مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے سے کیا تحریک انصاف کے بیانیے کو تقویت ملے گی؟

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن رواں برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا یکم مارچ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے یکم مارچ کو یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اگر کسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو پھر وہ مخصوص نشستوں کی اہل نہیں رہتی ہے۔

70 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’یہ کسی ایک جماعت، سیاسی رہنما یا امیدوار کا مقدمہ نہیں ہے بلکہ اِس کا تعلق پاکستان کے عوام اور ان کے آئینی حق سے ہے اور اس حق کی نگہبان سپریم کورٹ ہے۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوام کی خواہش ہی جمہوری آئین کا بنیادی وصف ہے جبکہ صاف اور شفاف انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اُن سے 12 جولائی کے مختصر حکمنامے پر وضاحت کے لیے رجوع کیا تھا اور چونکہ اس حکمنامے میں یہ درج تھا کہ اگر کسی کو کوئی وضاحت درکار ہو تو وہ طلب کر سکتا ہے اور اس وجہ سے سپریم کورٹ نے بغیر کوئی نوٹس جاری کیے، مختصر حکمنامے پر اپنی وضاحت جاری کی۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وضاحت پر نو سوالات اٹھائے تھے اور سپریم کورٹ رجسٹرار آفس سے استفسار کیا تھا کہ یہ وضاحت کیسے جاری کی گئی تھی۔

اب اس تفصیلی فیصلے کے بعد جہاں تحریک انصاف الیکشن کمیشن سے فوری طور پر اپنے ارکین کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تو وہیں حکومت اس حکمنامے پر عملدرآمد کرنے سے متعلق ابہام کی شکایت کر رہی ہے اور اس فیصلے پر قانونی سوالات اٹھا رہی ہے۔

پہلے ہم تفصیلی فیصلے کے اہم نکات پر نظر دوڑاتے ہیں اور پھر اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر حکومت اور تحریک انصاف کا ردعمل کیا ہے، موجودہ سیاسی صورتحال میں اس کے حکومت پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں اور کیا یہ فیصلہ تحریک انصاف کے بیانیے کو مزید تقویت بخشے گا؟

’سُنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کے مؤقف میں کوئی تضاد نہیں‘

پی ٹی آئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحریک انصاف نے پہلے درخواست دائر کیوں نہ کی اور اس سے قبل ہی ریلیف کیوں دے دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق انتخابی تنازع بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے اور یہ عوام کے ووٹ کے حق کے تحفظ کا آئینی فریضہ تھا جو سپریم کورٹ نے ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔

فیصلے میں تمام تفصیلات بھی درج ہیں کہ کس طرح تحریک انصاف کو مجبور کیا گیا کہ اس کے ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو جائیں۔ فیصلے کے مطابق دورانِ سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے اس پہلو کو بیان کرنے کی کوشش کی کہ کیسے جو ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ہیں وہ دراصل پی ٹی آئی ہی کے منتخب ارکان ہیں۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کے مؤقف میں بالکل کوئی تضاد نہیں ہے اور دونوں نے صراحت سے اپنا مقدمہ عدالت کے سامنے رکھا۔ تفصیلی فیصلے میں ججز نے لکھا کہ انھوں نے یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

فیصلے کے مطابق اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ تھا کہ آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے، پی ٹی آئی کے مطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انھیں ووٹ دیا۔

’اگر سپریم کورٹ وضاحت دے دیتی تو کنفیوژن پیدا ہی نہ ہوتی‘

الیکشن

عدالت نے الیکشن کمیشن کے کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس میں بھی شک ہے کہ آیا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھین سکتا تھا یا نہیں۔

تاہم عدالت نے لکھا کہ ابھی بلے کے نشان والے سپریم کورٹ کے 13 جنوری کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی نظرثانی کی اپیل زیر التوا ہے اس وجہ سے ابھی اس پر مزید بات نہیں کی جا سکتی، البتہ عدالت نے یہ ضرور کہا کہ الیکشن کمیشن جو ’رولز‘ بناتا ہے وہ آئین اور قانون پر حاوی نہیں ہو سکتے ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین یا قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے نہیں روکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کا رول 94 آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے، رول 94 مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتخابی رولز الیکشن ایکٹ کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں اور انتخابی رولز میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو الیکشن ایکٹ میں موجود نہ ہو۔

رول 94 کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت اسے تصور کیا جائے گا جس کے پاس انتخابی نشان ہو تاہم انتخابی نشان نہ ہونے پر مخصوص نشستیں نہ دیا جانا الیکشن کمیشن کی طرف سے اضافی سزا ہے۔

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی جماعت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 209 پر عمل پیرا نہیں ہوتی اور انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو پھر اس کے بدلے میں اسے صرف انتخابی نشان سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں باقی اس سے کم یا زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا، جبکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایسی کوئی ڈیکلریشن کسی سیاسی جماعت کے دیگر آئینی اور قانونی حقوق کو متاثر نہیں کر سکتی۔

فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کیا تو 13 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ نے کمیشن کے اس فیصلے کو برقرار رکھا مگر اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو حاصل دیگر حقوق ضبط نہیں کیے۔

فیصلے کے مطابق اگر سپریم کورٹ بلے کے نشان والے کیس میں اس امر کی وضاحت کر دیتی یا خود الیکشن کمیشن اپنے فیصلے میں یہ وضاحت دے دیتا تو پھر یہ کنفیوژن پیدا ہی نہ ہوتی۔

عدالت کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان نے جب پارٹی ٹکٹ تقسیم کیے تھے تو اس وقت عدالت کا فیصلہ ان کے خلاف نہیں آیا تھا اور یوں ان کی طرف سے انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد ٹکٹ کی تقسیم درست عمل تھا۔

’الیکشن کمیشن ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا‘

سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ بنیادی کام تھا کہ وہ ملک میں مقابلے کی فضا قائم ہونے دیتا تاہم شفاف انتخابات کے انعقاد کے ضامن کے طور پر الیکشن کمیشن اپنے فرائض کی سرانجام دہی میں ناکام رہا ہے۔ سپریم نے الیکشن کمیشن کے رویے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن (اس معاملے میں) بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا ہے۔‘

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عوام کی خواہش اور جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات ضروری ہیں، تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے کیونکہ عوام کا ووٹ جمہوری گورننس کا اہم جزو ہے۔‘

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی ہر صورت حمایت کرنی چاہیے اور انھیں مضبوط کرنا چاہیے نہ کہ ان کا قلع قمع کر دیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کے بغیر جمہوریت کے زیادہ عرصے تک چلنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔‘

فیصلے کے مطابق عدالت اس طرح کے معاملات میں مداخلت سے گریز نہیں کر سکتی اور نہ عوامی مفاد کے اتنا اہم فیصلہ سنانے میں زیادہ تاخیر کر سکتی ہے کیونکہ ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت انتہائی ضروری ہو جاتی ہے تاکہ اصلاح ہو سکے اور انتخابی انصاف کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں آٹھ ججز نے دو ججز کے اختلافی نوٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔ دو ججز کے تحفظات کے حوالے سے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ جس انداز میں دو ججز نے اکثریتی فیصلے پر اختلاف کا اظہار کیا وہ مناسب نہیں تھا۔ اکثریتی ججز کے مطابق جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کا عمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے منافی ہے۔

فیصلے کے بعد بھی ابہام موجود ہے: وزیر قانون

وزیر قانون

،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan

،تصویر کا کیپشنوزیر قانون کے مطابق’ قانونی فیصلے اس بنا پر ہوتے ہیں کہ کون انصاف مانگنے آیا ہے۔ اس وقت کی صورتحال میں فائدہ اس جماعت کو پہنچا جو فریق ہی نہیں تھی‘

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے باوجود آئینی مسئلہ یہ ہے کہ لسٹ کا ملکی قانون کے مطابق فیصلہ ہونا ہے اور آئین پاکستان کے قوانین کی موجودگی میں اب یہ نشستیں کس طرح سے تقسیم ہونی ہیں اس کا جواب اس تفصیلی فیصلے میں نہیں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد بھی ابہام بدستور موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’قانون بہت واضح ہے کہ آزاد امیدوار کو تین دن میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ آزاد امیدوار کا کسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ ناقابل واپسی ہے۔‘ انھوں نے واضح کیا کہ ’پارلیمنٹ کی قانون سازی سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بالا تر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں ’پی ٹی آئی کو نہیں دی جا سکتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پر ایک اور قانونی معاملہ چلے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے باوجود جو قانونی بحث ہے وہ یہ ہے اب جو قانون بن گیا ہے اس کے تحت سیٹوں کی تقسیم کیسے ہو گی؟ اور کیا اس قانون کو ’اوور رول‘ کیا جائے گا؟

انھوں نے کہا کہ فل کورٹ نے پریکٹس اور پروسیجر بل کا جائزہ لیا اور کہا کہ فیصلے میں پارلیمان کا استحقاق ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس میں کوئی ترمیم یا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس تحریری فیصلے کے بعد نظرثانی کی درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی ہے۔

وزیر قانون کے مطابق’ قانونی فیصلے اس بنا پر ہوتے ہیں کہ کون انصاف مانگنے آیا ہے۔ اس وقت کی صورتحال میں فائدہ اس جماعت کو پہنچا جو فریق ہی نہیں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کیس کی سماعت میں کہیں بھی آزاد ارکان نے یہ نہیں کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے رکن ہیں بلکہ انھوں نے کہا کہ وہ سنی اتحاد کے رکن ہیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن میں اپنے حلف نامے جمع کروائے تھے۔‘

وزیر قانون کے مطابق مقدمہ ہی یہ تھا کہ کیا سنی اتحاد کو نشستیں ملنی چاہیے۔وزیر قانون نے کہا کہ عدالت کو اس حد تک تشریح نہیں کرنی چاہیے کہ قانون کا مسودہ ہی تبدیل ہو جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ آئین اور قانون کے تحت کارروائی کرے گا۔ ایک طرف عدالتی فیصلہ ہے اور دوسری طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلےکے متعلق کہا جا رہا ہے کہ آئین دوبارہ تحریر کیا گیا ہے۔‘

’فیصلے سے سپریم کورٹ میں بھی واضح تقسیم نظر آئی ہے‘

پارلیمنٹ

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کی رائے میں سپریم کورٹ نے بہت اچھے طریقے سے الیکشن کمیشن سمیت اداروں کی کمزرویوں کو اپنے تفصیلی فیصلے کے ذریعے واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ ان اداروں پر ہے کہ وہ اپنی ان کمزوریوں کو دور کریں۔

کنور دلشاد نے کہا کہ اس فیصلے میں خود سپریم کورٹ میں بھی تقسیم بہت واضح نظر آئی ہے۔

اُن کی رائے میں جس طرح دو ججز نے پہلے اقلیتی فیصلے لکھے اور پھر جس طرح تفصیلی فیصلے میں ان کا محاسبہ کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ اندر بھی سب اچھا نہیں چل رہا ہے۔ کنور دلشاد کے مطابق چیف جسٹس نے نو سوالات کے جوابات مانگے تھے کہ کیسے آٹھ ججز کے تفیصلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ہی وضاحت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر آ گئی اور پھر وہ میڈیا کی زینت بھی بنی۔ سابق سیکریٹری کی رائے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر حکومت عملدرآمد نہیں کرے گی اور نظرثانی کی طرف جائے گی۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔‘

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سپریم کورٹ کے واضح اور تفصیلی فیصلے کی روشنی میں 38 اراکین کو ان کی جماعت کے ارکان کے طور پر نوٹیفائی کرے۔

’حکومت اور عدلیہ میں محاذ آرائی بڑھے گی‘

سینیئر صحافی و تجزیہ ضیغم خان نے اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے نے پی ٹی آئی کے بیانیے کو تقویت بخشی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ بڑی تفصیل سے اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ کس طرح سے پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ان کے دیگر آئینی حقوق جن کا انتخابی نشان سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا انھیں سلب کیا گیا۔

ضیغیم خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی حقوق کے متعلق عدالتی فیصلے میں کی گئی بات ہی بنیادی جزو ہے۔‘

وزیر قانون کی جانب سے فیصلے میں ابہام اور پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے سے متعلق بیان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت اس پر واضح ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرے گی۔‘

’آپ ابہام کی آڑ میں اس پر عملدرآمد کو روک نہیں سکتے۔ آپ اس پر بحث کر سکتے ہیں، لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں یہ خامی ہے اور ہم اس پر عمل نہیں کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملددرآمد آئینی طور پر صرف اس صورت میں رک سکتا ہے کہ عدالت اس پر نظرثانی درخواست سننا شروع کر دے اور کہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست آنے تک عملدرآمد روکے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرے گی اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور عدلیہ میں محاذ آرائی بڑھے گی۔