سال 2022 کی انڈین فلموں نے ہندو مسلم دوریوں کو کم کیا یا بڑھایا؟

Film

،تصویر کا ذریعہRRR/FILMGRAB

    • مصنف, وکاس ترویدی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ایک کہانی، کئی کردار، کئی لوگوں کی محنت۔۔۔ تب ہی جا کر کوئی فلم تیار ہوتی ہے۔ ایسی فلمیں، جنھیں لاتعداد بار ’معاشرے کا آئینہ‘ کہا گیا ہے۔

لیکن ماضی میں یہ آئینہ کتنا دھندلا یا صاف ہو چکا ہے؟

اس آخری فلم کو یاد کریں، جسے دیکھ کر آپ نے مذاہب کے درمیان خلیج کو مٹھاس سے بھرتے یا تلخی پیدا کرتے دیکھا؟

اس کہانی میں ہم سنہ 2022 میں ریلیز ہونے والی ان فلموں میں سے کچھ کے بارے میں بات کریں گے، جن کے کسی بھی سین یا فلم کے پس منظر میں مذہب تھا۔

ایسے وقت میں جب گانے میں پہنے جانے والے کپڑوں کا رنگ مذہب کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو ایسی فلموں کا ذکر کرنا ضروری ہے جن کی کہانی میں یا پس منظر میں مذہب ہو۔

لیکن پہلے ماضی کی ان فلموں پر ایک نظر ڈالیں جن میں مذہبی ہم آہنگی بڑھانے اور موجودہ دور کی تلخیوں کو دکھانے کی کوشش کی گئی۔

India

،تصویر کا ذریعہYRF/TRAILERGRAB

سنہ 1941 میں وی شانتارام کی فلم ’پڑوسی‘ ریلیز ہوئی۔ فلم کے پہلے ہی سین میں جب مرزا نماز پڑھنے آتا ہے تو اس وقت پنڈت ٹھاکر رامائن پڑھتے ہوئے اٹھتے ہیں۔

مرزا پوچھتے ہیں: ’ٹھاکر کیوں اُٹھے، اب تمھیں رامائن پڑھنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے؟‘ پنڈت نے جواب دیا: ’مجھے مزید پڑھنا چاہیے مگر آپ کی نماز قضا ہو جائے گی تو ایسے میں اپنے آپ کو ہی کوسوں گا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس منظر کی خوبصورتی یہ بھی ہے کہ فلم میں پنڈت کا کردار مظہر خان نے ادا کیا تھا اور مرزا کا کردار گجانن جاگیردار نے ادا کیا تھا۔

یہ اس دور کی فلم ہے، جب مذہب کی بنیاد پر پاکستان بنانے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔

فلم کی کہانی یہ تھی کہ ڈیم بنانے کے لیے آئے ایک انجینیئر کے منصوبے کی وجہ سے کیسے دو ہندو مسلم دوست، دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ دشمنی تب ختم ہوتی ہے جب گاؤں کا نیا ڈیم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

سنہ 1946 میں پی ایل سنتوشی کی ’ہم ایک ہیں‘ بھی ایسی ہی ایک فلم ہے۔ فلم میں ادارکارہ درگا کھوٹے ایک زمیندار ماں کے کردار میں تین مختلف مذاہب کے بچوں کی پرورش کرتی ہیں۔

یہ تینوں بچے اپنے اپنے مذاہب پر چلتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ دیوآنند نے اپنے کیریئر کی شروعات فلم ’ہم ایک ہیں‘ سے کی تھی۔

سنہ 1959 میں فلم 'دھول کا پھول' کی کہانی میں ایک مسلمان شخص عبدل جنگل سے ملنے والے ایک بچے کی پرورش کرتے ہیں اور اس ’ناجائز‘ بچے کی وجہ سے وہ خود معاشرے سے بے دخل ہو جاتے ہیں۔

ایک بچے کی پرورش کے دوران فلمائے گئے گانے میں عبدل کہتے ہیں: ’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا، انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا۔۔۔‘ کیا آپ نے پچھلے کچھ برسوں میں اس طرح کا کوئی نیا گانا یا ڈائیلاگ سنا ہے؟

اس فہرست میں تین بھائیوں ’امر، اکبر، انتھونی‘ کی زندگی گزارنے کی کہانی بھی سکرین پر نظر آئی۔

India

،تصویر کا ذریعہFILMGRAB

ہندو مسلم فسادات یا دونوں ممالک کی تقسیم کے دکھوں کو بیان کرتے ہوئے کئی اور فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔ یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے۔ لیکن جن فلموں نے اپنا اثر چھوڑا وہ بہت کم ہیں۔

بلراج ساہنی کی فلم 'گرم ہوا' ملک چھوڑنے کے درد کو بیان کرتی ہے۔ فلم کا مؤثر کلائمکس مذہب کی بنیاد پر ملک چھوڑنے سے زیادہ ضروری روزگار جیسی ضروریات کو ظاہر کرتا ہے۔

ایسی ہی کچھ اور فلمیں 'پِنجر'، 'ٹرین ٹو پاکستان' اور 'تمس' ہیں۔

بابری مسجد کے انہدام کے بعد سنہ 2002 کے فسادات کے پس منظر پر بنی منی رتنم کی 'بمبئی'، 'فراق'، 'دیو' اور 'پرزانیہ' جیسی فلمیں بھی سامنے آئیں۔

فلم 'بمبئی' کے کلائمکس میں انھیں ہاتھوں سے ہتھیار پھینک کر ہاتھ ہلانے پر مجبور کیا گیا، جس سے اجتماعی قتل ہوا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سنیما سٹڈیز کی پروفیسر ایرا بھاسکر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’بمبئی فلم کے آخر میں یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ دونوں برادریوں کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے۔‘

ان کے مطابق ہندو مسلم مسئلہ محض چند ایسے مناظر سے ختم تو نہیں ہو جائے گا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد آپ کی سوچ بنتی ہے کہ حقیقت میں ایسا ہی ہونا چاہیے اور مل کر اتفاق سے ساتھ رہنا چاہیے۔

ان فلموں میں اس دور کی حقیقت کو دکھانے کی کوشش کی گئی۔

فلم 'سرفروش' کے کردار انسپکٹر سلیم (مکیش رشی) کو اے سی پی اجے سنگھ راٹھور (عامر خان) سے کہنا پڑا کہ بچنے کے لیے 10 نہیں، 10 ہزار سلیم ملیں گے۔ اگر بھروسہ ہے تو پھر کبھی کسی سلیم کو یہ نہ کہنا کہ یہ ملک اس کا گھر نہیں ہے۔‘

سنہ 2006 کی فلم 'رنگ دے بسنتی' میں لکشمن پانڈے (اتل کلکرنی) اور اسلم (کنال کپور) کا کردار ہندو مسلم کی دوری دکھا کر شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ قربت میں بدل گیا۔

ایک ایسے وقت میں جب فلموں کی ریلیز پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور مقدمات قائم ہونے کا خوف برقرار ہے۔ پھر 'رنگ دے بسنتی' سے متعلق ایک قصہ سنانا ضروری ہو جاتا ہے۔

'رنگ دے بسنتی' کی کہانی طاقت کے حلقوں اور ’نہتا بابو گینگ‘ کے کردار پر سوالات اٹھاتی ہے۔

فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے حادثے اور ملک کے وزیر دفاع پر تنقیدی تبصرہ کرنے والی یہ فلم ریلیز سے قبل اس وقت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی سمیت فوج کے سربراہ کو دکھائی گئی۔

پرنب مکھرجی فلم دیکھ کر اٹھے اور کہا 'میرا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ فلموں کو سنسر کرنا۔۔ بچوں نے اچھا کام کیا ہے۔'

ملک کے اس وقت کے وزیر دفاع یہ اس فلم کے لیے کہہ رہے تھے، جس کی کہانی میں وزیر دفاع کو کرپشن کی وجہ سے گولی مار دی گئی تھی۔

سنہ 2002 کے فسادات کے پس منظر والی فلم ’کائے پُو چھ‘ بھی اپنا اثر چھوڑنے میں کامیاب رہی۔ نفرت کی آگ کتنی جلتی ہے اور دماغ کو خود پسندی سے بھر دیتی ہے۔۔۔ فلم 'کائے پو چھ' کے کردار اس کی بہترین مثال ہیں۔

خاص طور پر ایشان، جو ایک مسلمان بچے علی کو بچانے کی کوشش میں اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے اور آخر میں، جرم سے بھرا ہوا اومی۔ جس کے ٹپکتے ہوئے آنسو بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی آنسو کے ایک قطرے سے سب سے بڑی آگ بجھائی جا سکتی ہے۔

سنہ 2012 کی 'اوہ مائی گاڈ' اور متنازع 'پی کے' جیسی فلمیں ان لوگوں کو بھی بے نقاب کرتی ہیں جو مذہب پر یقین رکھنے والے لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔

پروفیسر ایرا نے حالیہ فلمی تنازعات پر کہا کہ ’کیا ہم ایران اور چین جیسا بننا چاہتے ہیں؟ جب انڈیا سنیما کے 100 سال میں ایسا نہیں ہوا تو اب ایسا کیوں ہو رہا ہے، سوچنا چاہیے۔‘

film

،تصویر کا ذریعہYT/ZEE CINEMALU

اب سوال یہ ہے کہ سنہ 2022 میں وہ کون سی فلمیں تھیں جن میں کہیں یا پس منظر میں مذہب موجود تھا اور ان کے ذریعے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی یا سوشل میڈیا کے دور میں عوام میں کیا پیغام گیا؟

ایسی ہی کچھ فلموں پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

راجامولی کی فلم 'RRR' کے ایک سین میں این ٹی آر جونیئر اور رام چرن کے درمیان ایک مکالمہ ہے جس سے 'باہوبلی' ہٹ ہوئی۔

اس منظر میں راجو (رام چرن) اپنے دوست اختر (این ٹی آر جونیئر) کے لیے میخیں لگا کر جینیفر کی کار کو روکتا ہے۔

جیسے ہی اسے گاڑی کے رکنے یعنی ٹائر پنکچر ہونے کا علم ہوا، اختر کہتے ہیں: 'اب میں اس کا پنکچر ٹھیک کروں گا، وہ کہے گی شکریہ اور پھرہماری بات چیت شروع ہو جائے گی۔'

اختر جینیفر سے بھی کہتا ہے: 'میری دکان قریب ہی ہے، میں اسے پانچ منٹ میں ٹھیک کر دوں گا۔' اگر پورے تناظر میں دیکھا جائے تو اس سین میں فلم کے صرف دو کرداروں کے ملاپ کے امکانات ہیں۔

چونکہ آپ نے مسلمانوں کے پنکچر کے کام سے متعلق لاتعداد پیغامات یا تبصرے پڑھے ہوں گے، اس لیے لوگوں نے اس منظر کی مختلف تشریح کی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں راجامولی کو اس بات کے لیے سلیوٹ کیا گیا کہ انھوں نے ایک مسلم کردار اختر کو پنکچر بنانے جیسا مکالمہ کرنے کو کہا۔

یہ وہی فلم ہے، جس کے آخر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے رہنماؤں اور انقلابیوں کے سرینڈر کرتے دکھایا گیا۔ لیکن اس فلم میں گاندھی اور نہرو کو جگہ نہیں ملی۔

’بجرنگی بھائی جان‘ جیسی فلموں کی کہانی لکھنے والے راجامولی کے والد اور مصنف کے وی وجیندر پرساد نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا۔۔۔ کیونکہ گاندھی کی وجہ سے سردار پٹیل کی جگہ نہرو وزیر اعظم بنے اور کشمیر آج بھی جل رہا ہے۔‘

سنہ 2022 میں کے وی وجیندر پرساد کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

kashmir files

،تصویر کا ذریعہKASHMIRFILES/FILMGRAB

کشمیر کے مناظر پر کئی فلمیں بنائی گئیں۔ جیسے- 'روزہ'، 'حامد'، 'مشن کشمیر'، 'یہاں'، 'تہان'، 'حیدر'، 'شکارہ'۔ لیکن دیگر فلموں کو 'دی کشمیر فائلز' جیسی کامیابی نہیں ملی۔

ویب سائٹ آئی ایم ڈی بی کے مطابق 20 کروڑ کے بجٹ سے بنائی گئی 'دی کشمیر فائلز' نے 340 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی۔

'دی کشمیر فائلز' شاید پہلی ایسی فلم ہو گی جسے ملک کے وزیر اعظم نے دیکھنے کی اپیل کی۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا یا یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ، جو اکثر فلموں یا گانوں سے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی شکایت کرتے ہیں، سبھی فلم 'کشمیر فائلز' کے لیے پرجوش اور آزاد خیال نظر آئے۔ فلم کو کئی ریاستوں میں ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا۔

یہ فلم سنہ 1990 میں کشمیری پنڈت کی بے دخلی کے ایک سچے واقعے پر مبنی تھی۔ فلم میں دکھایا گیا کہ کس طرح کشمیری پنڈتوں کو راتوں رات وادی سے بے دخل ہونا پڑا۔

انڈیا میں بڑی تعداد میں اس فلم کو پسند کیا گیا اور انھوں نے کہا کہ برسوں تک کشمیری پنڈتوں کی کہانی کو نظر انداز کیا گیا۔

لیکن فلم کا پیغام کیا تھا؟ آپ اسے کئی طریقوں سے سمجھ سکتے ہیں۔

ایک جسے آپ نے اپنے اردگرد ہونے والے مباحثوں میں سنا۔ یا جب 'کشمیر فائلز' تھیٹروں میں چل رہی تھی، تب سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں لوگ فلم دیکھ کر روتے ہوئے وویک اگنی ہوتری کے پاؤں چھونے لگے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

کچھ ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں جن میں فلم ختم ہوتے ہی کچھ لوگ مسلمان لڑکیوں سے شادی کرتے اور بچوں کو جنم دیتے یا متشدد مزاج کے ساتھ نظر آئے۔

یہ ویڈیوز ہمیں مسئلہ کشمیر پر مبنی فلم 'حیدر' کے ڈائیلاگ کی یاد دلاتی ہیں، ’انتخاب سےصرف انتقام بڑھتا ہے‘۔ پھر کیا وجہ تھی کہ کشمیری پنڈتوں پر بننے والی 'شکارہ' اور 'کشمیر فائلز' جیسی فلموں کو عوام نے پسند نہیں کیا۔

کشمیری پنڈت سنجے کاک نے بی بی سی کو بتایا کہ 'دی کشمیر فائلز نے کہانی کو بالکل ویسا ہی بتایا جیسا کہ دائیں بازو کے حامی چاہتے تھے۔ 'شکارہ' اپنے معیار پر پورا نہیں اتری اور اسی لیے تنقید کی زد میں آ گئی لیکن 'کشمیر فائلز' کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ پورا ایکو سسٹم اسے دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر اور سنیما ماہر آشیش ترپاٹھی کہتے ہیں کہ ’یہ فلم اس لیے مقبول ہوئی کیونکہ اس سوچ کے لوگ سماج اور سیاست میں پروان چڑھے ہیں۔‘

ان کے مطابق میڈیا دائیں بازو کے لیے بہت اچھا کام کر رہا ہے، سنیما اس کا ایک حصہ ہے۔ ایک پوری لابی ہے جو اس سوچ کے لیے کام کر رہی ہے۔ 'کشمیر فائلز' اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ 'کشمیر فائلز' کے کچھ مناظر آپ کو سکون دیتے ہیں۔ جو لوگ اس فلم کو ناپسند کرتے ہیں انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسا کسی اور کے ساتھ ہوا ہے۔

لیکن 'کشمیر فائلز' ایک اچھا آرٹ یا فلم نہیں ہے کیونکہ یہ کہانی کو یک طرفہ انداز میں بیان کرتی ہے اور صرف یہی نہیں ہوا، اس کے خلاف اور بہت کچھ ہوا ہے۔ آرٹ کے کام ہمیں وہ انسانی پہلو دکھانا بھی ہے جو ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ ہمیشہ ماضی کی قید میں رہیں گے۔

ایک پروپیگنڈا فلم ہمیشہ بُری فلم نہیں ہوتی۔ لیکن 'کشمیر فائلز' ایک بُری پروپیگنڈا فلم ہے کیونکہ یہ معاشرے میں پابند عناصر کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے۔ یہ فلم کمزوروں پر حملہ آور ہوتی ہے۔

یہ فلم 'کشمیر فائلز' تھی جسے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی چیف جیوری نداو لپڈ نے 'پروپیگنڈا' اور 'فحش' قرار دیا۔

پروفیسر ایرا بھاسکر کہتی ہیں کہ ’میں نے کشمیر کے پس منظر پر بنی فلم 'حیدر' کا مطالعہ کلاس میں کیا۔ پھر میں نے 'کشمیر فائلز' دیکھی۔ میں کافی حیران تھی۔ 'کشمیر فائلز' نے نہ صرف فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ کہانی کو یک طرفہ بھی دکھایا۔ میں جانتی ہوں کہ کشمیری پنڈتوں کا تجربہ کیا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ بھی زیادتی تھی۔

ایرا بھاسکر نے 'کشمیر فائلز' کی تشہیر پر کہا کہ ’فلم کے ٹکٹ مفت تقسیم کیے گئے تھے۔ قائدین نے بھرپور مہم چلائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلم کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ میں نے تاریخ میں نہیں دیکھا کہ ملک کا لیڈر ایسی فلم کی حمایت کرتا ہو۔ اگر وویک اگنی ہوتری کو جگہ دی جا رہی ہے تو دوسرے فلمسازوں کو بھی موقع ملنا چاہیے۔

اور فلم کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری نے ان تنازعات پر کہا کہ ’میں انڈیا کے لوگوں سے ایک سوال کا جواب پوچھنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے نام پر لوگوں نے مختلف کام کیے ہیں، فلمیں اور دیگر چیزیں کی ہیں، اس لیے مجھے یقین تھا کہ لوگوں کے کشمیر کے لیے دل دھڑکتے ہیں۔

’مجھے یقین تھا کہ اس فلم کا ستارہ صرف کشمیر ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ دن رات کشمیر کو چھڑاتے ہیں، ان کے دل میں اتنا کشمیر ہوگا کہ انھیں اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ فلم میں کون اسٹار ہیں اور کون نہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

India

،تصویر کا ذریعہSITARAMAM/POSTER

فلم 'سیتا رام' ایک محبت کی کہانی ہے جس میں ایک نامعلوم لڑکی سیتا مہالکشمی لیفٹیننٹ رام کو خط بھیجتی ہے۔ یہ دراصل شہزادی نورجہاں ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملے پھر پیار ہو گیا۔ کہانی میں کشمیر بھی آیا اور ہندو اور مسلمانوں کے مسائل بھی سامنے آئے۔

یہ ان چند فلموں میں سے ایک ہے جس میں فلم کے پاکستانی کرداروں کو انسانی اور جذباتی پہلو بھی دکھایا گیا ہے۔ جیسے پاکستانی لڑکی رام کا پیغام دینے کے لیے ادھر سے ادھر انڈیا میں گھوم رہی ہے۔

فلم کے کچھ مناظر میں جس طرح کشمیری پنڈتوں کے گھروں کو جلایا گیا یا مسلمانوں کی جانب سے انھیں بچانے کی کوششیں دکھائی گئیں، اس میں تازگی اور مثبت پہلو کا احساس ہوتا ہے۔

فلم 'اناتھ' میں لیفٹیننٹ رام لوگوں کو جوڑتے ہوئے نظر آئے تھے۔

ایک منظر میں جب انتہا پسند مارے جاتے ہیں تو رام پاس میں رکھا قرآن اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید آپ اپنی اگلی زندگی میں قرآن کا صحیح مطلب سمجھ سکیں!

یہاں اس بیان کو اس روایت سے جوڑ کر سوچیں جہاں ایک بڑی تعداد آبادی قرآن کی مختلف تشریح کرکے اپنی رائے دیتی ہے۔

فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوانوں کو مذہب کے نام پر گمراہ کیا جاتا ہے۔

اس ڈائیلاگ کی طرح ’مذہب کے نام پر جنگ ختم ہوئی تو انسان ہی رہ گئے۔‘ جو ہاتھ میں ہتھیار لے کر لڑتا ہے وہ صرف سپاہی ہے، لیکن وہ جو مذہب کو ہتھیار بناتا ہے۔۔۔ رام۔

فلم 'ویر زارا' کی کہانی کو فالو کرنے کے باوجود 'سیتا رام' نئی لگ رہی ہے۔ جب پیار آتا ہے تو نورجہاں یہ کہنے میں دیر نہیں لگاتی کہ اب میں نورجہاں نہیں ہوں مجھے سیتا کہہ کر پکارو۔

ایک مسلمان لڑکی کی رام نامی ہندو لڑکے سے محبت اور نام نہاد 'لو جہاد' کے دور میں ایک پاکستانی لڑکی کی رام کے لیے بڑھتی ہوئی عزت۔ 'سیتا رام' میں بھی ایسے کئی مناظر ہیں۔

'سیتا رام' میں رام کا کردار دولکوئر سلمان نے ادا کیا تھا اور شہزادی نورجہاں کا کردار مرونل ٹھاکر نے ادا کیا تھا۔ پروفیسر ایرا بھاسکر کہتی ہیں کہ 'سیتا رام جیسی فلمیں فرقہ وارانہ فاصلے بڑھانے کے بجائے کم کرنے کا کام کرتی ہیں۔

یہ ایک بہت ہی پیاری فلم ہے جس میں ہندو مسلم جوڑے کے رومانس کو دکھایا گیا ہے۔ جب فضا میں بہت زیادہ نفرت ہو تو نفرت کو کسی ایک منظر سے کم نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انڈیا کا ہر صوبہ ایک جیسا نہیں ہے۔ اگر آپ جنوبی انڈیا کی فلموں کو دیکھیں تو بہت اچھی فلمیں بنی ہیں۔

Akshay

،تصویر کا ذریعہYRF FILMS PR

پرتھوی راج چوہان کی موت کے تقریباً 350 سال بعد لکھی گئی 'پرتھوی راج راسو' (مصنف - چاند بردائی) پر مبنی فلم سمراٹ پرتھوی راج کو بی جے پی کی حکومت والی کئی ریاستوں میں ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک خصوصی سکریننگ میں فلم دیکھی۔

یہ بھی کہا گیا کہ مغلوں کے بارے میں بہت کچھ بتایا گیا ہے لیکن ہندو حکمرانوں کے بارے میں کوئی مکمل کام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی فلموں میں ہندو حکمرانوں کی کہانی سنائی گئی۔

لیکن اس سب کے باوجود فلم 'سمراٹ پرتھوی راج' زیادہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ نہیں کر سکی۔ عام لوگوں سے لے کر فلمی ناقدین تک، سبھی نے فلم 'سمراٹ پرتھوی راج' کو مسترد کر دیا۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ 'پرتھوی راج' ان فلموں میں سے ایک ہے جو مسلمانوں کو بیرونی اور ظالم حملہ آوروں سے جوڑنے کا کام کرتی ہے۔

تاریخ دان اروپ بنرجی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسی فلمیں ایک خاص نیت سے بنائی جا رہی ہیں۔ پرتھوی راج اپنی سرحد کی حفاظت کے لیے لڑا نہ کہ کسی مسلمان حملہ آور کے خلاف۔‘

ایسے میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پرتھوی راج چوہان کو استعمال کرنا غلط ہے۔ فلم کا مقصد اس خیال کو تقویت دینا تھا کہ ہندوؤں نے مسلمانوں پر فتح حاصل کر لی ہے۔

فلمی نقاد شبھرا گپتا کا کہنا ہے کہ 'اس طرح کی کئی فلمیں ماضی کی شان و شوکت کو بیان کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں تاکہ ناظرین اس میں کھو جائیں اور آج جو کچھ ہو رہا ہے اس پر توجہ نہ دیں'۔ یہ نہ صرف انڈیا میں بلکہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔‘

پروفیسر آشیش ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ’اب ایسی دور کی فلمیں بن رہی ہیں جو اکثریت کے جذبات کو بھڑکاتی ہیں۔ 'سمراٹ پرتھوی راج' جیسی کئی فلمیں اس کی مثالیں ہیں۔ ماضی میں ایسی کئی فلمیں بنی ہیں جن میں مسلم حکمرانوں کی منفی شبیہ پیش کی گئی ہے۔

یہ فلمیں ایسی کہانیوں کا انتخاب کرتی ہیں جو تاریخی نہیں ہوتیں۔ لیکن وہ غلط قسم کی تاریخ پیش کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ معاشرے میں پہلے سے موجود تضادات کو بڑھاتی ہیں۔ ایسی فلموں میں ایسے ہیرو نہیں چنے جاتے جو جوڑنے کی بات کرتے ہوں۔‘

Amir Khan

،تصویر کا ذریعہVIACOM 18 STUDIOS

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2022 میں کچھ اور فلمیں بھی آئیں۔ ان کہانیوں میں مذہب نہیں تھا۔ لیکن کچھ امید تھی۔

اس فہرست میں پہلا نام فلم 'لال سنگھ چڈھا' کا ہے۔ سنہ 1984 کے آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کا قتل اور بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہونے والے فسادات اور سنہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کا فلم کے کئی مناظر میں ذکر کیا گیا ہے۔ حالانکہ فلم میں سنہ 2002 کے فسادات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

عامر خان یعنی لال سنگھ چڈھا کے کردار کی والدہ اپنے بیٹے سے کہتی ہیں کہ جب فسادات ہوں تو گھر میں ہی رہنا، باہر مت نکلو، ملیریا باہر پھیلا ہوا ہے۔

لیکن اس فلم میں بھی محمد بھائی کے کردار کی مدد سے انڈیا میں رہنے والے اور بحیثیت انسان بہتری کی طرف بڑھنے والے ایک پاکستانی کی کہانی کو موضوع بنایا گیا ہے۔

دلجیت دوسانجھ کی فلم 'جوگی' 1984 کے سکھ فسادات کی کہانی ہے جو اس دور کے مصائب کو بیان کرتی ہے۔

India

،تصویر کا ذریعہPRIME VIDEO INDIA

اب سوال یہ ہے کہ فلم انڈسٹری میں کتنی تبدیلی آئی ہے اور فلموں کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی بڑھانے کی بات کرنا کتنا درست ہے؟

پروفیسر ایرا بھاسکر کہتی ہیں کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ہو رہی ہیں، لیکن وہ مرکزی دھارے کی فلموں میں نظر نہیں آتیں۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ دباؤ فلم سازوں پر ہے۔

کچھ ایسی مختصر فلمیں بھی ہیں جو اہم مسائل اور سوالات کو اٹھا کر بنائی جارہی ہیں۔ 'ملک' جیسی فلمیں بنتی ہیںلیکن بڑے پیمانے پر نہیں۔

پروفیسر ایرا کے مطابق ’فلمیں صرف تفریح ​​کا ذریعہ نہیں ہیں، یہ ایک آرٹ کی شکل ہیں اور فلم سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے لیے اہم مسائل پر بات کریں۔‘

پروفیسر آشیش کہتے ہیں کہ ’ہندی سنیما میں کمرشل فلموں میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن گووند نہلانی، شیام بینیگل جیسے بڑے فلم سازوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔

Film

،تصویر کا ذریعہSTOCK PHOTOS

فلمیں مذہبی دوریاں ختم کرنے میں کتنا بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں پروفیسر ایرا نے کہا کہ فلمیں مذاہب کے درمیان خلا کو بڑھانے یا پر کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ فلمیں سیاسی حل نہیں دے سکتیں، لیکن وہ ذہنیت کو بدل سکتی ہیں۔

ان کے مطابق اگر ایسا نہیں ہے تو موجودہ حکومت فلموں میں اتنی سرمایہ کاری کیوں کر رہی ہے؟ سوشل میڈیا سے لے کر فلموں تک وہ اپنے نظریے کو پھیلا رہے ہیں۔

پروفیسر ایرا کہتی ہیں کہ ہندی میں مرکزی دھارے کا سیاسی ماحول مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرا ہوا ہے۔ ایسی فلمیں بنانا مشکل ہے جو فاصلے کم کرنے کا کام کرے۔

اگر یہ فلمیں بنتی بھی ہیں تو انھیں کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کئی بڑے اداکار وہی باتیں دہرا رہے ہیں جو اعلیٰ قیادت کہتی ہے۔ وہ خود کو اس سے الگ نہیں رکھ رہے ہیں۔

ایک فنکار کے طور پر جب آپ کو اہم چیزوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے تو آپ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

پروفیسر آشیش ترپاٹھی بھی کچھ ایسا ہی کہتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ ویر حمید پر آج تک کوئی فلم نہیں بنی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا، جنھوں نے ایک سچے بیٹے کا فرض ادا کیا ہے۔ ان ہندوؤں کے بارے میں بھی بات نہیں کریں گے جنھوں نے غدار کا کردار ادا کیا۔‘

’سنیما کی معاشیات نے انھیں بہت متاثر کیا ہے۔ فلم دیکھنے والوں کی بڑی تعداد متوسط ​​طبقے کے ہندوؤں سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسے میں سنیما بھی اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اب سیکولر سینما کم ہو گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سماج اور سیاست میں سیاسی اور سماجی قوتیں کمزور ہوں گی، تب ہی وہ سینما بدلے گا۔ یہ ایک ایسا فن ہے جو سامعین کی دلچسپی سے ہی متاثر ہوتا ہے۔

’مذہبی اختلافات اکثر فسادات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے میں 'ماڈرن لو ممبئی' سیریز کی کہانی 'بائی' میں فسادات سے بچانے اور مذہب کے ماننے والوں کے درمیان قربت بڑھانے کا طریقہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

کہانی کے ایک منظر میں جب گھر کی بوڑھی دادی فسادیوں کے لیے گیٹ کھولتی ہیں تو وہ واپس لوٹ جاتی ہیں۔ بعد میں جب بائی سے پوچھا گیا کہ انھوں نے فسادیوں سے کیا کہا؟ تو جواب ملتا ہے کہ ’پیسہ دیا گیا تھا۔ نفرت پھیلانے والے اکثر لوگ بازاری ہوتے ہیں۔ پیسے دیے، چھوڑ دیا۔‘