’ون ڈے کرکٹ کی ٹیکسٹ بک ہوتی تو فخر کی سنچری پرفیکٹ قرار پاتی‘

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET
پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کو پانچ میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کی اور کسی حد تک ٹی ٹوئنٹی سیریز کے مایوس کن اختتام کا ازالہ بھی کیا۔
راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے پہلا ون ڈے میں کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔
ٹاس کے بعد کی جانے والی گفتگو میں پاکستان ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا تھا کہ وکٹ دوسری اننگز میں بہتر رہے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔
ایک قدرے آسان پچ پر نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 288 رنز سکور کیے جس کے بعد پاکستان نے یہ ہدف پانچ وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا۔
پاکستان کی جانب سے فخر زمان نے 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی نویں سنچری مکمل کی اور ان کا ساتھ پہلے امام الحق اور پھر بابر اعظم نے دیا جنھوں نے بالترتیب 60 اور 49 رنز سکور کیے۔
فخر زمان کی پرفارمنس پر ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’اگر ون ڈے کرکٹ کی کوئی ٹیکسٹ بک ہوتی تو یہ سنچری ہدف کے تعاقب میں بہترین قرار دی جاتی جس میں کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیا گیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
فخر زمان کو ان کی اس اننگز پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا جبکہ بابر اعظم نے اس اننگز میں انٹرنیشنل کرکٹ میں 12 ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ یوں ایک روزہ میچز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی 500 فتوحات مکمل ہوئیں۔
پاکستان کی ٹیم نے مجموعی طور پر نو سو پچاس ون ڈے میچز کے بعد یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستان کی جانب سے محمد رضوان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ فخر زمان کے آوٹ ہو جانے کے بعد شان مسعود صرف ایک رن پر اور آغا سلمان سات رن بنا کر آوٹ ہوئے تو رن ریٹ سست رفتاری کا شکار ہوا۔
ایسے میں محمد رضوان ہی تھے جنھوں نے پاکستان کو کسی مذید مشکل کا شکار ہونے سے بچایا اور 34 گیندوں پر 42 رن کی اننگ کھیلی۔
ان کی اس اننگز میں چھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET
ان کی اس پرفارمنس پر عثمان عزیز نے لکھا کہ ’محمد رضوان پر ہونے والی تنقید ناقابل فہم ہے۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آخری میچ میں بالنگ خراب تھی لیکن رضوان پر تنقید کی گئی لیکن آج انھوں نے ثابت کیا کہ جب حالات مشکل ہوں تو ان پر ہی بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس سے قبل، کیوی اوپنر ول ینگ اور مڈل آرڈر بیٹسمین ڈیرل مچل نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیت 86 اور 113 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
تاہم ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آخری میچ میں سنچری سکور کرنے والے مارک چیپمین اس بار اپنا جادو نہیں دکھا پائے اور صرف 15 رن بنا کر حارث روف کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET
یہ بھی پڑھیے
ایک بہترین آغاز کے باوجود نیوزی لینڈ آخری 10 اوور میں تیز رفتار سکورنگ نہیں کر پائی۔
40ویں اوور میں 222 رن پر نیوزی لینڈ کی پاس ابھی آٹھ وکٹیں باقی تھیں لیکن اسی اوور میں ٹام لیتھم آوٹ ہوئے جس کے بعد وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ رن ریٹ پر اثر انداز ہوا۔
50 اوور مکمل ہوئے تو نیوزی لینڈ کا مجموعی سکور 288 تھا یعنی آخری 10 اوورز میں کیوی بلے باز صرف 66 رن ہی بنا پائے۔
نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتھم نے میچ ختم ہونے کے بعد اعتراف کیا کہ ان کا مجموعی سکور کم رہا۔
اس بولنگ پرفارمنس میں نسیم شاہ کا اہم کردار تھا جنھوں نے آج کے ون ڈے میں مجموعی طور پر عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور اپنے 10 اوورز میں صرف 29 رنز دیے۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET
اس دوران پاکستانی فاسٹ بولر نسیم شاہ نے ابتدائی چھ ون ڈے میچز میں سب سے زیادہ وکٹوں کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ انھوں نے میچ آخری اوور کی آخری دو گیندوں پر 2 وکٹیں حاصل کر کے یہ اعزاز حاصل کیا۔
شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے بھی دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
واضح رہے کہ نسیم شاہ نے کریئر کے چھ ابتدائی میچز میں 20 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ۔ اس سے قبل یہ اعزاز نیوزی لینڈ کے میٹ ہینری کے پاس تھا جنھوں نے ابتدائی چھ میچز میں 19 وکٹیں حاصل کی تھیں۔











