جیمز ویب خلائی دوربین سے پہلے سیارے کی دریافت جو زمین جیسا ہے

ناسا

،تصویر کا ذریعہNASA, ESA, CSA, Leah Hustak (STScI)

،تصویر کا کیپشننئے سیارے کا تخیلاتی خاکہ

گذشتہ سال کے اواخر میں اپنی لانچ سے لے کر اب تک جیمز ویب خلائی دوربین نے کئی نئی دریافتیں کی ہیں اور اب اس فہرست میں ایک اور چیز کا اضافہ ہو گیا ہے۔ 

پہلی مرتبہ دنیا کی اس سب سے بڑی دوربین نے ایک سیارہ دریافت کر لیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ سیارہ بہت حد تک زمین کے جیسا ہے۔ 

سائنسدانوں نے اب اس کے مزید مشاہدوں کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ آنے والے مہینوں میں اس نئے سیارے کے بارے میں مزید جانا جا سکے۔ 

سائنسدانوں نے کیا دریافت کیا ہے؟

اس پتھریلے سیارے کا نام ایل ایچ ایس 475 بی ہے اور یہ زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر برج اوکٹینز میں ہے۔

اس کا سب سے پہلے پتا ناسا کی ایک سیٹلائٹ نے لگایا تھا پر اس کا مشاہدہ کر کے اس کی موجودگی کی تصدیق جیمز ویب نے کی ہے۔

ناسا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 کو لانچ کیا گیا تھا

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

چونکہ یہ سیارہ ہمارے لیے نیا ہے، اس لیے ابھی ہمیں اس کے بارے میں بہت کچھ جاننا ہے، پر سائنسدان اب تک کچھ ابتدائی تفصیلات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ 

یہ ایک چھوٹا سا پتھریلا سیارہ ہے جو بالکل زمین کے سائز جتنا ہے۔ 

اُنھوں نے یہ بھی پایا ہے کہ یہ زمین سے کچھ سو ڈگری زیادہ گرم ہے۔ 

ٹیم اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا ادھر فضا اور آب و ہوا موجود ہے یا نہیں۔ تاہم اُنھیں یہ یقین ہے کہ اس کی فضا میں سیارہ زحل (سیٹرن) کے ایک چاند ٹائٹن کی طرح میتھین کی کثیف سطح نہیں ہے۔ 

سائنسدان اس نئی دریافت سے پرجوش ہیں اور اُنھیں امید ہے کہ یہ بڑی سی دوربین مستقبل میں کئی مزید سیارے دریافت کرے گی۔ 

ناسا کے ڈائریکٹر مارک کلیمپن نے کہا: ’زمین کے سائز کے ایک پتھریلے سیارے کے پہلے مشاہداتی نتائج مستقبل میں اس دوربین کے ذریعے پتھریلے سیاروں کی فضا کا جائزہ لینے کے لیے کئی امکانات کا دروازہ کھولتے ہیں۔‘ 

اُنھوں نے کہا کہ ’جیمز ویب ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں نئی معلومات کے قریب سے قریب تر لا رہی ہے اور یہ مشن تو ابھی صرف شروع ہوا ہے۔‘ 

سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ گرمیوں کے لیے طے شدہ نئے مشاہدوں کے ذریعے اس نئے سیارے کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر سکیں گے۔