’لِونگ اپارٹ ٹوگیدر‘: کیا شادی شدہ افراد ایک دوسرے سے دور رہ کر بھی اچھی ازدواجی زندگی گزار سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارگریٹ گذشتہ 15 برسوں سےاپنے شوہر سے دور ایک دوسرے ملک میں مقیم ہیں جبکہ ان کے شوہر پیٹر آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ یہ دونوں سال، ڈیڑھ سال میں ایک بار ملاقات کے لیے ایک دوسرے کے ملک سفر کرتے ہیں۔
یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اتنے فاصلے اور طویل سفر کے باوجود بھی دونوں ایک دوسرے سے نہ صرف وفادار بلکہ بے حد خوش بھی ہیں۔
مارگریٹ نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ویمن آور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے نئے دوست بنا لیے ہیں اور خود اکیلی لندن میں اپنے آرام دہ اور پرسکون فلیٹ میں رہتی ہوں۔ میں نے شادی شدہ رہتے ہوئے یہ سب کچھ کیا ہے، یہ ایک حیرت انگیز تجربہ رہا ہے۔‘
اپنے جیون ساتھی سے دور ایک علیحدہ گھر میں رہنا اتنا غیر معمولی نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے اس طریقے کو وضاحت کرنے کے لیے ایک اصطلاح موجود ہے جس ’لِونگ اپارٹ ٹوگیدر‘ کہا جاتا ہے اور اس کا مخفف ایل اے ٹی ہے۔
لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شادی شدہ یا سول پارٹنرشپ میں رہنے والے افراد کا تناسب بہت کم یعنی صرف تین فیصد ہے۔
مارگریٹ کی رائے میں آپ ایک گھر میں نہ رہتے ہوئے بھی شادی کے بندھن میں رہ سکتے ہیں۔ بہت سے مشہور اور جانے پہچانے جوڑوں نے بھی ایک دوسرے سے الگ رہنے کے انتخاب کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMargaret Murphy
اداکارہ گوینتھ پالٹرو اور ان کے مصنف اور ہدایتکار شوہر بریڈ فالچک نے اپنی شادی کا ابتدائی حصہ الگ، الگ گھروں میں گزارا، جس کے بارے میں پالٹرو نے کہا تھا کہ اس طرح رہنے سے رشتے کو ہمیشہ تازہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
ماڈل ایشلے گراہم اور ان کے شوہر جسٹن ارون اپنے 13 سالہ تعلق کے دوران اداکارہ ہیلینا بونہم کارٹر اور ہدایتکار ٹم برٹن کی طرح کئی سالوں تک علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہتے رہے لیکن پھر بھی ساتھ جُڑے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں کامیڈی سیریز ایبٹ ایلیمنٹری میں کام کرنے والی اداکارہ شیرل لی رالف نے انکشاف کیا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر تقریباً 20 برس سے ایک دوسرے سے الگ امریکہ کے دو دراز ساحلوں پر رہ رہے ہیں، کیونکہ ان کے کام کے لیے انھیں ہالی ووڈ میں رہنے کی ضرورت ہے اور ان کے شوہر پینسلوانیا کے سینیٹر کی حیثیت سے فلاڈیلفیا میں رہنے پر مجبور ہیں۔
مارگریٹ کے لیے 15 سال پہلے کی زندگی بہت مختلف تھی۔
وہ آسٹریلیا میں رہتی تھیں اور گھر سے باہر کام نہیں کرتی تھیں اور اپنے چار بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں جبکہ ان کے شوہر پیٹر ایک کل وقتی ڈاکٹر تھے، جو خاندان کی مالی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔
جب مارگریٹ 57 برس کی ہو ئیں تو انھوں نے یونیورسٹی میں دوبارہ داخلہ لے لیا اور لسانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ان کے بچے بھی گھر چھوڑ چکے تھے تو اس وقت انھوں نے سوچا کہ یہ کچھ مختلف کرنے کا وقت ہے اور یوں پھر انھوں نے لندن جانے کا فیصلہ کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہMargaret Murphy
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لیکن ایسے رشتے نبھانا آسان نہیں ہوتا اور مارگریٹ اس بات کو برملا تسلیم بھی کرتی ہیں۔
’اس طرح الگ الگ رہنے کے کچھ انفرادی نقصانات بھی ہیں جیسے کہ میرے شوہر پیٹر اب بھی برسبین میں اپنے خاندانی گھر میں رہ رہے ہیں اور وہ خود دوسروں سے میل جول نہیں رکھتے۔ انھیں وہاں تنہائی ستا سکتی ہے۔‘
’میرے لیے نقصان یہ ہے کہ میرا جیون ساتھی میرے پاس نہیں ہے۔‘
مارگریٹ کہتی ہیں کہ ان تمام باتوں کے باوجود پیٹر اور ان کے درمیان تعلق برقرار رہنے کا راز باقاعدگی سے ایک دوسرے سے بات کرنا ہے۔
’میں پیٹر کو لندن میں اپنی زندگی، اپنے کام ، اپنے نئے دوستوں اور اپنے سفر کے بارے میں سب کچھ بتاتی ہوں۔ جب وہ لندن آتے ہیں تو انھیں اچھا لگتا ہے۔‘
شوق سے ’ویمن آور‘ پروگرام سننے والی کیری کا کہنا ہے کہ وہ تین سال سے اپنے ساتھی کے ساتھ رہ رہی ہیں اور انھوں نے شروع میں ہی اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ دونوں اپنی انفرادی ’آزادی‘ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
’ہم نے اپنے گھر ایک دوسرے کے قریب بنائے اور ان گھروں میں کرایے داروں کو رکھ لیا تاکہ گھروں کی خریداری کے لیے لیا گیا قرضہ اتارا جا سکے۔‘
ان دونوں کا شادی کرنے کا بھی ارادہ ہے مگر اس کے باوجود ان کی رہائش تبدیل نہیں ہوگی یعنی وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں گے۔
’یہ ہم دونوں کے لیے ناقابل یقین حد تک اچھا ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے باہمی تعلقات زیادہ مضبوط ہیں۔‘
ازدواجی تعلقات سے متعلق کونسلنگ دینے والے ادارے ’ریلیٹ‘ کے کلینیکل کوالٹی ڈائریکٹر امنڈا میجر کا کہنا ہے کہ یہ انتظام ہر ایک کے لیے نہیں ہے، لیکن ایسے شادی شدہ جوڑے جو علیحدہ رہنا چاہتے ہیں ان کے لیے ایسا انتظام فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
’یہ ایک ایسا انتظام ہے جو آپ کو اتنی گنجائش دیتا ہے کہ آپ اپنے مفادات اور دلچپسی کا خیال رکھ سکیں اور اپنی شناخت کو برقرار رکھ سکیں۔‘
الگ رہنے مگر ایک ساتھ رہنے کا طریقہ
- اس بات کا تعین کرلیں کہ دونوں شریکِ حیات ہی ایسا چاہتے ہیں۔ کسی قسم کے دباؤ میں ایسا فیصلہ نہیں کریں، ایسا نہ ہو کہ یہ فیصلہ کسی ایک کے مفاد میں ہو اور دوسرے کے لیے نقصان کا باعث بن رہا ہو۔
- اس رشتے سے متعلق کچھ شرائط گفتگو کے ذریعے طے کر لیں
- دونوں ساتھی باقاعدگی سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہوں۔
- یہ بھی طے کر لیا جائے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کون کون سے دن گزاریں گے، کب جنسی تعلق قائم کرنا ہے اور بچوں سے متعلق بھی تبادلہ خیال کر لینا چاہیے۔
- اپنے شریک حیات کے ساتھ بہت واضح انداز میں بات کریں۔













