یہ تمام لڑکیوں کے لیے ایک خوفناک واقعہ ہے۔ قبائلی لڑکیاں بہت سادہ اور شرمیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے قابل نہیں۔ ریپ جیسے واقعات میں لڑکیوں کو ملزم سے زیادہ گھر، خاندان اور معاشرہ نشانہ بناتا ہے۔ ایسے واقعات سے لڑکیوں کی پوری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔‘
کالج میں طالبات کو وظائف کے بارے میں کتنی معلومات دی جاتی ہیں، اس سوال پر اجیتا نے کہا، ’یہ کالج میں بتایا جاتا ہے۔ جب ملزم نے ٹیچر کا روپ دھار کر لڑکیوں سے بات کی تو لڑکیاں سمجھ نہ سکیں۔ یہ بہت غریب لڑکیاں ہیں۔ ان کے والدین جنگل کی لکڑی اور مزدوری پر زندہ رہتے ہیں۔ یہ وظیفہ ان کے لیے بہت اہم ہے، تب ہی وہ مزید تعلیم حاصل کر سکتی ہیں، اس لیے یہ لڑکیاں زیادہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکولوں اور کالجوں میں ہر جگہ موبائل فون میں جو بھی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے، اس کے بارے میں معلومات فراہم کی جانی چاہییں اور اس میجک وائس ایپ کو تو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔‘
’اگر طالبات کو سکالرشپ کے جھانسے کا علم ہوتا تو شاید وہ بچ جاتیں‘
سدھی پولیس کے مطابق ملزمان نے کالج جانے والی طالبات کو سکالر شپ کا جھانسہ دے کر جب کہ باقی کو سرکاری سکیموں کا لالچ دے کر اپنے جال میں پھنسایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم برجیش پرجاپتی ایک مزدور ہے۔ اس نے دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اس نے کئی ریاستوں میں فیکٹریوں میں کام کیا ہے۔
حکام کے مطابق برجیش پرجاپتی کے علاوہ دیگر تین ملزمان میں سے راہول اور سندیپ پرجاپتی حقیقی بھائی ہیں اور مرکزی ملزم کے رشتہ دار ہیں جبکہ چوتھے ملزم لیوکوش پرجاپتی نے ہی میجک ایپ ڈاؤن لوڈ کی تھی اور یہ لوکیش ہی تھا جس نے کالج کے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے لڑکیوں کے موبائل نمبر حاصل کیے تھے۔
سدھی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر رویندر ورما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’مرکزی ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ملزمان سے 18 موبائل فون برآمد ہوئے ہیں جن میں سے پانچ موبائل لڑکیوں کے ہیں جبکہ باقی فون چوری کیے گئے ہیں۔ وہ سورت میں جس فیکٹری میں کام کرتا تھا وہاں رات کی شفٹ میں ملازمین کے فون چوری کرتا تھا۔ اس کے خلاف چوری کی ایف آئی آر بھی درج ہے۔ ‘
پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ملزم کے پاس سے ملنے والے موبائل فون کے کال ڈیٹا کے مطابق اس نے اپریل کے مہینے سے یہ وارداتیں کی ہیں۔ ملزم کے موبائل فون کی تاریخ اور کال کی تفصیلات کے مطابق ایک پیٹرن سمجھا گیا کہ اس نے ایک دن میں کئی نامعلوم نمبروں پر کال کی لیکن صرف پانچ لڑکیاں اس کے چنگل میں پھنسیں۔ اگر مزید لڑکیاں سامنے آئیں تو ہم ضرور کارروائی کریں گے۔‘
ملزمان کے خلاف کارروائی کے بارے میں رویندر ورما نے کہا، ’ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ چالان جلد جاری کر دیا جائے گا۔ سارا معاملہ ہماری نگرانی میں چل رہا ہے۔ ملزمان کے خلاف دفعات کے مطابق عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔‘
اس خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایس ڈی پی او روشنی سنگھ ٹھاکر کر رہی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے روشنی سنگھ نے بتایا کہ ’اب تک کی تفتیش کے مطابق ملزم نے دو دن سے زیادہ کسی لڑکی کو فون نہیں کیا۔ ملزمان نے جن نمبروں پر کال کی ان میں سے 10 سے 15 لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ انھیں کال موصول ہوئی تھی لیکن ہم نے ان سے بات نہیں کی۔
’ملزم لڑکیوں کے فون لے کر ان کے نمبر نکال کر دوسری لڑکیوں کو کال کرتا تھا۔ اس کا کوئی سیٹ پیٹرن نہیں تھا۔ اس نے کسی کا موبائل استعمال کیا اور کسی کا نمبر۔ ملزم اکثر شام کو فون کرتا تھا تاکہ اندھیرا ہونے پر لڑکیوں کو موقع پر لے جاتے ہوئے کوئی نہ دیکھ سکے۔‘
پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رویندر ورما کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ ’نئی ٹیکنالوجی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جوں جوں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس کے مضر اثرات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ہم پہلے بھی سائبر کرائم کے بارے میں بیداری پیدا کرتے رہے ہیں۔اب بھی کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ریاستی سائبر سیل کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اس ایپ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بھی مرکزی حکومت کو ایک خط بھی بھیجا گیا ہے جس میں اس ایپ کو پلے سٹور سے ہٹانے کی درخواست کی گئی ہے۔‘
سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ایویڈنس کے ماہر ایڈوکیٹ اکشے واجپائی کا کہنا ہے کہ ’جلد بازی میں لوگ بغیر کسی تحقیق کے کسی بھی ذریعے پر بھروسہ کر لیتے ہیں جس کا فائدہ جرائم پیشہ افراد اٹھاتے ہیں۔ اگر ان طالبات کو فون کال سے سکالرشپ کے جھانسے کا علم ہوتا تو شاید وہ بچ جاتیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا، ’وائس میسجز میں آواز بدل کر پیسے کے لین دین کے حوالے سے بہت سے آن لائن فراڈ ہو رہے ہیں۔ اب ان واقعات میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بدلنا ہو گا۔ سکولوں اور کالجوں میں اس کے بارے میں زیادہ آگاہی ہو گی۔ مزید سیشنز کروائے جائیں، طلبہ کو اس طرح کے فراڈ سے بچایا جا سکتا ہے۔‘

ملزم کے اہل خانہ نے کیا کہا؟
مرکزی ملزم کا سسرال اس جگہ سے کچھ فاصلے پر ہے جہاں واردات کی گئی۔ ان کے سسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’اس کی (ملزم) طبیعت ٹھیک نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ میری بیٹی دو سال سے اپنے میکے میں رہ رہی ہے۔ اس کی ایک بیٹی بھی ہے۔ میری بیٹی کے پاس سسرال میں سونے کے لیے چارپائی تک نہیں ہے۔ جب اس نے میری بیٹی کو مارا تو وہ ہمارے گھر آگئی۔ کئی بار وہ اپنی بیٹی کو لینے آیا لیکن اس کی بیٹی نہیں گئی۔‘
ملزمان سندیپ اور راہول کے والد مٹی کے برتن بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بیٹوں کو پھنسایا گیا ہے۔
وہ اس واقعے کے بعد حکومت کی جانب مسمار کیا گیا اپنا گھر دکھاتے ہوئے کہنے لگے ’میرے بچوں کو گرفتار کرنے کے ایک ہفتے کے اندر، انھیں گرا دیا گیا۔ ہم مزدور ہیں ہم نے ایک چھوٹا سا ٹھکانہ بنایا تھا اور وہ بھی گرا دیا گیا۔ ہمارے لڑکوں کا قصور صرف یہ ہے کہ انھوں نے مرکزی ملزم سے دو موبائل سستے داموں خریدے تھے۔ اس لیے پولیس نے انھیں پکڑ لیا۔ ان کے چھوٹے بچے ہیں اور وہ کبھی ایسا کام نہیں کریں گے۔‘
مقامی لڑکیوں کے لیے اس واقعے کے بعد کیا مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں؟
ریپ سے متاثرہ صدمے میں لوگ کہتے ہیں کہ اس میں لڑکی کا قصور ہے۔ وہ کسی کو بتائے بغیر فون کال پر کیوں چلی گئی؟
اس واقعے کے بعد خاص طور پر لڑکیاں اپنی پڑھائی چھوٹ جانے کا خوف رکھتی ہیں کیونکہ ریپ جیسے واقعات کے بعد لڑکیوں پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔
جیوتی پٹیل، جنھوں نے گورنمنٹ کالج جی ڈی سی سے پوسٹ گریجویشن کی ہے کہتی ہیں کہ اس واقعے کے بعد بہت سی لڑکیوں کو گھروں میں پڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ لڑکیوں پر ذہنی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کی مالی حالت اچھی نہیں ہے، اس لیے وہ سرکاری سکیموں سے گمراہ ہو جاتی ہیں۔
اس طرح کے واقعات سن کر دوسری لڑکیاں خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔ وہ کھل کر تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں رہتیں۔ اس طرح کے واقعات پڑھائی میں بہت خلل ڈالتے ہیں۔ جلد شادی کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ملزم نے جس طرح سے یہ کیا ہے، اسے سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔
گاندھی گرام کی ضلع پنچایت رکن پوجا سنگھ کشرم خود گونڈ برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔
پوجا نے کہا کہ ’میں قبائلی برادری سے تعلق رکھتی ہوں اور جانتی ہوں کہ وہاں کتنی غربت اور ناخواندگی ہے۔ اس واقعے میں یہ دونوں پہلو سامنے آئے۔ سب سے پہلے، اگر لوگ ٹیکنالوجی کو نہیں سمجھتے، تو وہ پھنس جاتے ہیں۔
’دوسری بات یہ کہ غربت اتنی شدید ہے کہ ان کے لیے وظیفہ ضروری ہو جاتا ہے۔‘











