انڈیا کا پاکستانی سرحد کے نزدیک جدید فضائی اڈے کی تعمیر کا مقصد کیا ہے؟

انڈین فضائیہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندو برس قبل لداخ میں چین سے ٹکراؤ کے بعد انڈیا بڑے پیمانے پر اپنی فضائیہ کو جدید بنانے میں مصروف ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، نئی دہلی

انڈیا کے وزیر اعظم نے گذشتہ ہفتے ریاست گجرات میں پاکستان کی سرحد کے نزدیک ’دیسا‘ میں ایک فضائی اڈے کا سنگِ بنیاد رکھا ہے جسے ملک کے فضائی دفاع کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نیا فضائی اڈہ شمالی گجرات کے بنس کانٹھا ضلع میں واقع ہے اور یہ آئندہ برس دسمبر تک فضائیہ کے لیے پوری طرح تیار ہو گا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے فضائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے ایک موثر مرکز کے طور پر اُبھرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی (پاکستانی) سرحد یہاں سے صرف 130 کلومیٹر دور ہے۔ اگر ہماری فورسز بالخصوص فضائیہ دیسا میں موجود ہوں تو ہم مغربی سرحد پر کسی بھی چیلنج کا جواب زیادہ موثر طریقے سے دے سکیں گے۔‘

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’یہ اڈہ ایک تو احتیاطی اقدام کے طور پر بنایا جا رہا ہے۔ دوسرے مودی، انڈیا کی ’فارورڈ پالیسی‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ ایک جارحانہ پالیسی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انڈیا بھی کافی حاوی ہے اور پیچھے رہنے والا نہیں ہے۔ اس میں مودی صاحب کا ’براواڈو‘ بھی شامل ہے۔‘

یہ گجرات کا پانچواں فضائی اڈہ ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں بڑودہ، جام نگر، بھج اور نالیا (کچھ) میں انڈین فضائیہ کے بڑے اڈے ہیں۔ ان میں کچھ اور بھج کے اڈے ڈیسا کی طرح پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہیں۔

راہل بیدی کے خیال میں پاکستان پر اس کا کوئی خاص اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔ وہ اپنے پہلے کے فضائی اڈوں کو بڑا یا اپ گریڈ کر سکتے ہیں۔

دیسا کا فضائی اڈہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے فضائی ساز وسامان سے لیس ہو گا۔

یہ اڈہ 4519 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ زمین فضائیہ کے پاس پہلے سے تھی اور اس وقت وہاں 20 نگرانی کے ٹاورز بنے ہوئے ہیں جبکہ اس اراضی کے گرد 22 کلومیٹر دیوار بھی بنی ہوئی ہے۔

انڈین فضائیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین فضائیہ کے مطابق اس وقت اس کے پاس مجموعی طور پر 1645 طیارے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اٹل بہاری واجپئی کے دور میں اس منصوبے کو شروع کرنے کی کچھ بات ہوئی تھی لیکن اس پراجیکٹ پر کام کا آغاز ہونے سے قبل ہی اُن کی حکومت چلی گئی جس کے بعد 20 سال تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مودی جب دوبارہ اقتدار میں آئے تو ایک سال پہلے انھوں نے اس فضائی اڈے کے لیے 1000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا تھا۔‘ فضائیہ کے ذرائع کے مطابق اس اڈے کو دو مرحلوں میں تیار کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں جنگی جہازوں کے لیے رن وے، متوازی ٹیکسی وے، لوپ ٹیکسی ٹریک اور فائٹر سکوارڈن ڈیسپرسل ایریا وغیرہ بنائے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں جدید ٹیکنیکل کنٹرول عمارت اور فضائیہ کے عملے کے لیے رہائشی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔

اس منصوبے کے انجینیئر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل ہرپال سنگھ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پورا منصوبہ دسمبر 2023 تک مکمل کیے جانے کا ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اطلاعات کے مطابق ڈیسا فضائی اڈہ گجرات کے بھج ضلع میں واقع نالیا اور راجستھان پھلودی فضائی اڈے کے درمیان عسکری لحاظ سے جو خالی جگہ تھی اسے پُر کرے گا۔

ماہرین کے مطابق دیسا ایک فارورڈ بیس ہو گا اور نہ صرف پاکستان میں جیکب آباد اور جنوبی علاقوں میں واقع فضائی اڈوں سے کسی حملے کی صورت میں پہلی دفاعی دیوار کا کام کرے گا بلکہ کسی ٹکراؤ کی صورت میں حیدرآباد، کراچی اور سکھر جیسے شہر اس کے حملے کی حدود میں ہوں گے۔

میڈیا میں فضائیہ کے ماہرین کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مستقبل میں گجرات یا جنوب مغربی سیکٹر یعنی مہاراشٹر یا اس سے بھی آگے کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اسے پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’ڈیسا کا فضائی اڈہ اٹیک بیس نہیں بلکہ دفاعی اڈہ ہو گا ۔ یہاں مگ-29 اور انڈیا میں بنائے گئے لائٹ ایئر کمبیٹ تیجس طیارے مامور کیے جائیں گے۔ انڈیا کا جو مین اٹیک طیارہ ہے وہ راجستھان کے جودھپور فضائی اڈے پر رکھا گیا ہے جس کا یہاں اس بیس تک پرواز کا وقت پانچ سے چھ منٹ ہے۔

انڈین فضائیہ

،تصویر کا ذریعہ@rajnathsingh

یہ فضائی اڈہ گجرات میں احمدآباد ، بھاؤ نگر اور برودہ جیسے شہروں اور اس اطراف میں ایک کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کے صنعتی خطوں کے تخفظ کے پیش نظر بھی بنایا جا رہا ہے۔

راہل بیدی کے مطابق ’ڈدیسا بیس کی تعمیر کی ایک اہم وجہ جام نگر کی تیل ریفاںنری کا تحفظ ہے۔ ریلائنس نام کی تیل صاف کرنے والی یہ دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری ہے۔ اگر یہ کسی حملے کی زد ميں آتی ہے تو انڈیا بہت بڑی مشکل میں پڑ جائے گا۔ اس کے تحفظ کے لیے یہ اڈہ اہم ہے۔‘

دو برس قبل لداخ میں چین سے ٹکراؤ کے بعد انڈیا بڑے پیمانے پر اپنی فضائیہ کو جدید بنانے میں مصروف ہے۔

انڈین فضائیہ کے بیشتر جنگی جہاز روس سے آتے تھے۔ ان میں مِگ 21، مگ 29 اور سخوئی جنگی طیارے قابل ذکر ہیں۔ ان میں سب سے پرانے جنگی جہاز مگ 21 ہیں۔ اب رفتہ رفتہ ان جہازوں کی جگہ رفال، میراج، جیگوار اور دوسرے نئے جنگی طیارے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

انڈین فضائیہ کے مطابق اس وقت اس کے پاس مجموعی طور پر 1645 طیارے ہیں جن میں 632 فائٹر جیٹ، 438 ہیلی کاپٹر، 250 ٹرانسپورٹ طیارے اور 304 تربیتی جہاز شامل ہیں۔

حال میں انڈیا نے ملک میں تیار کیے گئے لائٹ کمبیٹ جنگی جہاز ’تیجس‘ اور ’پرچنڈ‘ ہیلی کاپٹر کو انڈین فضا‏ئیہ میں شامل کیا ہے۔ مستقبل میں یہ بڑی تعداد میں فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔

اس وقت انڈیا کے پاس 31 فائٹر سکواڈرن موجود ہیں۔ آئندہ دس برس میں ان کی تعداد بڑھا کر 42 سکواڈرنز تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ فضائیہ کی جدت کے ساتھ ساتھ آئندہ برسوں میں مزید فضائی اڈے اور سرحدوں کے نزدیک نئی ہوائی پٹیاں بھی تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔