آتش فشاں کی راکھ میں محفوظ رہنے والے انسانی دماغ کی ’شیشے میں پُراسرار تبدیلی‘ کا معمہ

،تصویر کا ذریعہGuido Giordano
- مصنف, جیورجینیا رینارڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
اٹلی کے ویسویئس آتش فشاں کے پھٹنے سے ہونے والی ایک نوجوان کی موت کے تقریباً 2000 سال بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ نوجوان کے جل جانے کے بعد اس کا دماغ آتش فشاں کی راکھ میں محفوظ تو رہا مگر یہ شیشے میں تبدیل ہو گیا۔
محققین نے یہ دماغ سنہ 2020 میں دریافت کیا تھا اور انھوں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ ایک ’فوسلائزڈ برین‘ یعنی پتھر میں تبدیل ہو جانے والا دماغ تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ایک انسانی دماغ آخر شیشے میں تبدیل کیسے ہوا۔
مٹر کے سائز کے سیاہ رنگت والا شیشے کا یہ ٹکڑا متاثرہ شخص کی کھوپڑی کے اندر سے ملا تھا جس کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔ اس نوجوان کی ہلاکت 79 عیسوی میں اٹلی کے شہر نیپلز کے قریب آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ 510 سینٹی گریڈ تک گرم آتش فشاں کی راکھ نے دماغ کو اپنے اندر محفوظ کر لیا اور پھر بہت تیزی سے یہ راکھ ٹھنڈی ہو گئی جس کی وجہ سے یہ انسانی دماغ شیشے میں تبدیل ہو گیا۔
یہ انسانی ٹشوز یا کسی بھی نامیاتی مواد کے قدرتی طور پر شیشے میں تبدیل ہونے والا واحد کیس ہے جو ہمارے سامنے آیا ہے۔
یونیورسٹی روما ٹری کے پروفیسر گیڈو جیورڈانو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جن خاص حالات میں دماغ شیشے میں تبدیل ہوا (وٹرِفکیشن) دیگر انسانی باقیات کا بھی ایسا ہی ہو جانا بہت مشکل ہے، تاہم یہ ناممکن نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک انوکھی دریافت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ دماغ ایک ایسے فرد کا تھا کہ جو رومن شہر ہرکولینیم کی مرکزی سڑک پر واقع کولیجیم نامی عمارت کے اندر اپنے بستر پر ہلاک ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنس دانوں کو ملنے والے شیشے کے ٹکڑوں کا سائزایک سے دو سینٹی میٹر سے لے کر صرف چند ملی میٹر تک ہے۔
جب ویسوویئس کا آتش فشان پھٹا تو اس نے ہرکولینیم اور قریبی پومپئی نامی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہ وہ مقامات تھے کہ جہاں کی آبادی 20 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ تاہم یہاں سے تقریباً 1500 افراد کی باقیات ملی ہیں۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آتش فشاں سے اُٹھنے والی اس گرم راکھ نے سب سے پہلے ویسویئس کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کی وجہ سے یہاں سب سے زیادہ اموات ہوئیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGuido Giordano
آتش فشاں سے نکلنے والے گرم لاوے نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانیں لینے کے بعد اس علاقے کو دفنا دیا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ نے انسان کے دماغ کو شیشے میں تبدیل کر دیا کیونکہ لاوے کا درجہ حرارت اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اتنی جلدی یا تیزی سے ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔
شیشہ بننے کے عمل میں بہت مخصوص درجہ حرارت کے حالات کی ضرورت ہوتی ہے اور قدرتی طور پر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
کسی مادے کو شیشے میں تبدیل کرنے کے لیے مادہ اور اس کے آس پاس کے ماحول کے درجہ حرارت میں بڑے فرق کا ہونا ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGuido Giordano
محققین کی ٹیم نے ایکس رے اور الیکٹرون مائیکروسکوپی کی مدد سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دماغ کے تیزی سے ٹھنڈا ہونے سے قبل اس کا کم از کم درجہ حرارت 510 سینٹی گریڈ تک پہنچا ہوگا جس کے بعد اس کی شکل شیشے کے ایک ٹُکڑے میں تبدیل ہوئی۔
خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس شخص کے جسم کا کوئی اور حصہ شیشے میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔
دیگر نرم ٹشوز اور اعضا ممکنہ طور پر لاوے کی گرمی کی وجہ سے شیشے میں تبدیل ہونے سے قبل ہی جل کر خاک ہو گئے۔
تاہم سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ آتش فشاں کی وجہ سے شدید حد تک پہنچ جانے والے درجہ حرارت میں بھی انسانی کھوپڑی نے دماغ کو کسی حد تک تحفظ فراہم کیا ہے۔













