بیٹی کے مبینہ اغوا، تبدیلی مذہب کے بعد بیٹے کی ہلاکت: ’پولیس چشم دید گواہ ماں کا بیان نہیں لے رہی‘

شریمتی لالی

،تصویر کا ذریعہFaqeer shiva

،تصویر کا کیپشن شریمتی لالی کے مبینہ اغوا اور تبدیلی مذہب کے معاملے پر لکھاں کا خاندان گذشتہ ایک ماہ سے تھانوں کے چکر لگاتا رہا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’میرے بے گناہ بیٹے کو قتل کیا گیا۔ میں یہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھوں گی جب تک انصاف نہیں کیا جاتا۔ سردی کی پرواہ نہیں، ہمارے ساتھ ظلم کیا گیا۔‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں ایک معمر خاتون لکھاں کچھی نے کئی روز سے نبی سر تھانے کے باہر دھرنا دیا ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بیٹی کے مبینہ اغوا اور تبدیلی مذہب کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا تاہم پولیس اسے ٹریفک حادثہ قرار دے رہی ہے۔

اس سے قبل بیٹی کے مبینہ اغوا اور تبدیلی مذہب کے معاملے پر لکھاں کا خاندان گذشتہ ایک ماہ سے تھانوں کے چکر لگاتا رہا ہے۔

احتجاج، عمر کورٹ

،تصویر کا ذریعہFaqeer Shiva

بیٹی کے تبدیلی مذہب کا معاملہ

لکھاں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ ان کی شادی شادہ بیٹی شریمتی لالی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ انھوں نے میر پور خاص کے کوٹ غلام محمد پولیس تھانے جا کر مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی لیکن ’پولیس نے انکار کیا کیونکہ ملزم پولیس اہلکار تھا۔‘

شریمتی لالی کے بھائی لالو نے میرپور خاص کی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں بہن کے حبس بے جا کا الزام عائد کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی۔

مقامی عدالت کے حکم پر پولیس نے شریمتی لالی کو عدالت میں پیش کیا جس نے بتایا کہ انھوں نے مذہب تبدیل کر لیا ہے اور اب ان کا نام ’سمرین‘ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے عبید اللہ سے شادی کی ہے۔

عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق لالی نے بیان دیا کہ وہ اپنے بھائی لالو کے ساتھ جانا چاہتی ہیں، جس پر عدالت نے انھیں بھائی کے ساتھ جانے کی اجازت دی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

لالو کی ہلاکت

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لکھاں کچھی کا کہنا ہے کہ ماں بیٹا دونوں بیٹی کو موٹر سائیکل پر لے کر عمر کوٹ ضلعے کے علاقے نبی سر آ گئے جہاں ان کی بیٹی رہتی ہیں کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’25 دسمبر کی شام سورج غروب ہونے سے قبل ہم ماں بیٹا لالی کو موٹر سائیکل پر لے کر جا رہے تھے کہ ایک سفید کار نے ہمیں کراس کیا۔ اس کے بعد اس میں سے ایک شخص اترا اور لالو سے تلخ کلامی کی اور لڑکی کو ہاتھ سے پکڑ کر لے جانے لگا۔‘

’اس پر لالو نے مزاحمت کی، دوسرا شخص آیا اور اس نے لالو کے سر کے پچھلے حصے پر کلہاڑی کا وار کیا۔ وہ نیچے گِر گیا۔ کار سوار مجھے اور بیٹی کو گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ میں چیختی چِلاتی رہی لیکن کسی نے نہیں سنی۔ پھر مجھے اُتار کر میری بیٹی کو لے گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

دوسری طرف نبی سر تھانے کی ایس ایچ او خوش بخت ناز اعوان کہتی ہیں کہ لالو کی ہلاکت سڑک حادثے میں ہوئی اور ان پر کوئی حملہ ہوا نہ لڑکی کو اغوا کیا گیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ لالو ’مدہوشی کی حالت میں تھا۔ وہ سڑک پر گرا۔ اس کو پہلے نبی سر ہسپتال، اس کے بعد کنری ہسپتال اور وہاں سے حیدرآباد منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت ہوئی۔‘ بقول ان کے، پولیس کے پاس ’گواہوں کے بیانات موجود ہیں۔‘

تاہم اقلیتی حقوق کی تنظیم درواڑ اتحاد کے رہنما فقیر شیوا کچھی پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سڑک حادثے میں ہاتھوں اور پیروں پر خراشیں آتی ہیں اور سر پر آگے کی طرف سے چوٹ لگتی ہے، نہ کے پیچھے سے۔’جن گواہوں کے بیانات کی بات کی جا رہی ہے، ان میں سے ایک تین کلومیٹر دور موجود تھا۔ دوسرا ایک کلومیٹر دور واقع لنک روڈ پر موجود تھا۔

’انھوں نے کیسے یہ حادثہ دیکھ لیا، چشم دید گواہ لالو کی ماں لکھاں ہے جن کا پولیس بیان نہیں لے رہی۔‘

احتجاج، عمر کوٹ

،تصویر کا ذریعہFaqeer Shiva

تحقیقات کا حکم

شریمتی، لکھاں کچھی سمیت ایک درجن کے قریب اقلیتی حقوق کے کارکن پیر کی دوپہر سے نبی سر تھانے کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں تاہم ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اس معاملے پر بحث اور پولیس حکام پر تنقید جاری ہے۔

سندھ کے محکمہ انسانی حقوق کے مشیر سریندر ولاسائی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے آئی جی سندھ سے رابطہ کیا ہے جنھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک لیڈی اے ایس پی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو فریقین کے بیانات لے گی اور اس کے بعد میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ ہوگا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر لالی عرف سمرین کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ انھوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ جب لالو کا حادثہ ہوا، اس وقت ان کا شوہر ان کے ساتھ گھر میں موجود تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں اس بارے میں معلوم نہیں تھا بلکہ بہن نے فون کر کے اس بارے میں انھیں بتایا تاہم انھوں نے کہا کہ وہ ان کو دیکھنے نہیں گئی تھیں۔

لالی کا کہنا ہے کہ والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، وہ انھیں دیکھنے گئی تھیں۔ وہ ’اپنی خوشی سے گئیں اور اپنی خوشی سے واپس آئیں۔‘

سندھ کے محکمہ انسانی حقوق کے مشیر سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ پولیس کو لالی کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے اور کسی اتھارٹی کے سامنے پیش کر کے بیان لینا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ کسی دباؤ یا خوف میں بیان دے رہی ہیں یا اپنی رضامندی سے۔