یاسین بونو: وہ گول کیپر جو مراکش کا ہیرو بن گیا ہے

،تصویر کا ذریعہCATHRIN MUELLER - FIFA
قطر میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2022 میں مراکش کی ٹیم نے ایک خاص مقام اور اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ مراکش کی ٹیم پرتگال کو شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہے۔
مراکش کی اس کامیابی میں جو سٹار کھلاڑی سب سے نمایاں ہے وہ مراکش کے گول کیپر یاسین بونو ہیں جنھیں شائقین 'بونو' کے نام سے پکارتے ہیں۔
ٹیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد سے ان کے بارے میں شائقین کا جنون عروج پر ہے۔ انھیں کسی بڑے قومی ہیرو کی طرح سراہا جا رہا ہے۔
مراکش نے ورلڈ کپ میں اب تک پانچ میچ کھیلے ہیں اور یہ ٹیم ناقابل تسخیر رہی ہے۔
ورلڈ کپ میں مراکش کا پہلا میچ کروشیا کے خلاف تھا۔ اس میں کوئی بھی ٹیم گول نہ کر سکی اور میچ برابری پر ختم ہوا۔
اس کے بعد مراکش نے بیلجیئم کو صفر کے مقابلے دو گول اور کینیڈا کو ایک کے مقابلے دو گول جبکہ اسپین کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں صفر کے مقابلے تین گول سے شکست دی۔
کوارٹر فائنل میں مراکش نے پرتگال کو صفر کے مقابلے ایک گول سے شکست دی۔
کینیڈا کے خلاف میچ میں مراکش کے خلاف جو گول ہوا وہ اس نے اپنے ہی خلاف گول کرلیا تھا۔ اس سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو مراکش کے خلاف کوئی ٹیم اب تک رواں ورلڈ کپ میں کوئی بھی گول کرنے میں ناکام رہی، چاہے پنلٹی ہی کیوں نہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی وجہ ہے کہ مراکش کی کامیابی کا سہرا گول کیپر بونو کے سر دیا جا رہا ہے۔
31 سالہ گول کیپر یاسین بونو نے پرتگال کے خلاف فتح کے بعد کہا کہ ہم یہاں اپنی ذہنیت کو بدلنے اور احساس کمتری سے نجات کے لیے آئے ہیں۔مراکش دنیا کی کسی بھی ٹیم کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، سیمی فائنل میں بھی اور اس کے بعد کے مقابلے میں بھی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بونو کی کارکردگی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بونو کی نمایا کارکردگی سپین کے خلاف نظر آئی جب انھوں نے پنلٹی شوٹ آؤٹ میں ایک بھی گول نہیں ہونے دیا۔ اس سے قبل 130 منٹ کے میچ کے دوران اسپین کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی حملے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اس میچ کے بعد اسپین کی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی اور یہ میچ مراکش کی فٹبال کی تاریخ میں درج ہو گیا۔
بونو نے کہا کہ ہم نے اس (شکست خوردگی کی) ذہنیت کو بدل دیا ہے اور ہمارے بعد آنے والی کھلاڑیوں کی نسل کو معلوم ہو جائے گا کہ مراکشی کھلاڑی کمال کر سکتے ہیں۔
گول کیپر بونو نے اپنے کریئر کا ایک اہم حصہ اسپین میں گزارا ہے اور وہ سیویا فٹ بال کے گول کیپر رہے ہیں۔
بونو کو سنہ 2022 میں فرانس کی باوقار یاسین ٹرافی سے نوازا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ دنیا کے بہترین گول کیپر کو دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ روس کے گول کیپر لیو یاسین کے نام پر دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے کے بعد انھیں دنیا کا نواں بہترین گول کیپر بھی قرار دیا گیا۔
بونو کو اسپین کی باوقار زمورا ٹرافی سے بھی نوازا گیا۔ اسپین میں یہ ایوارڈ اس گول کیپر کو دیا جاتا ہے جو ایک سال میں سب سے کم گول ہونے دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بونو کو یہ ایوارڈ سنہ 22-2021 کے سیزن کے لیے دیا گیا تھا۔
اگست 2020 میں سیویلے کے لیے کھیلتے ہوئے بونو نے شاندار گول کیپنگ کی، ان کی ٹیم نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے خلاف میچ 2-1 سے جیتا۔ اس کے ساتھ سیویا نے اپنا چھٹا یورپی لیگ ٹائٹل جیت لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بونو کا سفر
یاسین بونو اپنے ملک مراکش سے بہت دور کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پیدا ہوئے۔ وہ سات سال کی عمر میں مراکش واپس لوٹ آئے۔
انھیں بچپن سے ہی فٹبال میں دلچسپی تھی لیکن ان کے والد ان کے اس کھیل کے شوق کے خلاف تھے۔ بونو نے ویداد کیسابلینکا کے لیے کھیلنا شروع کیا اور ایک پیشہ ور فٹبالر بننے پر توجہ مرکوز کی۔
ارجنٹائن ٹیم کے پرستار
انھوں نے مراکش کو اس وقت چھوڑ دیا جب ہسپانوی فٹ بال کلب ایٹلیٹیکو ڈی میڈرڈ نے اسے سائن کیا۔ لیکن اس کلب کے ساتھ ان کا تجربہ زیادہ اچھا نہیں رہا اور انھوں نے کلب چھوڑ دیا۔
اس کے بعد وہ دو سیزن (2014–16) تک زمورا کے ساتھ رہے اور پھر 2016–2019 تک گیرونا فٹ بال کلب کا حصہ رہے۔ اس کے بعد وہ سیویا پہنچ گئے۔
اگرچہ بونو کا تعلق اسپین کے فٹبال کلبوں سے رہا لیکن یہ بات سب کو معلوم ہے کہ وہ ارجنٹائن کی فٹ بال کے بہت بڑے مداح ہیں۔
چند سال پہلے بونو نے کہا تھا کہ 'پہلی ٹی شرٹ جو میرے والد نے مجھے دی تھی وہ ارجنٹائن کی تھی۔'
بونو کی زبان پر بھی ارجنٹائن کی کے بولی کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ 'میں ہر چیز سے زیادہ مراکشی ہوں، جب میں اسپین پہنچا تو میں ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اور میری زبان ان کی بولی سے متاثر ہوئی تھی۔'
بونو کے پسندیدہ کھلاڑی ارجنٹائن کے ایریل اورٹیگا ہیں جنھیں 'ایل برریٹو اورٹیگا' بھی کہا جاتا ہے۔ ایک بار بونو نے بتایا کہ وہ اپنے کتے کو بہت شوق سے ایریل کہتے ہیں۔
فٹبال ورلڈ کپ میں اب دنیا کی نظریں مراکش پر ہیں جو سیمی فائنل میں فرانس کے مدمقابل ہوگی۔
دوسرا سیمی فائنل کروشیا اور ارجنٹائن کے درمیان ہونا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بونو کا ارجنٹائن کے خلاف کھیلنے کا کوئی امکان رہتا ہے؟











