چوڑیوں کے لیے مشہور انڈیا کا شہر، جہاں نالیوں میں سونا بہتا تھا

چوڑیاں

،تصویر کا ذریعہXavier Galiana/Getty Images

،تصویر کا کیپشنفیروزآباد اپنی چوڑیوں کے لیے ملک بھر میں بہت مشہور ہے

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے معروف شہر فیروز آباد کو ’شیشے اور کانچ‘ کا دارالحکومت کہا جاتا ہے جو روایتی کانچ کی چوڑیاں تیار کرنے کے لیے سب سے مشہور ہے لیکن یہ شہر ایک اور خزانے کا منبع ہے جو انتہائی پوشیدہ ہے۔

میری والدہ نے فیروز آباد شہر کے اپنے گھر میں 30 سال قبل پیش آنے والے ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ساڑھی کو جلایا اور اس میں سے خالص چاندی کا ایک پتلا ٹکڑا نکال کر ہمارے حوالے کیا۔‘

ان کی کہانی کا آدمی کوئی جادوگر نہیں تھا بلکہ پرانی ساڑھیوں سے سونے چاندی کے تار نکالنے والا تھا۔

میری والدہ کے آبائی شہر میں اس طرح کے بہت سے کاریگروں کی طرح وہ بھی گھر گھر جا کر پرانی ساڑھیاں جمع کرتے اور ان میں سے قیمتی دھاتوں کو نکالتے۔

1990 کی دہائی تک وہاں کی بنی ساڑھیوں میں اکثر خالص چاندی اور سونے کا استعمال ہوتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ میں اپنی ماں کی الماری میں ان کے زرق برق لباس کو تلاش کرتی جیسے میں کوئی خزانہ تلاش کر رہی ہوں لیکن جیسا کہ میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ کپڑوں میں اس بھی زیادہ قیمتی چیزیں تلاش کرتے تھے، وہ اس کوڑے کی تلاش میں ہوتے تھے جو اس شہر کا مخصوص کوڑا تھا۔

اب ہماری گاڑی ایک بار پھر فیروزآباد کی جانب رواں دواں ہے اور ہم یہ جاننے جا رہے ہیں کہ اب اس تلاش کے کام میں کس قسم کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ فیروز آباد شہر تاج محل والے شہر آگرہ سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ اب قیمتی دھاتوں کے بجائے کانچ کی چوڑیوں کے لیے مشہور ہے

لیکن مجھے پتا چلا کہ کچھ محنتی کاریگروں کے لیے، یہ شہر سونے کی کان سے کم نہیں تھا، یہ ایک ایسا شہر تھا جہاں کبھی نالیوں میں قیمتی دھات بہا کرتی تھی۔

اسے سنہ 1354 میں دلی کے سلطان فیروز شاہ تغلق نے قائم کیا تھا۔ یہ ایک محل والے شہر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے بارے میں فیروز شاہ کے درباری مورخ شمسِ سراج کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ یہ شاہ جہان آباد (آج کی پرانی دلی یا فصیل کے اندر والے شہر) سے دوگنا تھا۔

واضح رہے کہ شاہ جہان آباد یا پرانی دلی کو اسی بادشاہ نے آباد کیا تھا جنھوں نے تاج محل کو تعمیر کروایا تھا۔

سونے نکالنے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہRamsha Zubairi

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’فارگاٹن سٹیز آف دلی‘ کی مصنف اور مؤرخ رعنا صفوی کے مطابق یہ ’بعد میں مغل دور کے قلعوں کے لیے ایک نمونے کے طور پر استعمال کیا گیا کیونکہ اس میں پہلی بار عوام کے لیے دیوان عام اور شرفا کے لیے دیوان خاص کے تصور پر مبنی ایوان متعارف کرائے گئے۔‘

صفوی کا کہنا ہے کہ اس پرانے شہر کے اب بہت کم آثار باقی ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ فیروز آباد کی آج بھی اپنی ایک شان ہے۔

جوں ہی میں شہر میں داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ تقریباً ہر گلی میں ٹھیلوں اور ٹرکوں پر چوڑیوں کو لے جایا جا رہا ہے۔

ہندوستانی روایت میں کنگن اور چوڑیاں ایک اہم مقام رکھتی ہیں، جو شادی شدہ خواتین اور نئی دلہنوں کے لیے خوشحالی اور خوش قسمتی کی علامت ہیں اور یہ تقریباً تمام خواتین کی کلائیوں میں نظر آتی ہیں جبکہ نئی نویلی دلہنیں تو بازو تک بھی چوڑیاں پہنتی ہیں۔

آج یہاں کانچ کی چوڑیوں کے تقریباً 150 کارخانے ہیں اور ایسے میں حیرت نہیں کہ اسے چوڑیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔

اس ہنر کی تاریخ کم از کم 200 سال پیچھے کو جاتی ہے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ فیروز شاہ کے حکم پر بہت سے لوگ راجستھان سے ہجرت کرکے وہاں پہنچے تھے جنھیں زیورات کی اس قسم کے بنانے میں مہارت حاصل تھی۔

انھوں نے اپنے اس ہنر کو مقامی فنکاروں کو سکھایا اور وقت کے ساتھ اس صنعت میں ترقی ہوتی گئی اور یہاں شیشے کی بوتلیں اور فانوس بھی بننے لگے اور ان کی شاہی درباروں اور رئیسوں کی طرف سے بہت زیادہ مانگ ہونے لگی۔

جب پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد غیر ملکی درآمدات پر پابندیاں عائد ہو گئیں تو فیروز آباد کی شیشے کی صنعت میں زبردست ترقی ہوئی۔ سنہ 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد، یہ جلد ہی انڈیا کا شیشہ اور چوڑی کا سب سے بڑا سپلائر بن گیا اور آج ملک کی شیشے کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد حصہ یہاں سے وابستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شیشے کی صنعت سے وابستہ مقامی لوگوں اور رہائشیوں سے بات چیت کے بعد میرے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی کہ فیروز آباد میں ایک اور قیمتی شے پیدا ہوتی ہے اور وہ سونا ہے۔

روایتی طور پر شہر میں تیار کی جانے والی شیشے کی چوڑیاں خالص سونے کی پالش سے مزین ہوا کرتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس عمل کے دوران استعمال ہونے والی بہت سی دوسری اشیا بھی قیمتی دھات کے رابطے میں آئیں جن میں پولش سے بھری بوتلیں اور کنٹینر، بفنگ کے لیے استعمال ہونے والے کپڑے کے سکریپ، وہ ٹوکریاں جن میں تیار شدہ اور پالش شدہ چوڑیاں رکھی جاتی تھیں، اور یہاں تک کہ چوڑیوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے بھی شامل تھے۔

یہ کارخانوں، ورکشاپ اور کاریگروں کے گھروں سے نکل کر شہر کی سیوریج پائپ لائنوں میں پہنچ جاتے تھے جو کہ ممکنہ طور پر دولت کا ایک خفیہ سلسلہ تھے۔ جب انھیں جمع کرکے صاف کردیا جاتا تو پھر ان سے قیمتی دھات نکالنے کا کام کیا جاتا۔

سونے کا پانی چڑھانے کا ہنر

،تصویر کا ذریعہXavier Galiana/Getty Images

،تصویر کا کیپشنسونے کا پانی چڑھانے کا ہنر

فیروز آباد میں زیورات کی ایک دکان کے مالک والے محمد سلطان کہتے ہیں کہ ’اُن لوگوں کے لیے جو ان سے ناواقف ہیں یہ مواد کوڑے کرکٹ سے زیادہ کچھ نہیں لیکن جو لوگ دھات سے واقف ہیں وہ اس ’کوڑے‘ کی اصل قدر جانتے ہیں۔‘

سلطان نے خود بھی 25 سال سے زائد عرصے تک ان مواد سے سونے نکالنے کا کام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوڑے سے دھات نکالنے کی تکنیک فی الحال صرف چند لوگ ہی جانتے ہیں۔

سلطان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’سونے کی پھینک دی جانے والی بوتلوں کو چند گھنٹوں کے لیے تارپین کی ایک بالٹی میں سونے کی باقیات کو نکالنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ دھات کے باقیات تھوڑی دیر میں سطح پر جم جاتے ہیں اور پھر اسے کپڑے کے ایک ٹکڑے میں رکھ کر صاف کیا جاتا ہے اور خشک ہونے دیا جاتا ہے اور آخر میں اسے جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد اس راکھ کو چند کیمیکلز کے استعمال کے ساتھ، چولہے یا ہیٹر پر رکھی ریت کی ایک موٹی تہہ پر رکھ دیا جاتا ہے اور اسے اس وقت تک گرم کیا جاتا ہے جب تک کہ راکھ مائع میں تبدیل نہ ہو جائے۔ مائع ٹھنڈا ہونے کے بعد یہ شیشے میں تبدیل ہو جاتا ہے اور سونے کی باقیات ریت میں رہ جاتی ہیں۔‘

سلطان نے کہا کہ ’اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بہت صبر اور سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ یقینی طور پر ایسی چیز نہیں جو ایک ہفتے میں سیکھی جا سکے۔‘

ایک بار سونا نکالنے کے بعد اسے جوہریوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ فیروز آباد کے ایک اور سونا نکالنے والے محمد قاسم شفیع نے بتایا کہ ’اس ہنر نے کئی افراد کو کروڑ پتی بنایا۔‘

اگرچہ اس ہنر کی تاریخ کا کوئی دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں لیکن مقامی لوگ جنھوں نے اسے اپنے والدین یا دادا دادی سے سیکھا، ان کا کا اندازہ ہے کہ سونا نکالنے کا یہ کام گذشتہ 80 سال یا اس سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔

تاہم، حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پولش کو بہت حد تک کم مہنگے کیمیکلز سے بدل دیا گیا ہے، لہذا اگرچہ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔

کانچ کی چوڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شفیع کا کہنا ہے کہ ’سونا نکالنا بہت باریک بینی اور غیر معمولی مہارت کا کام ہے، اس لیے دھات کے متبادل کے استعمال سے پہلے بھی اسے کم ہی لوگ جانتے تھے لیکن جب چوڑیاں پالش اور دیگر کیمیکلز سے ڈیزائن ہونے لگیں تو قدرتی طور پر سونے کی کمی نے اس ہنر کو مزید کم کر دیا۔‘

اگرچہ چوڑی بنانے کی صنعت میں سونے کا استعمال کافی حد تک کم ہو گیا ہے لیکن اب بھی کچھ اسے اپنے کنگن میں شامل کرواتے ہیں۔

فیروز آباد کے بازار کی سڑکوں پر چلتے ہوئے، میں کئی ورکشاپس سے گزری جہاں کارکن چوڑیاں بنانے یا سجانے میں مصروف تھے، کچھ ایسے بھی تھے جو خالص سونے کی پالش کا استعمال کر رہے تھے۔

اگلے دن جب میں واپسی کے لیے ٹیکسی میں بیٹھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ شہر اب مجھے کتنا مختلف نظر آرہا ہے کیونکہ میں نے اس کے راز کو جان لیا ہے۔

قیمتی دھاتوں میں تبدیل ہونے والی چیزوں کے بارے میں میری والدہ نے جو کہانیاں مجھے سنائی تھیں، ان میں اب ایک نئی گہرائی آ گئی تھی کیونکہ میں نے ماضی اور حال کے فیروز آباد کے خزانے کو تلاش کرنے والوں اور سونا نکالنے والوں کی کہانیاں ان ہی کی زبانی سن لی تھیں۔

ان تمام کہانیوں نے ایک ساتھ مل کر ایک ایسی کہانی بنائی، جس میں سے ایک ایسا شہر ابھر آیا جس کی تاریخ کے بارے میں ہمیں بہت کم آگاہی تھی۔