آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوہستان کرپشن سکینڈل: نیب کے ساتھ چار ارب روپے کی پلی بارگین کے بعد ڈمپر ڈرائیور کی رہائی
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں سرکاری محکمے سول اینڈ ورکس سے جڑے 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ایک سکینڈل میں چار ارب روپے کی پلی بارگین منظور ہونے پر احتساب عدالت نے ایک ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس کیس میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات حتمی مراحل میں ہیں۔ مقدمے میں گرفتار کیے گئے 30 ملزمان میں سے صرف ایک کو رہا گیا ہے جن کی رہائی پلی بارگین کے ذریعے ممکن ہوئی۔
نیب حکام کے مطابق سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں سابق ڈپمر ڈرائیور ممتاز نے چار ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست چیئرمین نیب کو دی تھی جو منظور کر لی گئی۔
پھر احتساب عدالت نے پلی بارگین کی توثیق کرتے ہوئے ممتاز کو رہا کرنے کا حکم دیا۔
’دو کروڑ روپے کی رقم پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی‘
اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بطور کلرک کام کرتے تھے۔ نیب حکام کے بقول ممتاز ان کے ’فرنٹ مین‘ تھے اور مرکزی ملزم نے ان کے نام پر ’بہت ساری جائیدادیں خرید رکھی تھیں۔‘
اس مقدمے میں سی اینڈ ڈبلیو محکمے کے علاوہ نینشل بینک، اکاؤٹیٹنٹ جنرل اور دیگر محکموں کے حاضر سروس ملازمین اور سویلین بھی شامل ہیں۔
قومی احتساب بیورو نے اس مقدمے میں 109 کے قریب اثاثوں کو بھی ضبط کیا جو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی ملکیت ہیں۔
جو غیر منقولہ اثاثے منجمد کیے گئے ہیں نیب کے بقول ان کی مارکیٹ ویلیو ’17 ارب روپے سے زیادہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیب کے مطابق ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی رقم اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی تھی۔
جو اثاثے ضبط کیے گئے ان میں کمرشل پلازے، فلیٹس، گھر اور دکانیں شامل ہیں اور یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ہیں۔
اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال نے چیئرمین نیب کو 14 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست بھی بھجوائی ہوئی ہے جس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
اہلکار کے مطابق نیب نے مرکزی ملزم قیصر اقبال کی اہلیہ کو بھی گرفتار کیا ہوا ہے اور اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے ملزمہ کی نشاندہی پر ’دو کروڑ روپے کی رقم بھی برآمد کی جو پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی۔‘
پشاور ہائی کورٹ نے ملزمان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں نیب کو اس مقدمے میں ان کے خلاف کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
نیب کی ٹیم کو اس مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعظم سواتی بھی تحقیقات کے لیے مطلوب ہیں لیکن وہ ابھی تک تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے جبکہ نیب کی ٹیم کی جانب سے انھیں سوالنامہ بھی بھجوایا گیا تھا۔
اعظم سواتی نے اس مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی دی تھی جو عدم پیروی کی وجہ سے مسترد کر دی گئی۔
وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر اعظم سواتی کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اعظم سواتی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے بلکہ انھیں اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا جا رہا ہے لیکن ابھی تک وہ پیش نہیں ہوئے۔
یہ معاملہ کب منظر عام پر آیا؟
اپر کوہستان میں کرپشن کا معاملہ صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا اور اس اجلاس میں اس علاقے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں جو فنڈز جاری ہوئے تھے، اس کے تین آڈٹ پیرا کو زیر بحث لایا گیا۔
جب اس معاملے کی تحقیقات کے لیے آڈیٹر جنرل اور دیگر محکموں کے نمائندوں پر مشتمل افراد نے چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ جن ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے تھے وہ گراؤنڈ پر موجود ہی نہیں۔
اس معاملے میں پیشرفت سامنے آنے کے بعد نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دیں۔
پارلیمنٹ سے قومی احتساب بیورو ایکٹ میں ترمیم کے بعد نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کی تحققیات کرنے کا مجاذ ہے جس میں 50 کروڑ سے زیادہ کی کرپشن کی گئی ہو۔
’جعلی ناموں سے تعمیراتی کمپنیاں‘
نیب کے ایک اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان نے جعلی ناموں سے کنسٹرکشن کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں اور مختلف منصوبوں کی تعمیر کے لیے خود سے اور دیگر ملزمان کی مدد سے ٹینڈر حاصل کر لیے جاتے۔ پھر دستاویزات میں ان منصوبوں کی تکمیل ظاہر کرنے کے بعد جعلی بل بنا کر اربوں روپے کی رقم ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس سے حاصل کی گئی۔
نیب اہلکار کے مطابق ملزمان یہ کارروائیاں گذشتہ سات سال سے زیادہ عرصے سے کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ جن محکموں میں ترقیاتی کاموں کی مد میں اربوں روپے نکالے گئے ان میں محکمہ آباشی، پبلک ہیلتھ اور لوکل گورنمنٹ کے محکمے شامل ہیں جبکہ حقیقت میں جن ترقیاتی منصوبوں کی مد میں یہ رقم حاصل کی گئی ان کا گراؤنڈ پر کوئی وجود ہی نہیں۔
نیب کی چھ کھرب سے زیادہ کی ریکوری
خیال رہے کہ چیئرمین نیب نے چند روز پہلے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ نیب نے سنہ 2025 میں چھ کھرب سے زیادہ کی ریکوری کی، جو ایک ریکارڈ ہے۔
نیب رپورٹ کے مطابق ادارے کی طرف سے جو ریکوری کی گئی، اس میں سے زیادہ رقم سرکاری زمین واگزار کروانے کی مد میں ظاہر کی گئی اور یہ زمین پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ہے جس کی مالیت کھربوں روپے ہے۔ اس میں سے زیادہ زمین محکمہ جنگلات، محکمہ ریلوے اور محکمہ آبپاشی کی ملکیت تھی۔
اس کے علاوہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کے متاثرین کی طرف سے جو درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں اس کی مد میں بھی ہاوسنگ سوسائٹیز کے مالکان سے اربوں روپے ریکور کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نیب ایکٹ میں ترمیم کے بعد نیب صرف اسی نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاذ ہے جس کے خلاف ایک سو سے زائد متاثرین کی درخواستیں نیب کو موصول ہوئی ہوں۔
اس کے علاوہ اس ایکٹ میں ترمیم کی وجہ سے گزشتہ برس 200 سے زائد کیسز ایف آئی اے اور انسداد رشوت ستانی کے محکمے کو ٹرانسفر کیے گئے ہیں۔
نیب کے قانون کے ترامیم کی وجہ سے پچاس کروڑ روپے سے کم مالیت کے مالی سکینڈل ایف آئی اے اور محکمہ انسداد رشوت ستانی کو ٹرانسفر کیے جاتے ہیں۔