ایلون مسک کا ٹوئٹر کے ملازمین کم کرنے کا دفاع، ہزاروں متاثر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے کمپنی آدھے ملازمین کو برطرف کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس 'کوئی چارہ نہیں تھا' کیونکہ ٹوئٹر کو روزانہ چار ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔
ٹوئٹر کے سیفٹی اور اخلاقی اصول کے سربراہ یوئل روتھ کی طرف سے ایک ٹویٹ میں 'کمپنی بھر میں تقریباً 50 فیصد کمی' کا حوالہ دیا گیا ہے۔
لیکن ایلون مسک نے کہا کہ مواد کے موڈریشن (یعنی اسے اعتدال پسند بنانے) کے معاملے میں سوشل میڈیا کمپنی کے عہد میں 'کوئی تبدیلی بالکل نہیں ہوئی ہے۔'
واضح رہے کہ حال ہی میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے 44 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت اس سوشل میڈیا پلیٹفارم کی ملکیت حاصل کی ہے۔
ارب پتی تاجر نے اپنی ٹویٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ملازمت سے محروم ہونے والے تمام افراد کو تین ماہ کی تنخواہ کی پیشکش کی گئی ہے، جو قانونی طور پر مطلوبہ واجب الادا رقم سے 50 فیصد زیادہ ہے۔
جب جمعہ کو سٹاف میں کٹوتی کی خبریں سامنے آئیں تو سوشل میڈیا سے نقصان دہ مواد کو ہٹانے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے۔
آن لائن سیفٹی گروپس اور مہم چلانے والوں نے عندیہ دیا ہے کہ مسٹر مسک اعتدال پسندی کی پالیسیوں میں نرمی کر سکتے ہیں اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متنازع شخصیات پر ٹوئٹر کی جانب سے عائد مستقل پابندیوں کو واپس لے سکتے ہیں۔
ان خدشات کو جمعہ کے روز ایلون مسک کے تبصروں سے تقویت ملی ہے جس میں ٹویٹر کی 'آمدنی میں بڑے پیمانے پر کمی' کا الزام 'ایکٹوسٹ گروپس' پر لگایا گیا ہے جو 'امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہtwitter
دنیا بھر میں ٹوئٹر کے ملازمین متاثر
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے کہا کہ '(افرادی) قوت میں کمی' کے معاملے میں ٹوئٹر کے ٹرسٹ اور سیفٹی شعبے میں کام کرنے والوں میں سے تقریباً 15 فیصد ہی متاثر ہوئے ہیں جو کہ ان کے مطابق دوسرے شعبوں میں ہونے والی 50 فیصد کٹوتیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
مسٹر روتھ نے مزید کہا کہ وسط مدتی امریکی انتخابات کے دوران غلط معلومات کا مقابلہ کرنا 'اولین ترجیحات' میں شامل ہے۔ زیادہ تر امریکی منگل کو جو بائیڈن کی صدارت کے معاملے میں ایک اہم انتخاب میں ووٹ ڈالیں گے۔
صدر بائیڈن نے جمعہ کے روز ٹوئٹر کو مسٹر مسک کے ذریعے حاصل کیے جانے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ایلون مسک باہر جا کر ایک ایسا لباس خریدتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں جھوٹ پھیلاتا ہے۔۔۔ہم بچوں سے یہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ کیا خطرہ ہے؟'
جیسے ہی ملازمتوں میں کٹوتیوں کا پیمانہ واضح ہونے لگا ٹوئٹر کی طرف سے کیلیفورنیا میں حکام کو فراہم کیے گئے نوٹس سے معلوم ہوا کہ صرف اس امریکی ریاست میں ہی تقریباً 983 ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی فائلوں کے مطابق یہ سان فرانسسکو میں 784، سان ہوزے میں 106، اور لاس اینجلس میں 93 ملازمین سے متعلق ہے۔
جمعہ کے روز پہلے عملے کو بھیجی گئی ایک انٹرنل ای میل میں کہا گیا تھا کہ 'بدقسمتی سے کمپنی کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کٹوتیاں ضروری ہیں۔'
بہت سے عملے نے ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ انھیں ان کے کام کرنے والے لیپ ٹاپ اور ان کے میسجنگ سسٹم 'سلیک' سے لاگ آؤٹ کر دیا گيا ہے۔
بہت سے سٹاف نے انکشاف کیا کہ انھیں پلیٹ فارم کی پوسٹوں سے ہٹا دیا گیا تھا جو کہ دنیا بھر میں مارکیٹنگ سے لے کر انجینئرنگ تک کے شعبوں میں پھیلی کٹوتیوں کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
کئی ملازمین نے ٹوئٹر پر ہی کہا ہے کہ ان کا لاگ ان بلاک کر دیا گيا ہے اور ان کے سسٹم سے ریموٹلی ڈیٹا ہٹا دیے گئے ہیں۔
کئی معروف برانڈز نے ٹوئٹر سے اپنے اشتہارات ہٹائے
خیال رہے کہ ٹویٹر کی تقریباً تمام آمدنی اس وقت اشتہارات سے آتی ہے لیکن جب سے ایلون مسک اس کے مالک بنے ہیں ووکس ویگن جیسے کئی برانڈز نے ٹوئٹر پر اپنے اشتہارات دینے بند کردیے۔
یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی نے کہا کہ 'ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس میں ہونے والی پیش رفت کے لحاظ سے اگلے اقدامات کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔'
پلیٹ فارم پر معاوضہ کے ساتھ اپنے اشتہار دینے والے دیگر بڑے برانڈز میں کار فرم جنرل موٹرز اور آڈی، اور بڑی دوا ساز کمپنی فائزر کے ساتھ فوڈ بنانے والی کمپنی جنرل ملز بھی شامل ہیں۔










