10 ارب ڈالر کی جیمز ویب خلائی دوربین کی لانچ کا ایک سال، اسے اب تک کیا کیا نظر آیا؟

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI/WEBB ERO PRODUCTION TEAM
- مصنف, جوناتھن ایمس
- عہدہ, نامہ نگار سائنس، بی بی سی نیوز
یہ دنیا کے لیے 10 ارب ڈالر کا تحفہ تھا، ایسی مشین جو اس کائنات میں ہمیں ہماری حیثیت سے روشناس کروانے والی تھی۔
آج سے ایک برس قبل جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ کرسمس کے موقع پر لانچ کی گئی تھی۔ اس کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ اور تیاری میں تین دہائیاں لگی تھیں۔
کئی لوگوں کو اس حوالے سے خدشات تھے کہ مشہورِ زمانہ ہبل سپیس ٹیلیسکوپ کی جانشین کہلائی جانے والی یہ دوربین کیا واقعی توقعات پر پوری اتر سکے گی۔
ہمیں اس کی لانچ کے بعد کچھ مہینے انتظار کرنا پڑا جس دوران اس کا شاندار ساڑھے چھ میٹر قطر والا شیشہ کھلا اور اس نے خود کو فوکس کیا۔ اس دوران اس کے دیگر سسٹمز بھی ٹیسٹنگ اور کیلیبریشن سے گزرتے رہے۔
مگر پھر یہ بالکل وہی چیز ثابت ہوئی جو کہ کہا جا رہا تھا۔ امریکہ، یورپ اور کینیڈا کے خلائی اداروں نے جولائی میں اس کی پہلی رنگین تصوایر جاری کیں۔
اس صفحے پر آگے موجود تصاویر وہ ہیں جو شاید آپ کی نظر سے نہ گزری ہوں۔
جیمز ویب ٹیلیسکوپ کے بارے میں آپ سب سے پہلے جو چیز نوٹ کریں گے وہ یہ کہ یہ ایک انفراریڈ ٹیلیسکوپ ہے۔ یہ آسمان کو روشنی کی اُن ویو لینتھس (طول الموج) میں بھی دیکھ سکتی ہے جو ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔
ماہرینِ فلکیات اس کے مختلف کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے کائنات کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہیں، جیسے کہ گیس اور دھول کے ان بلند و بالا ٹاورز کا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پِلرز آف کریئیشن یا تخلیق کے ستون کہلانے والے یہ مینار ہبل سپیس ٹیلیسکوپ کا بھی پسندیدہ ہدف تھے۔ ان کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر آپ روشنی کی رفتار سے بھی چل سکیں تو آپ کو اس پوری جگہ سے گزرنے میں کئی برس لگیں گے۔

،تصویر کا ذریعہNasa/Esa/CSA/STScI
کیرائنا نیبیولا

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI
اس منظر کو کوسمک کلفس یا کائناتی پہاڑیاں کہا جاتا ہے۔ یہ ستاروں کی پیدائش کی ایک اور نرسری ’کیرائنا نیبیولا‘ کا ایک کونا ہے۔
یہاں موجود ان بادلوں کی ایسی ساخت اس تیز الٹراوائلٹ شعاعوں اور ہواؤں کی وجہ سے ہے جو نوزائیدہ اور انتہائی گرم ستاروں کی جانب سے آتی ہیں۔
اس تصویر کی ایک طرف سے دوسری طرف تک کا فاصلہ 15 نوری سال کا ہے۔ ایک نوری سال تقریباً 94.6 کھرب کلومیٹرز کے برابر ہوتا ہے۔
کارٹ وہیل گیلیکسی

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI/WEBB ERO PRODUCTION TEAM
دائیں جانب موجود یہ بڑی کہکشاں مشہور سوئس ایسٹرونامر فرٹز زوئکی نے 1940 میں دریافت کی تھی۔ کسی ٹھیلے کے پہیے جیسا اس کا ڈیزائن ایک اور کہکشاں سے بالکل سامنے سے ٹکرانے کی وجہ سے ہے۔ اس گیلیکسی کا قطر ایک لاکھ 45 ہزار نوری سال ہے۔
سیارہ نیپچون

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI
جیمز ویب صرف کائنات کی وسعتوں میں ہی نہیں دیکھتی بلکہ یہ ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں موجود چیزوں کا بھی مشاہدہ کرتی ہے۔ یہ ہمارے سورج سے آٹھواں سیارہ نیپچون اپنی رنگز کے ساتھ ہے۔ اس کے گرد موجود چھوٹے سفید نقطے اس کے چاند ہیں اور جبکہ اوپر موجود ایک کونوں والی ستارہ نما چیز بھی ایک چاند ہے جس کا نام ٹرائٹن ہے۔ یہ نیپچون کی سب سے بڑی سیٹلائٹ ہے۔ اس پر نظر آ رہے کونے دراصل جیمز ویب کے شیشوں کے ڈیزائن کی وجہ سے ہیں۔
اورائن نیبیولا

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI-PDRS4ALL ERS TEAM
اورائن رات کے آسمان پر نظر آنے والے سب سے مشہور خطوں میں سے ہے۔ زمین سے 1350 نوری برس دور موجود اس خطے میں نئے ستاروں کی پیدائش ہوتی ہے۔ جیمز ویب کی لی گئی اس تصویر میں اورائن بار نامی جگہ نظر آ رہی ہے جو گیسز اور دھول کی ایک دیوار ہے۔
ڈائمورفوس

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI/C.THOMAS/I.WONG
رواں سال کی سب سے اہم خلائی خبروں میں سے ایک ناسا کا ایک سیارچے ڈائمورفوس سے ایک خلائی جہاز ٹکرانا تھا۔ مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کیا ایسی کسی ٹکر سے 160 میٹر چوڑے اس خلائی پتھر کا راستہ تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں تاکہ زمین کو ممکنہ طور پر خطرناک سیارچوں سے بچانے کے حکمتِ عملی کی آزمائش کی جا سکے۔ جیمز ویب نے اس ٹکر کے باعث بکھرنے والے ایک ہزار ٹن ملبے کی یہ تصویر لی۔
ڈبلیو آر 140

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI/JPL-CALTECH
یہ اس سال جیمز ویب کی لی گئی سب سے دلچسپ تصاویر میں سے ایک تھی۔ ڈبلیو آر درحقیقت وولف رائیٹ کا مخفف ہے جو اپنی زندگی کے خاتمے کے قریب پہنچ چکے ستاروں کی قسم ہوتی ہے۔ وولف رائیٹ ستارے گیسز خلا میں خارج کرتے ہیں اور اس کے قریب ایک ستارہ جو تصویر میں موجود نہیں ہے، وہ ان ہواؤں کو جوڑ کر دھول بنا رہا ہے۔ آپ جو دھول کے خول باہر نکلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں وہ 100 کھرب کلومیٹر تک باہر نکلے ہوئے ہیں جو ہماری زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے 70 ہزار گنا زیادہ ہے۔
فینٹم گیلیکسی

،تصویر کا ذریعہNASA/ESA/CSA/STSCI
ایم 74 کہلانے والی فینٹم گیلیکسی کو اس کے شاندار گھماؤ دار بازوؤں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ زمین سے تقریباً تین کروڑ 20 لاکھ نوری برس دور برج حوت یا پائسس میں ہے اور اس کا رخ ہماری جانب ہے جس کی وجہ سے جیمز ویب کو اس کے بازوؤں اور ان کی ساخت کا بہترین اندازہ ہوتا ہے۔ اس ٹیلیسکوپ کے ڈیٹیکٹرز گیس اور دھول کی باریک لہروں کو بھی باآسانی دیکھ پاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNASA













