ڈی موناٹائزیشن کیا ہے اور پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد صہیب، زبیر اعظم
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کا موجودہ معاشی بحران سنبھلنے کا نام نہیں لے رہا اور آئے روز بڑھتی مہنگائی اور ہر چند ہفتوں بعد سامنے آنے معاشی اعشاریوں کی تنزلی کے بعد اکثر افراد یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہے۔
یہ سوال گذشتہ ایک سال سے پاکستان میں معاشی ماہرین سے کئی مرتبہ پوچھا جا چکا ہے تاہم اس کے روایتی حل ہی سامنے آتے ہیں جنھیں چند حلقوں کی جانب سے قلیل مدتی حل قرار دیا جاتا ہے تاہم دو روز قبل ایک پوڈکاسٹ میں ماہر معیشت عمار خان نے ایک غیر روایتی حل پیش کیا ہے جو فی الحال سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔
عمار خان نے پوڈکاسٹ ’دی پاکستان ایکسپیرینس‘ کے میزبان شہزاد غیاث سے بات کرتے ہوئے ’ڈی موناٹائزیشن‘ کو پاکستانی معیشت کو باضابطہ بنانے، اسے قانونی اور رسمی شکل دینے اور برآمدات بہتر کرنے کا ایک طریقہ قرار دیا۔
انھوں نے اس دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ساڑھے آٹھ کھرب روپے ملکی معیشت میں موجود ہیں، لوگوں کے پاس کیش تو ہے، کھپت بھی ہو رہی ہے لیکن یہ انفارمل (غیررسمی) معیشت کا پیسہ ہے جو ٹیکس دیے بنا فارمل (رسمی) معیشت کی کھپت بڑھا رہا ہے اور یہی مسئلہ ہے۔ جب پیسہ سسٹم سے باہر ہے تو اسے پیداواری کاموں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘
عمار کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر یہ آٹھ کھرب روپے بینکوں کے پاس واپس آ جائیں، یا چلیں چار یا پانچ کھرب ہی آ جائیں، تو آپ کے پاس اضافی رقم ہو گی جس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت پانچ ہزار کے نوٹ کو ڈی موناٹائیز کرنے کی ضرورت ہے، کہہ دیں کہ چھ مہینے بعد یہ نوٹ نہیں چلے گا۔ بہت لوگ روئیں گے لیکن وہی لوگ روئیں گے جن کے پاس پانچ ہزار کا نوٹ ہو گا۔‘
’اس سے یہ ہو گا کہ لوگ بینکوں میں پیسہ جمع کروانا شروع کر دیں گے۔ اس پیسے کو ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے استعمال کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس پوڈکاسٹ میں وہ اس بارے میں مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ظاہر ہے اس بارے میں مزید سوالات اٹھیں گے جیسا کہ پاکستان میں اکثر لوگوں کے بینک اکاؤنٹس نہیں ہیں، تو ایسا فوری طور پر ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ کے پاس بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا احساس کی صورت میں ایک بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے جس کے ذریعے آپ پھر یہ پیسا ٹارگٹڈ انداز میں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں متعدد سوالات جنم لیتے ہیں اور اس حوالے سے ہمسایہ ملک انڈیا کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جہاں آج سے لگ بھگ نو برس قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسی نوعیت کی پالیسی کے تحت پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ ڈی موناٹائزیشن ہے کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہوتا ہے اور آیا یہ پاکستانی معیشت کے لیے مفید ثابت ہو بھی سکتی ہے یا نہیں؟
ڈی موناٹائزیشن کیا ہے اور اس کا کیا مقصد ہوتا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈی موناٹائزیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں کوئی بھی حکومت مخصوص بینک نوٹ کو معیشت سے ختم کرنے کے لیے پالیسی مرتب کرتی ہے۔
اس پالیسی کے تحت مخصوص بینک نوٹ کی معیاد مقرر کر دی جاتی ہے اور عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ کتنے عرصے بعد اس کرنسی نوٹ کو استعمال نہیں کیا جا سکے گا یعنی مارکیٹ میں یہ قابل قبول نہیں ہو گا۔
حکومت ایسی پالیسی مرتب کرتی ہے جس کے تحت اس دورانیے میں عوام اس نوٹ کو بینکوں میں جمع کروا سکیں۔ اس کے بعد یہ رقم نکلوانے کی اجازت تو ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے حکومت کچھ شرائط عائد کرتی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ بڑے نوٹ عام طور پر کرپشن، ٹیکس چوری، سمگلنگ جیسے غیر قانونی کاموں میں استعمال کیے جاتے ہیں اور ڈی موناٹائزیشن کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ کرپشن اور ٹیکس چوری کو ختم کیا جائے۔
اس کے علاوہ ڈی موناٹائزیشن کے ذریعے معیشت میں کرنسی نوٹوں کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیاں کریں۔ یوں معیشت کو ڈاکیومنٹ کرنے اور ٹیکس جمع کرنے میں بھی مدد ملتی ہے اور جب بینکوں میں زیادہ سے زیادہ رقوم جمع کروائی جاتی ہیں تو حکومت کے پاس پالیسیاں بنانے اور رقم کو مخصوص سیکٹرز میں مراعات دینے کے لیے استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ڈی موناٹائزیشن کتنی مفید رہی؟
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر 2016 کو شام آٹھ بجے قوم سے خطاب اپنے ایک خطاب میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انڈیا کی حکومت کے مطابق اس پالیسی کا مقصد جعلی نوٹوں اور غیر اعلانیہ دولت کا خاتمہ کرنا تھا۔
اس اعلان کے چند گھنٹے بعد یعنی رات 12 بجے ان نوٹوں کی قدر ختم ہو چکی تھی تاہم لوگوں کو انھیں اپنے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرنے کی اجازت تھی اور اس رقم کو وہ کچھ شرائط پر ہی نکلوا سکتے تھے۔
اس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں کے پاس بڑی تعداد میں کالا دھن (وہ پیسہ جس پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا) موجود ہے وہ قانونی کارروائی کے خوف سے اسے بینک میں جمع نہیں کروائیں گے اور یوں یہ رقم تلف ہو جائے گی۔
انھوں نے لکھا تھا کہ اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 99 فیصد ایسی رقم جو ’غیر ٹیکس شدہ تھی اگلے چند ماہ کے دوران بینکوں میں جمع کروائی گئی، یعنی ’بلیک منی‘ تلف کرنے کا مقصد پورا نہیں ہو سکا۔‘
اسی طرح جعلی نوٹ معیشت میں ڈی موناٹائزیشن کے بعد بھی موجود رہے اور ان میں کمی نہیں آئی۔
اس دوران حکومت کی ناقص حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کے باعث عام آدمی کو پیش آنے والی مشکلات زیرِ بحث آئی تھیں۔
وویک کول نے لکھا کہ ’حکومت کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کس شکل میں کتنا کالا دھن موجود تھا۔‘
ان کے مطابق اس پالیسی کی وجہ سے ان فارمل (غیررسمی) سیکٹر میں بہت سے لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ زراعت کا شعبہ بھی متاثر ہوا۔
انڈیا میں اس پالیسی کا ایک اور فوری اثر کیش کی کمی کی صورت میں بھی سامنے آیا تھا جب لوگوں کی قطاریں بینکوں کے باہر دکھائی دیں۔
نریندر مودی کی اس حکمتِ عملی کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم کچھ معاشی ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس کے باعث انڈیا کی معیشت کو دور رس فائدے ضرور ہوئے۔
خیال رہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے رواں برس کے آغاز میں اس پالیسی کو قانوی قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد متعدد انڈین جریدوں کی جانب سے اس پالیسی کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ جہاں اس پالیسی کے آغاز کے مقاصد پورے نہیں ہو سکے، لیکن طویل المدتی اعتبار سے اس کے باعث انڈیا کی معیشت کو ’فارملائز کرنے میں مدد ملی‘ اور ملک میں لوگ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب ہوئے اور ’معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کا موقع ملا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں ڈی موناٹائزیشن کا عمل کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟
سنہ 2016 میں جب انڈیا میں ڈی موناٹائزیشن کی پالیسی اپنائی گئی تو پاکستان میں بھی سینیٹ نے ایک قررداد کے ذریعے تجویز دی کہ پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم کر دیا جائے تاکہ غیر قانونی پیسے کا بہاؤ روکا جا سکے اور پاکستان کی ان فارمل معیشت جو ٹیکس ادا نہیں کرتی محدود کی جا سکے۔
تاہم اس وقت پاکستان کی وزارت خزانہ نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔
اس وقت حکومت کا موقف تھا کہ نوٹ ختم کرنے کے بجائے ڈیجیٹل بینکنگ کا فروغ ایک بہتر حل ہے جس کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ پانچ ہزار روپے کا نوٹ پاکستانی کرنسی کا سب سے بڑا بینک نوٹ ہے جس کا پہلی بار اجرا 2006 میں کیا گیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان کی تمام حکومتوں کی کوششوں کے باوجود پاکستان میں ٹیکس ادائیگی کی شرح دس فیصد سے بھی کم ہے جس کی وجہ ان فارمل (غیررسمی) معیشت بتائی جاتی ہے۔
ماہرِ معیشت ثنا توفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پاکستانی معیشت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کی مثال آپ انڈیا سے لے لیں، وہاں بھی ڈی موناٹائز کرنے کے جو بنیادی مقاصد تھے وہ پورے نہیں ہو سکے تھے اور الٹا اس کا کم آمدنی والے افراد پر ہی اثر پڑا۔‘
ثنا توفیق کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ڈیجٹائزیشن کے حوالے سے جن چیزوں کی فوری ضرورت ہے جب تک وہ پوری نہیں کی جاتیں تب تک ایسی کسی پالیسی کو لانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں جن لوگوں پر ٹیکس لگایا ہی نہیں جاتا ان کے پاس ہی سب سے زیادہ دولت ہے، تو اگر آپ ڈی موناٹائز کر بھی دیں تو ان کے پاس آپشن موجود ہیں اس پیسے کو کسی دوسرے اثاثے میں تبدیل کروانے کے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ثنا توفیق کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طبقے پر ٹیکس لگایا جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے، اسی طرح ریئل سٹیٹ سیکٹر میں جہاں زیادہ تر ادائیگیاں کیش پر ہو رہی ہیں اس پر ٹیکس لگایا جائے اور اس شعبے کو ڈاکیومنٹ کیا جائے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا اس حوالے سے انتظامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ’پاکستان میں لوگوں کے بینک اکاؤنٹس نہیں ہیں۔ جب تک آپ یہ مسائل حل کر دیں گے تو پھر ڈی موناٹائزیشن کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔‘
ماہرِ معیشت ڈاکٹر ہادیہ سعید نے ثنا توفیق کی بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ ’اس کا مختصر جواب تو یہی ہے کہ اگر آپ انڈیا کی مثال کو دیکھیں تو ایسا کرنا درست نہیں ہو گا۔‘
’انھوں نے کہا پاکستان کی معیشت کے مسائل انتظامی ہیں جن کے حل کے لیے اس بارے میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،
وزارتِ پلاننگ کمیشن کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر ندیم جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈی موناٹائزیشن کا بنیادی مقصد کرپشن، رشوت یا کک بیکس اور جعلی نوٹوں اور کالے دھن کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے۔‘
’ان تمام چیزوں کو ختم کرنے کے لیے حکومت پہلے سے ہی اقدامات اٹھا رہی ہے جن کو بہتر انداز میں لاگو کرنے کے بارے میں تو بات کی جا سکتی ہے لیکن نوٹ ختم کرنے سے آپ کو اس کا فوری حل نہیں مل سکتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں خاصی بحث کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں چیئرمین پائیڈ ندیم حق نے اس مشورے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس سے کچھ بھی نہیں ہو گا، بلکہ لوگ ڈالر اور سونا خریدنے کی دوڑ میں لگ جائیں گے جس سے روپے کی قدر میں اور کمی ہو گی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں ہو گا۔‘
وفاقی وزیر احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس کا پاکستان میں اس طرح اثر نہیں ہو گا جیسے انڈیا میں ہوا۔ لوگ رقوم کو سونے یا ڈالر میں بدل لیں گے یا کوئی اور طریقہ ڈھوںڈ نکالیں گے لیکن اپنی اصل دولت ظاہر نہیں کریں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
تاہم ایسے لوگ بھی سوشل میڈیا پر نظر آئے جنھوں نے اس کی حمایت کی۔ نجم علی نے لکھا کہ ’اب وقت آ چکا ہے کہ کیش میں سودے ختم کیے جائیں۔ ڈی موناٹائزیشن سے پاکستان میں کرپشن کا کلچر ختم ہو گا۔‘
ان کو جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فراز چوہدری نے کہا کہ ’کوئی بھی پالیسی بنانے والا ڈی موناٹائزیشن کی ترغیب نہیں دے گا، خاص طور پر اس موقع پر جب گروتھ بہت کم ہے۔‘
’یہ اہم ہے اور مستقبل ڈیجٹائزیشن میں ہی ہے لیکن پاکستان میں ہمیں تمام اقدامات آہستہ آہستہ لینے کی ضرورت ہے۔‘












