بحیرہ چین میں موجود ماہی گیری کی کشتیاں جنھیں چین ’کچھ نہ کرنے‘ کے پیسے دیتا ہے

چین

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, اینجل برمیوڈیز
    • عہدہ, بی بی سی

اگرچہ یہ ہیں تو مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں مگر سمندر میں اپنی موجودگی کے دوران شاید ہی یہ کوئی مچھلی پکڑتی ہیں۔ بعض اوقات ان کشتیوں کے مالکان کو صرف اس لیے پیسے دیے جاتے ہیں کہ وہ سمندر میں جائیں اور لنگر گِرا کر مہینوں ایک ہی جگہ پر موجود رہیں اور بس کچھ اور نہ کریں۔

ان کشتیوں کے مالکان عام لوگ ہیں یعنی سویلین، لیکن وہ چینی حکومت اور فوجی حکام کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کے منصوبوں میں تعاون کرتے ہیں۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ بحیرہ جنوبی چین میں اپنے علاقائی عزائم کو تقویت دینے کے لیے سینکڑوں سویلین بحری جہازوں اور کشتیوں کا استعمال کرتا ہے۔ چین ان سمندری حدود پر تقریباً مکمل طور پر اپنے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر پڑوسی ممالک جیسا کہ ویتنام، فلپائن، برونائی اور ملائیشیا اس دعویٰ کو نہیں مانتے اور اسے متنازع قرار دیتے ہیں۔

ان پانیوں میں، خاص طور پر سپراٹلی جزائر (جنھیں چین ’نانشا‘ کہہ کر پکارتا ہے) کے ارد گرد، بیجنگ کی مالی اعانت سے چلنے والی ماہی گیری کی کشتیوں کا یہ بیڑہ سرگرم ہے اور اس علاقے کی بہت سی حکومتوں کے لیے درد سر بن گیا ہے۔ یہ معاملہ امریکہ کے لیے بھی سٹریٹجک تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

لیکن یہ مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں وہاں کیا کر رہی ہیں اور وہ مچھلیاں پکڑے بغیر وہاں کیونکر رہ سکتی ہیں؟

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہی گیروں اور ملیشیاؤں کے درمیان

چین نے حالیہ دہائیوں میں تقریباً 3,000 کشتیوں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا ’گہرے سمندر میں ماہی گیری‘ کا بیڑا تشکیل دیا ہے۔

ان میں سے بہت سے کشتیاں دنیا کے مختلف حصوں میں بین الاقوامی پانیوں میں ماہی گیری کرتی ہیں جیسا کہ جنوبی بحرالکاہل میں گالاپاگوس جزائر کے قریب، ارجنٹائن کے خصوصی اقتصادی زون کے مضافات میں، جنوبی بحر اوقیانوس میں اور بحر ہند میں افریقہ کے ساحل سے دور۔

اگرچہ ماہی گیری کی ان بڑے پیمانے پر کارروائیوں نے متاثرہ ممالک میں بے چینی کی لہر کو جنم دیا ہے، لیکن سپراٹلی جزائر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل مختلف نوعیت کی کارروائی ہے کیونکہ وہاں موجود چینی بحری کشتیوں میں بہت سی ایسی ہیں جو مچھلیاں نہیں پکڑتیں مگر اس کے باوجود چینی حکام سے ادائیگیاں اور امداد وصول کرتی ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گریگوری پولنگ، جنوب مشرقی ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر اور میری ٹائم ٹرانسپیرنسی انیشی ایٹو کے سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں کام کرنے والے چینی بحری جہازوں کو عام طور پر ایک ملیشیا کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بظاہر یہ عام ماہی گیری کی کشتیاں ہیں مگر حقیقت میں ان کا مچھلی پکڑنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ کشتیاں چینی حکومت کے لیے نیم فوجی دستے کے طور پر کام کرتی ہیں، سمندری حدود کی نگرانی میں معاونت کرتی ہیں اور بعض صورتوں میں غیر ملکی کشتیوں اور ان کے عملے کو اپنے اقدامات سے ہراساں کرتی ہیں۔‘

’لیکن چین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کشتیوں پر نصب چین کا جھنڈا ان متنازع سمندری حدود میں لہراتا رہے۔ اس کشتیوں کے ذریعے چین اپنی ایک مصنوعی موجودگی کا یہاں احساس دلاتا ہے جو بیجنگ کے اس وہم پر مبنی بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ چین ان پانیوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے پاس جنوبی سمندر میں دو مختلف ملیشیاؤں پر مبنی بحری بیڑے ہیں۔ ان میں سے ایک پیشہ ور ملیشیا ہے جس کے بحری جہاز ریاستی کمپنیوں کی ملکیت ہیں اور ان کا عملہ ان افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو ریاست کے ملازم ہیں اور حکومت انھیں تنخواہیں ادا کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ جہاز سویلین ہیں لیکن تجارتی نہیں ہیں کیونکہ ان پر موجود عملہ سویلین ہے۔ یہ جہاز وہ ہیں جو اکثر ان سمندری حدود میں آنے والے غیر ملکی جہازوں کو ہراساں کرتے ہیں یا ان متنازع پانیوں میں چینی حکومت کے جہازوں کی حفاظت جیسا کام کرتے ہیں۔‘

ملیشیا پر مشتمل دوسرا بحری بیڑا نجی ملکیت کے جہازوں پر مشتمل ہے جو کسی وقت ماہی گیری کے جہاز رہے ہوں گے لیکن اب ان کا سمندر میں کچھ اور ہی کام ہے۔

’اس بیڑے میں موجود جہازوں کا کام صرف اسپراٹلی جزائر میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا ہے اور اس کام کے عوض انھیں چینی حکومت کی طرف سے بہت بڑی سبسڈی ملتی ہے۔ یہ جہاز اس علاقے میں آتے ہیں، لنگر انداز ہوتے ہیں اور پھر ہفتوں یا مہینوں تک اپنی اسی پوزیشن میں موجود رہتے ہیں مگر مچھلیاں نہیں پکڑتے۔‘

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ ان کارروائیوں میں حصہ لینے والے بحری جہازوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، لیکن اُن کا اندازہ ہے کہ 700 سے 1000 کے درمیان سویلین بحری جہاز ہیں جو حکومت کے لیے کام کرتے ہیں اور سبسڈی وصول کرتے ہیں۔

پولنگ کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال پہلے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہر بحری جہاز اسپراٹلی جزائر میں آپریٹ کرنے کے لیے تقریباً 4000 ڈالر یومیہ وصول کرتا ہے، جب کہ وہ سال میں کم از کم 270 دن وہاں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہمیں یہ سب اس لیے معلوم ہے کیونکہ چینی حکومت اور میڈیا اس معاملے کو بالکل بھی خفیہ نہیں رکھتے۔ چین میں ایسے جہازوں کو دی جانے والی سبسڈی کے بارے میں معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ ان کی بہت اچھی طرح تشہیر کی جاتی ہے، خاص طور پر گوانگ ڈونگ اور ہینان صوبوں میں، جہاں ان ملیشیاؤں کی سب سے زیادہ بڑی تعداد ہے جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن اور اخبارات میں ان کی ’حب الوطنی کی خدمات‘ کے بارے میں رپورٹ کیا جاتا ہے۔‘

یونیورسٹی آف فلپائن سے منسلک پروفیسر جے بٹونگباکل بتاتے ہیں کہ چین کی حکومت اپنے اس ماہی گیری کے بیڑے کو ایندھن کی فراہمی، نئی کشتیوں کی تعمیر اور عملے کی تربیت فراہم کرنے جیسے معاملات پر بھی سبسڈی دیتی ہے۔

پروفیسر جے بٹونگباکل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ مچھلیاں نہیں پکڑتے، وہ صرف وہاں جاتے ہیں، وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہیں اور سمندر میں حکومت کے لیے نگرانی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مزید برآں، یہ ماہی گیری کے جہاز چائنا کوسٹ گارڈ کے ذریعے چلائے جاتے ہیں یا ان کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ ہم نے انھیں کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے ساتھ مل کر کام کرتے دیکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھیں بعض اوقات چین کی میری ٹائم ملیشیا بھی کہا جاتا ہے۔‘

پروفیسر جے بٹونگباکل نے پریقین انداز میں کہا کہ یہ کشتیاں دوسرے ممالک جیسے فلپائن کی ماہی گیری کی کشتیوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ فلپائن کی کشتیاں حملے کے خوف سے اب ان سمندری حدود میں ماہی گیری کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔

بی بی سی نے اس معاملے پر بیجنگ کا موقف جاننے کے لیے چینی وزارت خارجہ کے انفارمیشن آفس سے رابطہ کیا لیکن اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاسی اور سٹریٹیجک مفاد

لیکن چین ماہی گیری کی سینکڑوں کشتیوں کو ماہی گیری کے بغیر فقط لنگر انداز رہنے کے لیے ہزاروں ڈالر کیوں ادا کرے گا؟ 

پولنگ کا کہنا ہے کہ ’نجی کشتیوں کے معاملے میں، بنیادی طور پر چین چاہتا ہے کہ وہ صرف اسپراٹلی جزائر میں رہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اس بیانیے کو تقویت دیں کہ یہ چینی سمندری حدود ہیں اور چینی کشتیاں سینکڑوں برسوں سے اس علاقے میں ماہی گیری کرتی آئی ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کیونکہ یہ چھوٹے ماہی گیری کے جہاز ہوتے ہیں جو زیادہ منافع نہیں کما پاتے اس لیے انھیں وہاں جانے اور صرف لنگر انداز رہنے کا معاوضہ ملتا ہے، اور ایسا کرتے ہوئے وہ چینی ریاست کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق بیجنگ اس گیس یا تیل میں دلچسپی نہیں رکھتا جو اسپراٹلی جزائر کے آس پاس ہو سکتا ہے۔ ’چین ان جزائر کے ارد گرد گیس اور تیل کے ممکنہ ذخائر کا کبھی استحصال نہیں کرے گا۔ صرف وہی ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو ان جزائر کے قریب ترین آباد ہیں۔‘

پولنگ کا خیال ہے کہ بیجنگ کے لیے ان جزائر کی اہمیت صرف سیاسی نوعیت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ چین کے موجودہ اور سابقہ سربراہان نے اپنے شہریوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ یہ جزائر قدیم زمانے سے چین کی ملکیت ہیں، جنھیں ماضی میں چین سے چھین لیا گیا تھا۔

’چین کے سربراہان نے اس شکایت کو اپنی قانونی حیثیت کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ ایک جھوٹ ہے، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے بہت زیادہ سیاسی اہمیت رہی ہے۔‘

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جے بٹونگباکل کے مطابق بحیرہ جنوبی چین کے جنوبی حصے کے وسط میں اسپراٹلی جزائر کا محل وقوع انھیں بیجنگ کی نظر میں بڑی سٹریٹیجک اہمیت فراہم کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وہ اس سارے سمندر کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ان جزیروں کو کنٹرول حاصل کرنا ہو گا، جہاں وہ پہلے ہی سات مصنوعی جزیرے بنا چکے ہیں، جن میں سے تین مکمل فوجی اڈے ہیں جن میں رن وے، طیاروں کے ہینگرز، بندرگاہیں ہیں اور جہاں انھوں نے وہ جگہ رکھی ہے جسے وہ سٹریٹیجک کہتے ہیں۔ ریڈار اور میزائل جیسے ہتھیار جن کی رینج فلپائن تک ہے۔‘

جے بٹونگباکل کہتے ہیں کہ بیجنگ ملک کے جنوبی ساحل کے دفاع کے لیے بحیرہ جنوبی چین کو کنٹرول کرنا ضروری سمجھتا ہے، جو کھلے سمندر میں ہے اور اسی لیے وہ اسے غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔

پولنگ کہتے ہیں کہ ’1995-1996 میں آبنائے تائیوان کے آخری بحران کے دوران، امریکہ نے بحرین سے ایک طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا جو جنوبی بحیرہ چین اور پھر آبنائے تائیوان کے اس پار گیا تھا۔ آج امریکہ اس نوعیت کی کوئی کارروائی نہیں کر سکتا کیونکہ چین ان جزائز پر اپنی موجودگی کو ثابت کر چکا ہے۔ تنازعے کی صورت میں اب امریکہ محفوظ طریقے سے بحیرہ جنوبی چین سے نہیں گزر سکتا ہے۔‘