90 ہزار کیمروں کی مدد سے قائم کیا گیا طالبان کا نگرانی کا نظام جس کی مدد سے کابل کے 60 لاکھ شہریوں پر نظر رکھی جاتی ہے

    • مصنف, محجوبہ نوروزی
    • عہدہ, بی بی سی افغان سروس

یہ ایک کنٹرول سینٹر ہے جہاں چاروں طرف درجنوں سکرینیں لگی ہوئی ہیں اور طالبان پولیس یہاں 90 ہزار کیمروں کے ذریعے کابل میں رہائش پزیر لاکھوں افراد کی نگرانی کرتی ہے۔

طالبان پولیس کے ترجمان خالد زادران ایک سکرین طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم یہاں بیٹھ کر پورے کابُل کی نگرانی کرتے ہیں۔‘

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے اس نظام کے ذریعے جرائم کے خلاف لڑنے میں مدد ملے گی لیکن اُن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے طالبان اپنے مخالفین پر نظر رکھیں گے اور خواتین سے متعلق سخت اخلاقی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

بی بی سی وہ پہلا بین الاقوامی صحافتی ادارہ ہے جسے طالبان کے نگرانی کے اس نظام کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

کنٹرول روم کے اندر پولیس اہلکار بیٹھے ہیں اور اُن کے سامنے لگی سکرینوں پر ہزاروں کیمروں کی مدد سے سڑکوں، گلیوں اور محلوں کے براہِ راست مناظر نظر آ رہے ہیں۔ یہاں سے بیٹھ کر وہ کابُل میں رہنے والے 60 لاکھ افراد کی زندگیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

کار کی نمبر پلیٹس سے لے کر شہریوں کے چہروں کے تاثرات تک ہر چیز کی نگرانی اسی کنٹرول سینٹر سے ہو رہی ہے۔

خالد زادران کا کہنا ہے کہ ’کچھ محلوں میں جب ہم مشتبہ گروہوں کو دیکھتے ہیں یا ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو کہ منشیات کا استعمال کر رہے ہوں، جرائم کر رہے ہوں یا کوئی اور مشکوک کام ہو رہا ہو تو ہم فوراً مقامی پولیس سے رابطہ کرتے ہیں۔‘

’پھر وہ فوراً وہاں پہنچ کر تحقیقات کرتے ہیں۔‘

افغانستان میں پچھلی حکومت کے دور میں طالبان اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی جانب سے آئے روز ہی حملے ہوتے تھے اور اغوا اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں ہوتی تھیں۔ جب سنہ 2021 میں طالبان نے افغانستان کا دوبارہ کنٹرول سنبھالا تو انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے۔

افغانستان کے دارالحکومت میں کیمروں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان امن و امان کے قیام کے لیے جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

ماضی میں کابل کی سکیورٹی پر مامور فورسز کے ایک ترجمان کے مطابق پہلے افغان دارالحکومت میں صرف 850 کیمرے نصب تھے۔

تاہم پچھلے تین برسوں میں طالبان حکام نے ایسے اقدامات بھی لیے ہیں جس سے لوگوں خصوصاً خواتین کے حقوق اور آزادی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

خیال رہے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

بی بی سی کو جو نگرانی کا نظام دکھایا گیا ہے اس میں لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے ’فیشل رکگنیشن‘ یعنی چہرے کے ذریعے شناخت کا آپشن بھی موجود ہے۔

خالد زادران سکرین پر نظر آنے والی پُرہجوم سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جن دنوں مطلع صاف ہوتا ہے اس دن ہم کئی کلومیٹر دور موجود لوگوں کے چہرے بھی زوم کر کے دیکھ سکتے ہیں۔‘

کنٹرول سینٹر میں بیٹھے ہوئے لوگ کیمروں کے ذریعے طالبان پولیس اہلکاروں کی بھی نگرانی کرتے ہیں۔ جب چیک پوسٹس پر کھڑے پولیس اہلکار کسی گاڑی کو روکتے ہیں اور اس کی چیکنگ کرتے ہیں تو کنٹرول سینٹر میں بیٹھے ہوئے لوگ زوم کر کے دیکھتے ہیں کہ گاڑی میں کیا سامان رکھا ہوا ہے۔

طالبان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کیمروں کے سبب ’حفاظتی اقدامات بہتر ہوئے ہیں، جرائم کا تناسب کم ہوا ہے اور مجرم بھی جلدی پکڑے جا رہے ہیں۔‘

وزارت کا مزید کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کمیروں اور موٹرسائیکل پولیس سکوڈ کے سبب 2023 اور 2024 میں جرائم میں 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

بی بی سی اسے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان طالبان کے پاس موجود نگرانی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشل کا کہنا ہے کہ ’قومی سلامتی‘ کی آڑ میں کیمرے نصب کر کے طالبان اپنی ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھ رہے ہیں جن کے تحت ’افغانستان کے لوگوں خصوصاً خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں‘ کی جاتی ہیں۔

افغانستان میں رائج قانون کے تحت گھروں کے باہر خواتین کی آواز تک سُنائی نہیں دینی چاہیے لیکن اس قانون پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا۔ ملک میں کم عمر لڑکیوں کو بھی تعلیم حاص کرنے کی اجازت نہیں اور خواتین کے ملازمت کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں نرسنگ کی تربیت حاصل کرنے والی خواتین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کلاسز میں دوبارہ واپس نہ آئیں۔

فریبا (فرضی نام) اپنے والدین کے ساتھ کابل میں رہتی ہیں اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک وہ ملازمت نہیں تلاش کر پائی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں ’خدشات پائے جاتے ہیں کہ سرویلنس کیمروں کا استعمال خواتین کی حجاب کی نگرانی کے لیے ہو گا۔‘

طالبان کا کہنا ہے کہ نگرانی کے نظام تک رسائی صرف کی پولیس کو دی گئی ہے جبکہ اخلاقی پولیس کو اس تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔

لیکن فریبا کو خدشہ ہو کہ نگرانی کا نظام طالبان کی حکومت کے مخالفین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

’بہت سارے افراد، سابق فوجی اہلکار، انسانی حقوق کے کارکنان اور احتجاج کرنے والی خواتین روزانہ آزادانہ طور پر حرکت کرنے میں گھبراتے ہیں اور خفیہ طریقے سے زندگیاں گزار رہے ہیں۔‘

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ڈیٹا کی حفاظت کے قوانین موجود نہیں ہیں جس کے ذریعے سی سی ٹی وی کیمروں سے لی گئی ویڈیو کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

طالبان کی پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو صرف تین مہینوں تک محفوظ رکھا جاتا ہے، جبکہ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ کیمرے کسی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی نہیں کرتے کیونکہ ’یہ نظام ایک خصوصی اور مکمل طور پر خفیہ کمرے سے چلایا جاتا ہے جہاں ایک پیشہ ور شخص اس کا ذمہ دار ہے۔‘

بظاہر یہ کیمرے چینی ساختہ لگتے ہیں۔ کنٹرول روم میں لگے مانیٹرز پر چلنے والی ویڈیو فیڈ پر ’داہوا‘ لکھا ہوا نظر آتا ہے جو کہ چینی حکومت سے منسلک ایک کمپنی ہے۔

پہلے بھی ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ طالبان کیمروں کی خریداری کے لیے چینی کمپنی ہواوے سے بات چیت کر رہے ہیں لیکن طالبان نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

نگرانی کے اس نظام پر خرچ ہونے والی کچھ رقم کے کچھ حصے کا بوجھ بھی افغان شہری اُٹھا رہے ہیں۔

شیلا (فرضی نام) وسطی کابل کی رہائشی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کہا گیا تھا کہ ان کے گھر کے قریب لگنے والے کیمروں کی قیمت ادا کریں۔

’انھوں نے ہر گھر سے ایک ہزار افغانی کا مطالبہ کیا تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جن خواتین کے پاس یہاں ملازمتیں ہیں وہ بھی صرف ماہانہ ہزار افغانی (68 ڈالر) کماتی ہیں، ایسے میں کیمروں کے لیے ایک ہزار افغانی دینا مشکل ہے۔

افغانستان کی معیشت اب بھی بحران کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں تین کروڑ افراد کو اب بھی امداد کی ضرورت ہے۔

شیلا کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں نے کیمروں کے لیے پیسے دینے سے انکار کیا انھیں دھمکی دی گئی کہ تین دنوں کے لیے ان کی بجلی اور پانی بند کر دیا جائے گا۔ ہمیں اس رقم کی ادائیگی کے لیے قرض لینا پڑا ہے۔‘

’لوگ بھوک سے بِلک رہے ہیں، ایسے میں ان کیمروں کا کیا فائدہ؟‘

دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ اگر لوگ اس رقم کی ادائیگی نہیں کرنا چاہتے تو وہ باقاعدہ شکایت درج کروا دیں۔

طالبان کی پولیس کے ترجمان خالد زادران کا کہنا ہے کہ یہ پیسے رضاکارانہ طور پر دیے گئے تھے۔

تاہم ملک کے اندر اور ملک کے باہر نگرانی کے اس نظام کے استعمال کے حوالے سے تحفظات ابھی بھی پائے جاتے ہیں۔

کابل میں موجود سبزی فروش جابر کہتے ہیں کہ ان کیمروں کے ذریعے افغانستان کے لوگوں کو محسوس کروایا جا رہا ہے کہ وہ بےبس ہیں۔

’ہمارے ساتھ یہاں کچرے جیسا سلوک کیا جاتا ہے، پیسے کمانے کا موقع نہیں دیا جاتا اور حکام ہمیں بلکل بےقیمت سمجھتے ہیں۔‘