سرکاری ٹی وی پر اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر سینسر: ’انھوں نے کیمرے کا رخ ہی موڑ دیا تاکہ عمران خان دکھائی نہ دے سکیں‘

Omar Ayub

،تصویر کا ذریعہPTV

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حزب اختلاف کو تو ہمیشہ ہی یہ شکوہ رہتا ہے کہ اسے سرکاری ٹی وی تک رسائی نہیں دی جاتی۔ آج کے حکمران بھی اپوزیشن میں یہی شکوے کرتے تھے۔ کل کے حکمران اب آج اپوزیشن بینچز سے ایسی ہی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ عام حالات میں سرکاری ٹی وی کی کسی کو پرواہ ہو نہ ہو مگر خاص حالات میں تو جیسے سرکاری ٹی وی کی کوریج پر سب کی نظریں ٹھہر جاتی ہیں۔

اتوار کو جب شہباز شریف قائد ایوان منتخب ہوئے تو سرکاری ٹی وی نے پورے لوازمات کے ساتھ ان کے طویل خطاب کا ایک ایک لفظ عوام تک پہنچایا۔ مگر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ عمر ایوب اتنے خوش قسمت ثابت نہ ہوئے اور ان کی تقریر کے دوران جہاں کیمرے کے رخ موڑے گئے وہیں کیمرے نے اپنا منھ بھی ان سے پھیر لیا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن کے سیشن میں بھی اپوزیشن رہنماؤں کی تقریر کی دوران سرکاری ٹی وی پی ٹی وی پر نشریات بند کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ اتوار کو نئے وزیراعظم کے انتخاب کے بعد شہباز شریف نے جب ایوان میں تقریر کی تو اس کے بعد ان کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لینے والے عمر ایوب نے خطاب کیا تو سرکاری ٹی وی نے وہ خطاب سینسر کر دیا، جس پرعمرایوب نے ایوان میں سخت احتجاج کیا اور سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں اس وقت اپوزیشن کی قیادت کر رہے ہیں اور سرکاری ٹیلی ویژن پر وزیر اعظم شہبازشریف کی تقریر کی طرح ان کی تقریر بھی نشر کرنا ان کا حق بنتا ہے۔

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کی تقریر نشر نہ کیے جانے پر ارکان نے ڈپٹی سپیکر سے مطالبہ کیا کہ ’آپ رولنگ دیں۔‘

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے قومی نشریاتی ادارے پی ٹی وی کو یہ ہدایات جاری کیں کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عُمر ایوب خان کی تقریر کو نشر کریں۔ انھوں نے کہا کہ ’عمر ایوب صاحب! آپ اتنے سینیئر ہیں۔ آپ چیئر کو حکم نہ دیں۔ میں نے ہدایت دے دہی ہے، پی ٹی وی اسے لائیو چلائے۔‘

مگر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔

پیر کو عمر ایوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہباز شریف کی تقریر نشر کی گئی مگر میرا خطاب سینسر کیا گیا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا شہباز شریف آسمان سے اترے ہوئے ہیں؟

censorship

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پیر کے روز قومی اسمبلی کے دوسرے دن کے اجلاس میں بھی یہی کچھ دیکھنے میں آیا۔ اسد قیصر اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل کی تقریر کے دوران بھی نشریات بند کر دی گئیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ’عمر ایوب کی تقریر میں ایک لفظ ایسا نہیں تھا جس کو سپیکر یا ڈپٹی سپیکر نے حذف کرنے کا آرڈر دیا ہو، اس کے باوجود ہمیں لائیو کوریج نہ دینے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل نے گرفتار صحافیوں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسد طور اور عمران ریاض کو رہا کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں بلوچستان کے قیدیوں کی بات نہیں کر رہا کیونکہ وہاں پر ہم سیاسی نہیں جنگی قیدی ہیں۔

انھوں نے چند ہفتے قبل بلوچستان سے اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ لیے اسلام آباد آنے والی خواتین کے ساتھ کیے گئے سلوک کی بھی مذمت کی۔ تاہم ان کی تقریر کے دوران سرکاری ٹی وی پر نشریات بند کر دی گئیں ہیں۔

Asad Qaiser

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسد قیصر نے کیا ایسے مطالبات کیے کہ پی ٹی وی خاموش ہو گیا؟

پی ٹی آئی رہنما اور سابق سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، بشری بی بی اور پرویز الٰہی کے خلاف تمام مقدمے واپس لیں، ہمارے لیڈران کو رہا کیا جائے تو جمہوریت اور آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے لیے آپ کے ساتھ اکھٹے ہوں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جس عمران خان نے پاکستان کا نام روشن کیا اسے دہشت گرد ڈیکلئیر قرار دیا گیا، اگر عمران خان دہشت گرد کے تو پھر ہم سب دہشت گرد ہیں۔

انھوں نے پیمرا کی جانب سے عمران خان کے بائیکاٹ کی بھی مذمت کی اور اسے واپس لینے کا اعلان کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ہمارے صدراتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر چھاپہ مارا ہے میں ان لوگوں کو ایک بات واضع کرنا چاہتا ہوں، ڈر اور خوف کا وقت اب گزر چکا ہے۔

اسد قیصر کے مطابق ’گھروں پر چھاپے پڑے، گرفتار کیا گیا، دباؤ میں لایا گیا کہ اپنی پارٹی بناؤ، میں نے اس وقت کہا تھا مرجاؤں گا عمران خان کو نہیں چھوڑوں گا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

سوشل میڈیا پر بحث: ’یہ بلوچستان کے منتخب نمائندوں کی تقریر نہیں سن سکتے تو مسائل کیا حل کریں گے‘

برشنا کاسی نامی ایک صارف نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پہلے انھوں نے محمود اچکزئی کی تقریر سینسر کی اور اب یہ انھوں نے اختر مینگل کے ساتھ کیا ہے۔

انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ریاست بلوچستان کے تحفظات کیسے دور کرے گی جب اس صوبے کے منتخب نمائندوں کا درد سننے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ ان کو آزادی اظہار خیال ہی نہیں دیا جا رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

پی ٹی آئی نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا کہ ہمارے وزیراعظم کے امیدوار عمر ایوب پارلیمانی روایت کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ مگر پی ٹی وی یہ تقریر نہیں نشر کر رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر علی خان نے کہا کہ ’عمر ایوب کی تقریر میں ایک لفظ ایسا نہیں تھا جس کو سپیکر یا ڈپٹی سپیکر نے حذف کرنے کا آرڈر دیا ہو، اس کے باوجود ہمیں لائیو کوریج نہ دینے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

ایف زیڈ کے نامی صارف نے لکھا کہ انھوں نے عمر ایوب کے خطاب کے دوران کیمرے کا رخ ہی موڑ دیا تاکہ عمران خان نہ دکھائی دے سکیں۔

ایک اور صارف اقرا نواب خان نے لکھا کہ جب انھوں نے کیمرے کا رخ موڑا تو پھر اس کے بعد ایک تحریک انصاف کے رکن نے عمر ایوب پر ہر طرف سے عمران خان کی تصاویر والے سٹکرز چسپاں کر دیے۔ اس پر سوشل میڈیا پر شمس خٹک نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ عمران خان کو ’کہاں کہاں سے مائنس کرو گے۔‘