’بابا، مجھے موت کی سزا ہوئی ہے، امی کو کچھ مت بتانا‘

محمد مہدی

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

،تصویر کا کیپشنمحمد مہدی
    • مصنف, مریم افشنگ
    • عہدہ, بی بی سی فارسی

ایران کی حکومت ملک بھر میں مظاہروں کی لہر کے آغاز سے اب تک چار نوجوانوں کو پھانسی دے چکی ہے۔

ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی، جو ایران سے جڑی خبروں پر ملک کے باہر سے نظر رکھتی ہے، کے مطابق مجموعی طور پر اب تک 22 افراد کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

سات جنوری کو ایک 22 سالہ کراٹے چیمپیئن محمد مہدی کریمی کی سزائے موت پر عمل کیا گیا۔

بی بی سی فارسی کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کو اپنا دفاع کرنے کے لیے صرف 15 منٹ دیے گئے تھے اور گرفتاری کے صرف 65 دن بعد ان کو پھانسی دے دی گئی۔

ان کی کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے دلوں میں خوف بٹھانے کے لیے کس طرح مقدمات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں علی رضا اکبری، جو ایران کے ساتھ ساتھ برطانوی شہریت بھی رکھتے تھے، کو پھانسی دی گئی جس کے بعد دنیا بھر میں ایران میں سزائے موت کے رواج کی مذمت کی گئی۔

اگرچہ علی رضا اکبری، جنھیں برطانوی جاسوس ہونے کے الزام میں سزا دی گئی، کا مقدمہ حکومت مخالف مظاہروں سے جڑا ہوا نہیں ہے تاہم ان کا اعترافی بیان اور قید تنہائی بالکل اسی طرح کا سلوک ہے جیسا مظاہرین کے ساتھ جیلوں میں روا رکھا جا رہا ہے۔

’امی کو کچھ مت بتانا‘

ایران

،تصویر کا ذریعہWANA/REUTERS

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کی ابتدا ستمبر میں اس وقت ہوئی جب مہسا امینی نامی خاتون کی پولیس کی حراست میں موت ہوئی جن کو درست طریقے سے حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

محمد مہدی کو ایران کی نیم فوجی تنظیم کے ایک رکن کے قتل کے الزام میں تین نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کیس میں گرفتار 16 دیگر ملزمان کے ساتھ ان کے خلاف مقدمہ تین دن تک بغیر وقفے کے چلتا رہا۔

ایران میں ملزم کو قانونی نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے لیکن اس طرح کے حساس مقدمات میں یا پھر جاسوسی کے الزام کے مقدمات میں یہ نمائندگی مکمل طور پر آزادانہ نہیں ہوتی بلکہ عدالت کی جانب سے ایک منظور شدہ فہرست میں سے کسی وکیل کی تعیناتی کردی جاتی ہے۔

ایسے مقدمات میں صحافیوں اور خاندان کے اراکین کو عدالت میں داخلے سے روک دیا جاتا ہے اور بند دروازے کے پیچھے کی کہانی کا واحد ذریعہ صرف وہ فوٹیج ہوتا ہے جو عدالتی حکام خود جاری کرتے ہیں۔ اکثر یہ فوٹیج ایڈٹ کی جاتی ہے۔

اس مقدمے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محمد مہدی پریشانی کے عالم میں اعتراف کرتے ہیں کہ انھوں نے سکیورٹی فورس کے رکن کے سر پر پتھر مارا تھا۔

ایران

،تصویر کا ذریعہWANA/REUTERS

عدالت کی جانب سے ان کے دفاع کے لیے نامزد وکیل اس دعوے کی نفی نہیں کرتے اور جج سے معافی کی درخواست کرتے ہیں۔

محمد مہدی پھر یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ان کو ’بیوقوف‘ بنایا گیا۔

محمد مہدی کو ’زمین پر کرپشن‘ کا مرتکب پایا گیا جس کی سزا موت ہے۔

ایران میں عام طور پر حکام کی جانب سے خاندان پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ خاموش رہیں لیکن محمد کے والد ماشا اللہ کریمی نے ایرانی اخبار اعتماد کو انٹرویو دیا۔

اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جس دن محمد کو سزا سنائی گئی، اس نے ان کو روتے ہوئے فون کیا۔

’بابا، انھوں نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ مجھے موت کی سزا ہوئی ہے۔ امی کو کچھ مت بتانا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا معصوم تھا۔

تشدد کی ہولناک داستان

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

1500 امیجز نامی ایک نامعلوم گروہ کی جانب سے بعد میں سوشل میڈیا پر بتایا گیا کہ محمد مہدی پر قید کے دوران تشدد کیا گیا۔

اس پوسٹ میں بتایا گیا کہ محمد نے جیل میں ملاقات کے دوران اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ کس طرح گارڈز کے تشدد سے وہ بیہوش ہو گئے تھے۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ محمد کے مطابق گارڈز نے انھیں مردہ سجھ کر ایک جگہ چھوڑ دیا لیکن کچھ ہی دیر بعد ان کو احساس ہوا کہ ابھی وہ زندہ ہیں۔

محمد نے یہ بھی بتایا کہ ’سکیورٹی ایجنٹ تفتیش کے دوران ان کے جسم کے نازک اعضا کو چھو کر انھیں ریپ کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔‘

ایران کے نظام قانون میں جب ایک عدالت موت کی سزا سناتی ہے تو معاملہ منظوری کے لیے ملک کی سپریم کورٹ جاتا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے کی توثیق کے بعد بھی اپیل کی جا سکتی ہے۔

محمد مہدی کے والد نے اعتماد اخبار کو بتایا کہ انھوں نے حکومت کی جانب سے تعینات وکیل سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو کوئی جواب نہیں ملا۔

محمد کے خاندان نے ان کے بعد ملک میں انسانی حقوق کے نامور وکیل محمد حسین کو کیس کے لیے نامزد کرنے کی کوشش کی۔

محمد حسین کے مطابق ’محمد نے جیل سے مجھے تین بار فون کیا اور اپنی نمائندگی کرنے کے لیے کہا۔ ان کے والدین نے بھی کیس لینے کے لیے مجھ سے بات کی۔‘

محمد حسین کے مطابق انھوں نے مقامی عدالت اور سپریم کورٹ کو خط لکھا لیکن ان کے خطوط کو رد کر دیا گیا۔

تنہائی کا شکار

REUTERS

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحمد حسینی

محمد حسینی کو بھی اسی طرح کے مقدمے میں سزا پانے کے بعد پھانسی کی سزا دی گئی۔

ان کے والدین حیات نہیں ہیں اس لیے خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پر کوئی مہم تو سامنے نہیں آئی لیکن کئی افراد نے ایک ایسی پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ہوا تھا کہ ’ہم سب محمد کا خاندان ہیں۔‘

بی بی سی فارسی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار تھے۔

تاہم محمد حسینی کو اس وقت آزادانہ طور پر دفاع کا حق ملا جب سپریم کورٹ نے ان کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔

وکیل علی شریف زادہ ان سے جیل میں ملے جس کے بعد انھوں نے ٹؤٹر پر اس ملاقات کا احوال بتایا۔

’وہ روتا رہا۔ اس نے تشدد کے بارے میں بتایا کہ کیسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے مارا گیا، سر میں لاتیں ماری گئیں اور وہ بے ہوش ہو گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسا شخص ہے جس سے تشدد کے بعد اعترافی بیان لیا گیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘

SOCIAL MEDIA

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

علی شریف زادہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کاغذات جمع کروائے تو ان سے کہا گیا کہ وہ سات جنوری کو عدالت واپس آئیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب وہ سات جنوری کو روانہ ہوئے تو ان کو پتہ چلا کہ محمد حسینی کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان کو بھی حکام نے حراست میں لے لیا اور اس وقت وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی میں ایسے مقدمات میں تشدد سے اعتراف کروایا جاتا ہے۔

بی بی سی فارسی کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ریاست کی جانب سے نامزد وکیل ایک تفتیش کار کی طرح برتاؤ کرتا ہے اور ملزم کا دفاع کرنے کی بجائے اس پر دباؤ بڑھاتا ہے۔

ناروے میں موجود ایران ہیومن رائٹس نامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق اس وقت 190 افراد کے سر پر پھانسی کی سزا کی تلوار لٹک رہی ہے۔

ان میں سے 60 افراد کی اوسط عمر 27 سال ہے جبکہ تین کی عمر 18 سال سے کم ہے۔

ایران کے سوشل میڈیا پر اس صورت حال میں کئی دردناک تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔

ایک تصویر میں ماشااللہ کریمی اپنے بیٹے کا پیلے رنگ کا جمپر تھامے ان کی قبر پر جھکے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک ہاتھ میں محمد کی تصویر تھام رکھی ہے جبکہ دوسرے ہاتھ سے اپنا گلا دبا رکھا ہے۔