’آئی جی آئی ایل‘: ایف آئی اے کروڑوں روپے کے آن لائن فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث چینی گینگ تک کیسے پہنچی؟

FIA

،تصویر کا ذریعہFIA

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کے رہائشی تیمور رشید نے زیادہ منافعے کی خواہش میں ایک ایسے پلیٹ فارم پر 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی جہاں وہ شیئرز خرید تو پا رہے تھے اور ان کی قدر میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ بھی دیکھ پا رہے تھے مگر انھیں افسوس اس بات کا تھا کہ وہ منافع کے بعد اپنے 50 لاکھ روپے مالیت کے شیئرز فروخت کرنے سے قاصر تھے۔

تمیور سمجھتے ہیں کہ وہ کسی عام پاکستانی شہری کے مقابلے میں سٹاک مارکیٹ کو بہتر سمجھتے تھے کیونکہ انھیں شیئرز کی خرید و فروخت کا خاصا تجربہ تھا۔

وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ ایک روز پتا چلا کہ وہ ایپ جو کہ انھوں نے گوگل پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کی تھی اور وہ ویب سائٹس جہاں انھوں نے حصص کے اتار چڑھاؤ پر نظریں تان رکھی تھیں، سب غائب ہو گیا۔

یہ کہانی ایک ایسی مبینہ جعلسازی کی ہے جس کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے درجنوں درخواستیں موصول ہونے کے بعد چند ماہ کے دوران مختلف مقدمات درج کیے اور مبینہ جعلسازی میں چینی باشندوں کے علاوہ متعدد پاکستانی شہریوں کو بھی شریک ملزم قرار دیا۔

ان درخواستوں میں متاثرین نے کروڑوں روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری طرف گرفتار چینی شہریوں میں سے دو کے وکیل رضوان عباسی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ان کے ’دونوں موکل بے گناہ ہیں جنھیں پھنسایا گیا اور اس فراڈ کے اصل ملزمان فرار ہو گئے ہیں۔‘

گذشتہ روز اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ایک آن لائن مالی فراڈ کے الزام میں گرفتار 17 چینی شہریوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

ایف آئی اے حکام نے گرفتار تمام چینی شہریوں کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن مالیاتی فراڈ میں ملوث ہیں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے بڑے پیمانے پر عوام کے ساتھ فراڈ کر رہے ہیں۔

ایف آئی کے مطابق ملزمان پانچ کروڑ روپے سے زیادہ رقم کی جعل سازی میں ملوث ہیں اور انھیں 15 مارچ کو ایک کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم نے ملزمان کے خلاف پیکا و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

لیکن یہ فراڈ ہے کیا اور یہ معاملہ ایف آئی اے اور پھر عدالت تک کیسے پہنچا؟

سرمایہ کاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تحقیقات میں کیا باتیں سامنے آئی ہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

چینی باشندوں کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن فراڈ کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں مزید 17 افراد کو تین روز پہلے اسلام آباد کے ایف الیون سیکٹر میں ایک کال سینٹر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان ملزمان کو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے تین ملزمان کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا جنھوں نے دورانِ تفتیش ایف آئی اے کے اہلکاروں کو بتایا تھا کہ ان کے علاوہ بھی اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں آن لائن مالیاتی فراڈ ہو رہا ہے۔

تفتیشی اہلکار کا کہنا تھا کہ چینی باشندے مبینہ طور پر آن لائن ایپ کے ذریعے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی آڑ میں عام لوگوں سے دھوکا دہی سے کروڑوں روپے حاصل کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملزمان کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی عوام کے ساتھ فراڈ کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

تفتیشی ٹیم میں شامل ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق زیر حراست ملزمان کی نشاندہی پر ایف ائی اے کی ٹیم نے ایف الیون کے کمرشل علاقے میں واقع ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر وہاں سے 17 چینی باشندوں کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے کمپیوٹر گیجٹ اور دوسرا سامان قبضے میں لیا۔

ایف آئی اے کی ٹیم نے ان ملزمان کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت سے تفتیش کے لیے ملزمان کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ مانگا لیکن عدالت نے ان 17 چینی باشندوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے تاہم تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے پاس جو مواد ہے اس سے متعلق تفتیشی عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے کے مقدمے کی پیروی کرنے والے پراسیکیوٹر شیخ عامر انجم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس عدالتی فیصلے کو ڈسٹرکٹ کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملزمان کو جوڈیشل کرنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد ان چینی باشندوں کی جانب سے ان کے وکلا نے ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور ان درخواستوں کی سماعت 19 مارچ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ہو گی۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں دو درجن کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں سے کچھ ملزمان کی ضمانتیں بھی ہو چکی ہیں۔

درجنوں افراد سے بینک میں پیسے جمع کروانے کا کہا گیا

آئی جی آئی ایل

،تصویر کا ذریعہVictim

وحید الرحمن ایڈووکیٹ متعدد متاثرین کے وکیل ہیں تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں بھی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فراڈ کا آغاز گذشتہ سال کے وسط میں بیک وقت پورے ملک میں ہوا تھا۔ ’لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان اور چین کے علاوہ مختلف بین الاقوامی منڈیوں میں سرمایہ کاری اور منافع کے مواقع ہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ بینک میں اکاؤنٹ کھولے گئے تھے۔‘

وحید الرحمن کا کہنا تھا کہ ’لوگوں سے کہا جاتا رہا کہ آپ لوگ بینک میں پیسے جمع کروائے جس کی وجہ سے بھی لوگ اعتماد کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بینک میں کمپنی کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروانے سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا مگر انھوں نے یہاں ہی سے فراڈ کی بنیاد رکھی تھی۔‘

اس کیس میں ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنےکی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر ’فراڈ مکمل منصوبہ بندی سے کیا گیا جس میں زیادہ تر چینی شہری شامل ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ پاکستانی شہریوں کو بھی شامل کیا۔‘

تفتیشی افسر کے مطابق ’سب سے پہلے تشہیر کی گئی اور انتہائی غیر معمولی منافع کا کہا گیا جو ناقابل یقین ہے۔‘

’کچھ لوگوں کو سرمایہ کاری کرنے پر (ابتدا میں) معمول سے کئی گنا زیادہ منافع دیا گیا۔ جن لوگوں کو منافع دیا گیا ان کو طریقے کے ساتھ اپنا سہولت کار بنایا گیا تھا کہ وہ اس منافع کا دوسروں سے ذکر کرتے اور ان لوگوں کو (بھی) سرمایہ کاری کے لیے قائل کریں۔‘

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان نے ’کئی پاکستانیوں کو ملازمتیں دیں اور ان کی ذمہ داری لگائی کہ وہ ان کے لیے سرمایہ کاری لائیں۔ یہ کام ملازمتوں کے علاوہ کمیشن پر بھی کروایا جاتا تھا۔ جو کمیشن دیا جاتا وہ بھی غیر معمولی تھا۔‘

ایف آئی اے کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ’جو بھی دھوکے میں آ کر سرمایہ کاری کرتا اس کو پہلے، دوسرے، تیسرے ماہ منافع دیا گیا جس سے ان کی شہرت بڑھی اور مزید سرمایہ آتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے ’محتاط رہتے ہوئے بینکوں میں موجود سرمایے کے ذریعے کرپٹو کرنسی خریدی۔‘

تفتیشی افسر کے مطابق کچھ کسیز میں پتا چلا ہے کہ بینک اکاؤنٹ پاکستانیوں کے ذریعے کھلوائے جاتے تھے۔

’جب وہ بڑی حد تک سرمایہ کاری حاصل کر لیتے تو پہلا کام کرپٹو کرنسی خریدنے کا کرتے تھے اور یہ کام وہ اپنے پاکستانی ساتھیوں کے ذریعے کرواتے اور پھر اس کے بعد ایپ اور ویب سائٹ انٹرنیٹ پر موجود رہنے کے باوجود عملی طور پر غیر فعال ہو جاتی تھی۔‘

تفتیشی افسر کے مطابق یہ ایپ اور ویب سائٹ ’مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کروائی گئی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا کوئی دفتر وغیرہ نہیں تھا اور سرمایہ کاری کر کے دھوکے کا نشانہ بننے والے کبھی بھی اس کمپنی کے دفتر نہیں گئے اور نہ ہی ملاقات کی۔ جو کچھ بھی ہوا آن لائن ہوا تھا۔‘

پاکستان، سرمایہ کاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’آئی جی آئی ایل‘ نامی ایپ کیا ہے؟

ایف آئی اے سائبر کرائم کی عدالت میں جمع کروائی گئی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور پاکستان کے شہریوں نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے تشہیر کی کہ وہ پاکستان سٹاک ایکسچینج اور چین میں آن لائن سرمایہ کاری ’آئی جی آئی ایل ایپ‘ کے ذریعے سے کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

تفتیش میں کہا گیا کہ اس ایپ کی واٹس ایپ گروپوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ بین الاقوامی سٹاک مارکیٹ اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے قانونی کمپنی ہیں۔

تفتیش میں کہا گیا کہ ’آئی جی آئی ایل‘ نامی ایپ پر ایک جعلی سرمایہ کاری پروگرام کے ذریعے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جاتا تھا کہ وہ پاکستان اور چین کی مارکیٹ میں اچھا منافع کما سکتے ہیں۔

تفتیش کے مطابق نہ صرف شکایت کنندگان سے بینکوں میں پیسے جمع کروائے گئے بلکہ یہ چیز بھی ریکارڈ پر ہے کہ دو چینی شہریوں نے مقامی بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے اپنے تمام کاغذات فراہم کیے تھے۔

خیال رہے کہ 29 نومبر 2024 کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے خبردار کیا تھا کہ ’آئی جی آئی ایل‘ ایک غیر قانونی ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے جو سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے سٹاک ایکسچینج اور بین الاقوامی سٹاک مارکیٹ میں بھاری منافع کا وعدہ کرتی ہے۔

اسی طرح ’آئی جی آئی سکیورٹیز‘ نامی کمپنی نے بھی نشاندہی کی تھی کہ گوگل پلے سٹور پر موجود آئی جی آئی ایل ایپ جعلسازی میں ملوث ہے اور اس کا ان کی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں۔