’ڈرٹی بم‘: یوکرین میں جوہری ہتھیار کا استعمال بہت بڑی غلطی ہو گی، امریکی صدر کا روس کو انتباہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں جوہری ہتھیار کا استعمال ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔
منگل کو صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جو بائیڈن نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب ان سے حال ہی میں روس کی جانب سے یوکرین حکومت کے ایک مبینہ منصوبے کے تحت ’ڈرٹی بم‘ کے استعمال کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا۔
جو بائیڈن سے سوال کیا گیا کہ آیا روس یہ بیان دے کر خود کسی ’فالس فلیگ‘ حملے کی تیاری کر رہا ہے تو انھوں نے جواب دیا ’ہم حتمی طور پر یہ نہیں جانتے، تاہم میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ ایسا کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔‘
یاد رہے کہ روس کے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین جنگ کے دوران ’ڈرٹی بم‘ کا استعمال کر سکتا ہے جس میں روایتی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ساتھ تابکاری مواد بھی شامل ہوتا ہے۔
روس نے اس دعوے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جبکہ یوکرین سمیت فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی وزیر دفاع سرگئی شوئگو نے برطانیہ کے سیکرٹری دفاع بین والس کو بتایا تھا کہ ان کو خدشہ ہے کہ یوکرین ممکنہ طور پر ’ڈرٹی بم‘ استعمال کر سکتا ہے۔
انھوں نے امریکہ، فرانس اور ترکی کے وزرائے دفاع سے بات چیت کرتے ہوئے بھی یہ دعوی کیا جس کے بعد فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ان کی حکومتیں روس کے جھوٹے الزامات کو مسترد کرتی ہیں کہ یوکرین اپنی ہی سرزمین پر ڈرٹی بم استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس جنگ میں ہر ممکنہ بری چیز کا ذریعہ روس ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’ڈرٹی بم‘ کیا ہوتا ہے؟
یہ ایک ایسا بم ہوتا ہے جس میں تابکاری مواد، جیسا کہ یورینیئم، موجود ہوتا ہے جو روایتی دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا میں پھیل جاتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ اس بم میں موجود تابکاری مواد کسی جوہری بم جیسا ہو۔ اس بم میں ہسپتالوں، جوہری بجلی گھروں اور تحقیقی لیبارٹریز میں استعمال ہونے والا تابکاری مواد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ کافی کم لاگت سے تیار ہو جاتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں کی نسبت کم وقت میں بن جاتے ہیں۔ ان کو کسی گاڑی پر لاد کر لے جایا جا سکتا ہے۔
ریڈیو ایکٹیو مواد کے ہوا میں بکھرنے سے کینسر یا سرطان جیسی بیماری ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ایسا بم جس علاقے میں استعمال ہو، وہاں آبادی میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔
جس مقام پر بم پھٹتا ہے وہاں سے لوگوں کو نکالا جاتا ہے تاکہ تابکاری کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ اکثر ایسے علاقے کو مکمل طور پر خالی کروا لیا جاتا ہے۔
فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ کے مطابق اگر نیو یارک میں مین ہیٹن کے مقام پر 9 گرام کوبالٹ اور پانچ کلو ٹی این ٹی ملے بم کا استعمال کیا جائے، تو پورا شہر دہائیوں تک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ اسی وجہ سے ڈرٹی بم کو وسیع پیمانے پر خلل ڈالنے والے ہتھیار کہا جاتا ہے تاہم یہ زیادہ قبل بھروسہ نہیں ہوتے۔
اس میں موجود تابکاری مواد کو مخصوص علاقے میں پھیلانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ پاوڈر کی شکل میں ہو تاہم اگر اس کے ذرات زیادہ چھوٹے ہوں یا تیز ہوا موجود ہو، تو یہ زیادہ اثر نہیں ڈالتے۔
یہ بھی پڑھیے
روس نے ڈرٹی بم کا دعوی کیوں کیا؟
امریکی انسٹیٹیوٹ فار سٹڈی آف وار نے کہا ہے کہ روسی وزیر دفاع شاید یہ چاہتے تھے کہ یوکرین کو دی جانے والی مغربی امداد معطل ہو جائے یا ممکنہ طور پر نیٹو اتحاد کمزور پڑ جائے۔ دوسری جانب ایسی چہ مگویاں بھی ہو رہی ہیں کہ روس خود یوکرین میں ڈرٹی بم استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کا الزام یوکرین کی فوج پر لگائے گا۔
تاہم اکثر عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس ایسی غلطی نہیں کر سکتا کیوں کہ ڈرٹی بم اس کی اپنی فوج کو اور اس کے زیر تسلط علاقے کو نقصان پہنچائے گا۔ انسٹیٹیوٹ فار سٹڈی آف وار نے کہا کہ روس کی جانب سے فالس فلیگ ڈرٹی بم حملے کا امکان نہیں ہے۔
کیا ڈرٹی بم پہلے کبھی استعمال ہوا ہے
دنیا بھر میں کسی بھی جگہ ڈرٹی بم کا کامیاب حملہ نہیں ہوا تاہم متعدد کوششیں ضرور ہو چکی ہیں۔ چیچن باغیوں نے ماسکو کے ایک پارک میں ڈائنامائٹ اور کیسیئم سے بھرا بم نصب کیا تھا۔ کیسیئم تابکاری مواد تھا جو سرطان کا علاج کرنے والے سامان سے نکالا گیا تھا تاہم روسی سکیورٹی فورسز نے اسے تلاش کر لیا اور ناکارہ بنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1998 میں چیچنیا کی خفیہ ایجنسی نے ایک ریلوے لائن پر نصب کیے جانے والے ڈرٹی بم کا تلاش کیا اور اسے ناکارہ بنا دیا۔
سنہ 2002 میں القاعدہ سے رابطہ رکھنے والے امریکی شہری ہوزے پیڈیلا کو شکاگو شہر میں گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ ڈرٹی بم حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کو 21 سال قید کی سزا سنائی گئی
دو سال بعد ایک برطانوی شہری اور القاعدہ کے رکن، دھرن بروت، کو لندن میں گرفتار کیا گیا اور دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ ڈرٹی بم حملہ کرنا چاہتے تھے۔
تاہم القاعدہ کے گرفتار ہونے والے دونوں اراکان میں سے کسی نے بھی گرفتاری کے وقت تک ڈرٹی بم تیار نہیں کیا تھا۔










