’میں ایسا مرد ہوں جسے نہیں معلوم کہ زندگی میں محبت کیسے ڈھونڈنی ہے‘: جیون ساتھی کی تلاش مشکل تر کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

- مصنف, سٹیفانی ہیگارٹی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
دنیا بھر میں لوگ اپنا جیون ساتھی ڈھونڈنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران ہو یا جنوبی امریکہ میں میکسیکو اور پیرو، جنوبی افریقہ ہو یا ایشیا میں جنوبی کوریا ہر جگہ پر ہی پیار کے بندھن میں بندھے جوڑوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
چین میں سنہ 2014 میں ہونے والی شادیوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ تھی جو سنہ 2024 میں کم ہو کر صرف 60 لاکھ تک محدود ہو گئی۔۔
فن لینڈ میں کیے گئے سروے کے مطابق ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کی علیحدگی کے امکانات، مستقبل میں ان کے ایک دوسرے سے جڑے رہنے اور ایک خاندان کی شروعات کرنے کے امکانات سے زیادہ ہیں۔
تو ایسا کیوں ہے کہ اتنے سارے ممالک میں لوگ دیرپا رشتے بنانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
فلیپے 36 برس کے ہیں اور برازیل کی ریاست سینٹا کیٹارینا میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی کسی رشتے میں کسی سے منسلک نہیں رہے حالانکہ انھوں نے ایسا کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔
سکول میں وہ اپنی پسندیدہ لڑکیوں کو محبت بھرے خطوط لکھا کرتے تھے تاہم ان کو لڑکیوں کی جانب سے موصول ہونے والا جواب کبھی بھی حوصلہ بخش نہیں ہوا کرتا تھا۔
جب وہ یونیورسٹی میں تھے تو انھوں نے لڑکیوں کو کورس کے حوالے سے معاونت فراہم کرنی شروع کی تاکہ وہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکیں۔
تاہم اپنی عمر 30 سال ہونے پر انھوں نے تھیراپی کا سہارا لیا تاکہ یہ جان سکیں کہ خواتین کے ساتھ بہتر انداز میں بات چیت کیسے آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم تھیراپی کے باوجود اُن کی صورتحال اب بھی ویسی کی ویسی ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں ایک ایسا مرد ہوں جسے یہ نہیں معلوم کہ اپنی زندگی میں محبت کیسے ڈھونڈنی ہے۔‘
فلیپے بطور کاپی رائٹر کام کرتے ہیں اور فی الحال ان کے پاس کوئی اچھی نوکری نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اُن کے خواتین کو متاثر کرنے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے۔ بہت سے اور مرد بھی اس مسئلے کا شکار ہیں اور مستقبل میں ڈیٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔‘
امریکی ڈیٹا کے مطابق 18 سے 24 سال کے لوگ خصوصاً مرد اپنا وقت اکیلے گزار رہے ہیں۔
یہ 20 سال پہلے کے اعداد و شمار کے برعکس ہے جب اسی عمر کے افراد لوگوں میں اتنا ہی گھلا ملا کرتے تھے جتنا 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد۔
اب دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کے برعکس نوجوان یہ وقت سوشل میڈیا پر گزار رہے ہیں، گیمنگ کر رہے ہیں یا ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ برازیل جہاں سے فلیپے کا تعلق ہے دنیا میں سوشل میڈیا کے استعمال کی فہرست میں نمایاں ہے۔
اب جبکہ نوجوان آن لائن زیادہ وقت گزار رہے ہیں تو ظاہر ہے وہ ڈیٹنگ کے لیے بھی ایپس کا ہی استعمال کر رہے ہوں گے لیکن وقت کے ساتھ اب ڈیٹنگ ایپس کے استعمال میں بھی کمی آتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارکیٹ انٹیلیجنس کمپنی ’سینسر ٹاور‘ کے مطابق دنیا کی چھ سب سے بڑی ڈیٹنگ ایپس کے ڈاؤن لوڈز میں 18 فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔ یہ تاریخ میں ان ایپس کے ڈاؤن لوڈ کیے جانے میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں ریلیشنشپس اینڈ ٹیکنالوجی لیب کی ڈائریکٹر لیسل شارابی کا کہنا ہے کہ صارفین اب ڈیٹنگ ایپس سے مایوس ہو چکے ہیں، تھک چکے ہیں اور ساتھ ہی ایپس پر میچ کرنے والوں کی تعداد میں اضافے لیکن کوالٹی میں کمی سے بھی تنگ آ چکے ہیں۔
انھوں نے جس مسئلے کی نشاندہی کی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ آپس میں کیسے میچ کریں، اس فیچر میں جدت بہت کم آئی ہے۔ زیادہ تر ایپس میں مردوں کی تعداد زیادہ اور خواتین کی کم ہے۔
ڈاکٹر شارابی کا کہنا ہے کہ ’مردوں کو لگتا ہے کہ انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہ مایوسی کا باعث بنتا ہے جبکہ خواتین کو اتنی بڑی تعداد میں پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ وہ تھک جاتی ہیں۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ایپس کی وجہ سے ڈیٹنگ کے دوران احتساب میں کمی واقع ہوئی ہے اور لوگ بدتمیزی یا بدتہذیبی کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’سوائپ کرتے کرتے ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہم لوگوں سے نہیں بلکہ مصنوعات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔‘
حسانہ کا تعلق نائجیریا سے ہے اور انھیں ڈیٹنگ ایپس پسند نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اپنی بولی لگوا رہی ہوں۔‘
تاہم انھیں آف لائن ڈیٹنگ بھی مشکل لگتی ہے کیونکہ انھیں اپنے اقدار سے مطابقت رکھنے والے مرد کم ہی ملتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک فیمینسٹ ہوں اور زیادہ جاننے کی بھی قیمت ہوتی ہے، کچھ ایسی چیزیں ہیں جنھیں میں نظر انداز نہیں کر سکتی۔‘
وہ 26 سال کی ہیں اور ایک وکیل ہیں لیکن وہ لانڈری کا کاروبار بھی کر رہی ہیں اور ایک غیر سرکاری تنظیم بھی چلا رہی ہیں جو گھریلو تشدد کا شکار خواتین کی مدد کرتی ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کے باعث نائجیریا میں خواتین جتنی بڑی تعداد میں گھریلو تشدد کے بارے میں رپورٹ کر رہی ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں کر رہی تھیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نسل کی خواتین کو برے رشتے میں بندھنے کے نقصانات کا بخوبی علم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ، چین، جنوبی کوریا اور یورپ کے دیگر حصوں میں کیے گئے سروے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان خواتین اور مردوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے نظریات میں خلیج پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرِ سماجیات ڈاکٹر ایلس ایونز کے مطابق یہ ایک بڑی خلیج ہے اور اس پر کتاب بھی لکھ رہی ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین آن لائن ایسا مواد زیادہ دیکھتی ہیں جو ان کو ترقی پسند بناتا ہے۔
حسانہ کے لیے یہ بات اس لیے سچ ہے کہ اکثر انھیں جو مرد پسند آتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس کو فالو کر رہے ہوتے ہیں جو پدرشاہی خیالات کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ خاصا خوفناک ہے۔‘
ایران میں 40 سالہ نیزی کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ وہ سنگل ہیں اور گذشتہ 10 سالوں سے محبت کی تلاش میں ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں تھوڑی بہت فیمنسٹ ہوں۔ میں کام کرنا چاہتی ہوں اور میں اتنا ہی پیسہ کمانا چاہتی ہوں جتنے میرے ساتھی کماتے ہیں۔ لیکن پھر وہ (میرے ساتھی مرد) سوچتے ہیں کہ ’اچھا یہ مجھ سے مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔‘
تاہم متعدد خواتین کی اب بھی اپنے ساتھی سے روایتی قدامت پسند توقعات ہیں۔
نیزی اور حسانہ ایسے کسی بھی شخص کے ساتھ رشتے میں بندھنے سے ہچکچاتی ہیں جو مالی طور پر بہتر نہ ہو۔
دونوں خواتین کے پاس پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں اور اچھے کریئر ہیں۔ تاہم اب ان کے پاس موجود آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ زیادہ تر ممالک میں اب خواتین گریجویٹس کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے اور لڑکیاں سکولوں میں لڑکوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر ایونز کے مطابق اکیلے رہنے سے متعلق دقیانوسی خیالات میں کمی کے باعث اب ڈیٹنگ ترک کرنا آسان ہو گیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ذاتی انٹرٹینمنٹ کی کوالٹی میں اضافے کے باعث اب اگر ڈیٹس بورنگ ہوں تو آپ گھر پر بیٹھ کر برجرٹن (ویب سیریز) دیکھ سکتے ہیں یا ویڈیو گیمز کھیل سکتے ہیں۔‘
تاہم انھیں نوجوان لوگوں میں میل جول کی کمی پریشان کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر مرد اور خواتین ساتھ وقت نہیں گزار رہے، محبت بھرے خیالات اور ایسے نظریات شیئر نہیں کر رہے ہیں جس میں ان کا اختلاف ہے تو پھر ایک دوسرے کے لیے ہمدردی پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔‘
ڈاکٹر شارابی جو ڈیٹنگ اپس پر تحقیق کر رہی ہیں مانتی ہیں کہ ٹیکنالوجی نے اصلی دنیا میں بنائے گئے رابطوں کو ختم کر دیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے نوجوان بتاتے ہیں کہ وہ کسی خوبصورت شخص کو شراب خانے پر دیکھ لیں گے لیکن ان کے پاس نہیں جائیں گے اور جا کر ڈیٹنگ ایپ پر دیکھیں گے کہ آیا وہ وہاں ہیں یا نہیں۔‘
ان کے مطابق ’عام طور پر ہم انسانی رابطوں سے ایسے کترا رہے ہیں جیسے ہم پہلے کبھی نہیں کتراتے تھے۔‘










