رضیہ مرادی’جب بھی مایوسی یا خوف محسوس کرتی تو خود سے عہد کرتی کہ مجھے اپنے خاندان کے لیے سپاہی بننا ہے‘

،تصویر کا ذریعہRazia Muradi
- مصنف, شیریلان مولان
- عہدہ, بی بی سی نیوز ممبئی
رضیہ مرادی جس وقت یونیورسٹی میں ٹاپ کر کے نمایاں کارکردگی کا سرٹیفیکیٹ لینے سٹیج کی جانب بڑھیں تو بیک وقت خوشی اور غم کے جذبات ان پر حاوی تھے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ رضیہ مرادی دو سال سے انڈیا میں زیر تعلیم ہیں۔ حال میں میں انھوں نے انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کی یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کورس میں ٹاپ کرنے پر گولڈ میڈل حاصل کیا اوراپنی نمایاں کامیابی کی اس خبر کے ساتھ ہی وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔
تاہم خوشی کے ان لمحات میں وہ خود کو تنہا ہی محسوس کر رہی تھیں کیونکہ ان کی اس کامیابی کا جشن منانے کے لیے ان کا خاندان ان کے ساتھ نہیں تھا۔
رضیہ مرادی نے اپنی اس کامیابی کے موقع پر اپنے گھر والوں کو بہت یاد کیا اور ان کی کمی نے انھیں افسردہ کر دیا۔
’یہ ایک تلخ لمحہ تھا ایک طرف میں اپنی محنت کے رنگ لانے پر بہت خوش تھی تو دوسری جانب مجھے اپنے خاندان کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔اس وقت میں افغانستان کی ان تمام لڑکیوں اور خواتین کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی جنھیں تعلیم اور کام کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پابندیاں لگا کر خواتین کے حقوق اور آزادیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ طالبان کے احکامات کے بعد خواتین طالبات کو سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹی میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔
گجرات کے گورنر نے رواں ہفتے انھیں اپنے کورس میں 8.60 اسکور حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر گولڈ میڈل دیا۔ رضیہ مراد آبادی نے ان نمبرز کے ساتھ پوری یونیورسٹی میں ٹاپ کیا ہے۔
رضیہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اپنے گھراور اپنے خاندان کی حفاظت کے بارے میں فکر مند رہتی تھیں اس لیے امتحانات کی تیاری ان کے لیے آسان نہیں تھی،
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب 2021 میں طالبان نے ان کے ملک پر قبصہ کیا تو انہیں یہی پریشانی کھائے جاتی تھی کہیں ان کے گھر والے اور دوست احباب کہیں جنگ کی لپیٹ میں نہ آجائیں۔
’جنگ کے تنازعے میں گھرے علاقوں میں ہر کوئی خطرے کی زد میں ہوتا ہے۔ جب بھی میں وہاں دھماکوں اور حملوں کے بارے میں سنتی اپنے خاندان کی حفاظت کے بارے میں متفکر ہو کر رابطے کی کوشش کرتی تاہم افغانستان میں کمزور انٹرنیٹ نے اس کو مشکل بنا دیا تھا۔‘
تاہم جب بھی میں مایوسی یا خوف محسوس کرتی تو خود سے عہد کرتی کہ مجھے اپنے خاندان کے لیے سپاہی بننا ہے۔ میرے گھر والوں نے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اپنی پڑھائی میں بہترین کارکردگی سے ان کو کچھ نہ کچھ خوشی ضرور دے سکوں گی۔‘
رضیہ مرادی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے خواہش کے باوجود اپنے خاندان سے ملاقات نہیں کر پائیں اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ان کے لیے یہ ممکن نہیں کیونکہ اس وقت ان کے ملک افغاسنستان میں حالات ٹھیک نہیں۔
’اپنی کامیابیوں کے لیے گھر والوں کی مقروض ہوں جنھوں نے ہمیشہ میرے خوابوں کا ساتھ دیا ‘
’اس وقت افغانستان میں میرے لیے کوئی روشن مستقبل نہیں ہے ۔ وہاں لوگوں کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ ترقی اور بحالی سے متعلق منصوبے روک دیے گئے ہیں۔ اور اس صورت حال میں ملک ترقی کرنے کے بجائے پیچھے جا رہا ہے۔ ‘
رضیہ مرادی اپنے ملک کے تلخ حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہچکچاتی یا ڈرتی نہیں۔ اور وہ سچ بولنا کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
’اگر ہم صرف خاموش رہے تو اس حکومت کو تبدیل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ وہ (طالبان) چاہتے ہیں کہ لوگ خاموش رہیں۔ لیکن ایک افغان خاتون کی حیثیت سے اس وقت یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں حکومت کے معاشرے پر اثرات کے بارے میں کھل کر بات کروں۔
رضیہ مرادی اب انڈیا کی اسی یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے’میرے خاندان اور میری برادری نے ہمیشہ میرے خوابوں کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی وجہ سے میں معاشرے میں ایک فعال عورت بن سکی ۔میں اپنی تمام کامیابیوں کے لیے ان کی مقروض ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہRazia Muradi
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
رضیہ مرادی نے افغانستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ مقامی افراد کی خدمت کے شعبوں میں کئی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔
رضیہ مرادی نے فروری 2021 میں انڈیا کا رخ کیا تھا۔ جس وقت وہ تعلیم کے لیے انڈیا آئی تھیں اس وقت افغانستان میں حالات مختلف تھے۔ طالبان اس وقت تک اقتدار میں نہیں آئے تھے اور وہاں لڑکیوں کے تعلیم کے حصول پرپابندیاں نہیں تھیں۔ رضیہ نے تعلیم کے حصول کے لیے انڈیا کا رخ کیا کیونکہ ان کو وہاں اعلیٰ تعلیم کی ڈ گری کے لیے زیادہ بہتر مواقع حاصل تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ انڈیا اور افغانستان کے درمیان کافی مشترکہ ثقافتیں ان کو وہاں اپنے گھر کا سا احساس دلاتی تھیں۔
رضیہ مرادی نے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کی طرف سے اسکالرشپ حاصل کی اورگجرات میں ویرنرماد ساؤتھ گجرات یونیورسٹی میں پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کورس میں داخلہ لیا۔
یہ بھی پڑھیے:
رضیہ مرادی نے کامیابی کے لیے دن رات محنت کی تاہم ان کا کہنا ہے افغانستان کے حالات کے پیش نظر یہاں بھی ان لیے امتحانات کی تیاری اتنی آسان نہیں تھی۔
’میں نے ویرنرماد یونیورسٹی کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہاں سے بہت سے افغان طلباء نے تعلیم حاصل کی ہے اوراس تعلیمی ادارے کے لیے ان کی بہت مثبت رائے ہے۔‘
رضیہ مرادی کے مطابق انھوں نے انتظامیہ اور پالیسی سازی میں اپنی دلچسپی کی وجہ سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کرنے کا انتخاب کیا، اور وہ پرامید ہیں کہ عوامی بہبود کو فروغ دے کر افغانستان میں حکومتی نظام میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
’میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی کہ میں واپس جا کر اپنے ملک کی ترقی کے لیے کام کروں۔‘









