اعدادوشمار کا گورکھ دھندا اور پاکستانی ’معیشت کی اڑان‘ کے دعوے لیکن حقیقت کیا ہے؟

    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, صحافی

جب اسلام آباد میں روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا خریدتے ہوئے میں نے ایک خاتون سے پوچھا کہ آیا ان کے نزدیک مہنگائی کم ہوئی ہے تو انھوں نے میری طرف گھور کر دیکھا اور جواب دیا کہ ’آپ کے لیے مہنگائی کم ہوئی ہو گی، مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔‘

انھوں نے گھی، چینی اور دیگر اشیا کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اب انھیں ایک ہزار روپے کا نوٹ سو روپے جیسا لگتا ہے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی اتحادی حکومت اپنے دو برس مکمل کرنے کے قریب ہے۔ گذشتہ کئی مہینوں سے حکومتی وزرا کا دعویٰ رہا ہے کہ ملک اقتصادی طور پر مستحکم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قدر برقرار ہے۔

ایسے دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ شاید مستقبل میں پاکستان کو کبھی آئی ایم ایف کا دروازہ نہیں کھٹکھٹانا پڑے گا، جس کے ساتھ اسلام آباد کا سات ارب ڈالر قرض کا معاہدہ ابھی جاری ہے۔

حال ہی میں ڈیوس میں ’ورلڈ اکنامک فورم‘ کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان زراعت، صنعت، کان کنی، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں ’اڑان بھرنے والا ہے۔‘

انھوں نے اپنے دورِ حکومت کے دوران افراط زر کو 30 فیصد سے کم کر کے ساڑھے پانچ فیصد پر لانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ پاکستان کے اقتصادی اشارے تسلی بخش ہیں۔

لیکن حقائق کیا ہیں؟ اگر حکومت کے دعوے درست ہیں تو کاروباری طبقہ گلہ کیوں کرتا نظر آ رہا ہے؟

وزیراعظم کی ڈیووس میں کی گئی تقریر سے چند روز قبل ہی وفاقی چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم تنویر نے کہا تھا کہ ’پچھلے ڈیڑھ سے دو سال میں 140 سے 150 بڑے ٹیکسٹائل یونٹ بند ہو گئے ہیں، یہ یونٹس بڑے پیمانے پر ملازمتیں دیتے تھے۔ زیادہ کاروباری لاگت کے سبب ایس ایم ای یونٹس (یعنی چھوٹی صنعتیں) کباڑ خانے میں تبدیل ہو گئیں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر زمین بوس ہو گیا۔ وزیراعظم سے اپیل ہے کہ جلد فیصلے کریں۔‘

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی معیشت کے ڈیفالٹ کا خطرہ ٹلنے کے بعد معاشی استحکام آ چکا ہے، مہنگائی کم ہوئی ہے اور بظاہر اقتصادی اعداد و شمار یا خسارے وغیرہ میں بھی کمی آئی ہے۔ تاہم ماہرین کے بقول اقتصادی استحکام کے باوجود عام لوگوں یا کاروباروں کی حالت نمایاں بہتری نہیں آئی ہے۔

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان میں عوام کے معیار زندگی اور کاروبار میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

پاکستان میں اقتصادی استحکام کے معیارِ زندگی اور غربت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

پاکستان کی حکومت کی جانب جاری ہونے والے ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق سال 2018 -2019 کے مقابلے میں سال 2024-2025 میں تنخواہوں میں اضافے کے بعد بھی عوام کے معیار زندگی میں کمی آئی ہے۔

سروے کے مطابق عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر ان چھ برسوں کے دوران قوت خرید 10 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں مہنگائی کے سبب عوام کی قوتِ خرید 17 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

ایک ملازمت پیشہ شخص نے مجھے بتایا کہ اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ بامشکل ہی کچھ رقم بچا پاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’90 ہزار روپے تنخواہ ہے، تین بچے ہیں۔ بڑی مشکل سے تنخواہ سے پیسے بچا کر 10 ہزار روپے جمع کیے تھے۔ بچہ بیمار ہوا تو ان پیسوں سے ڈاکٹر کی فیس دی، دوائی لی اور جب دس ہزار روپے کھل گئے تو پھر باقی پیسے بھی خرچ کر کے گھر کا سامان لے آیا۔ اب کچھ نہیں ہے۔‘

عالمی بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2018 تک پاکستان میں غربت کی شرح کم ہو رہی تھی لیکن مہنگائی، سیلاب، اور کرنسی کی قدر میں کمی کے سبب 2023-2024 میں پاکستان کی 25 فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب افراط زر کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی مگر اب یہ کم ہو کر پانچ فیصد ہے۔ تاہم مہنگائی میں کمی یا افراطِ زر کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ قیمتیں کم ہوئی ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ ایسے میں آمدن نہ بڑھنے سے لوگوں کی قوتِ خِرید سکڑ چکی ہے۔

پاکستان میں حکومت کی جانب سے اقتصادی استحکام سے کیا عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری آئی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اقتصادی استحکام کے اثرات دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں اور سیلاب کے باوجود بھی رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حکومت ایسی ترقی چاہتی ہے کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کو ہمیشہ کے لیے غربت سے نکالے اور اسی لیے اس بار ہم سوچ سمجھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

خرم شہزاد کے مطابق ’پہلے حکومت خسارہ کم کر کے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر استحکام لائی تاکہ سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کی فضا قائم ہو اور پھر نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری آئے تاکہ عام آدمی کی آمدن بڑھے اور غربت کم ہو۔‘

نوکریاں پیدا کرنے کی ’محدود صلاحیت‘

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے پاکستان کے لیبر فورس سروے کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح سات اعشاریہ ایک فیصد ہے جو گذشتہ دو دہائیوں میں بےروزگاری کی بلند ترین شرح ہے۔

اس سروے کے اجرا کے موقع پر منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام اور قدرتی آفات کے سبب پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تو یہ معاشی استحکام ترقی میں تبدیل کیوں نہیں ہو پایا؟

اقتصادی ماہرین اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اقتصادی ماڈل یا حکمتِ عملی ہی ایسی نہیں ہے جو حقیقی معنی میں عوام کے لیے خوشحالی لا سکے۔

پبلک پالیسی کے ماہر خاقان نجیب کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہونے کے سبب مائیکرو اکنامک استحکام یعنی خساروں میں کچھ کمی ضرور ہوئی ہے لیکن یہ اقتصادی استحکام ’خوشحالی نہیں لا سکتا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی حاصل کرنے کے لیے جو ماڈل بنایا گیا ہے ’وہی صحیح نہیں کیونکہ صرف ٹیکس کی شرح بڑھانے سے آمدن نہیں بڑھے گی بلکہ اُس کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا۔‘

حکومت کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن اور پاکستان میں ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرنے والی کمپنی انٹر لوپ ٹیکسٹائل کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین کے خیال میں ’اقتصادی استحکام کا مطلب یہ ہے کہ حالات مزید خراب نہیں ہو رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معیشت بڑھ رہی ہے کیونکہ خسارہ کم کرنے کے لیے ٹیکس اور زیادہ شرح سود کاروباری مواقعوں کو محدود کر دیتی ہے۔‘

بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 35 سے 40 لاکھ افراد ملازمت کی تلاش کے لیے جاب مارکیٹ میں آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ان افراد کو روزگار تب ملے گا جب معیشت ترقی کرے اور خوشحالی لانے اور بے روزگاری ختم کرنے کے لیے پاکستان کو ہر سال چھ سے سات فیصد کی شرح سے ترقی کرنا پڑے گی لیکن اس وقت معاشی استحکام حاصل کرنے کے لیے گروتھ کو روکا گیا ہے۔‘

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی اصلاحات نہیں کی گئیں جس سے خوشحالی آئے بلکہ ’درآمدات پر پابندیاں عائد کر کے اور ٹیکس بڑھا کر حکومت نے اپنے خسارے کو کم کیا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس استحکام کو حاصل کرنے کے لیے ملکی معیشت کی شرح نمو روکی گئی ہے اور اسی لیے صنعتیں بند ہو رہی ہیں، نوکریاں ختم ہو رہی ہیں اور غربت بڑھ رہی ہے۔‘

سابق وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ’یہ استحکام لوگوں کو غریب کر کے، اُن کی قوتِ خرید کو کم کر کے لایا گیا ہے۔‘

دوسری جانب عارف حبیب گروپ کے چیئرمین اور صنعتکار عارف حیبب کے مطابق گذشتہ برسوں میں آنے والی اقتصادی مشکلات کے سبب صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت سے کم سطح پر چل رہی ہیں جس سے ’نہ تو نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں اور نہ ہی معاشی شرحِ نمو بڑھ رہی ہے۔‘

عارف حبیب کے بقول آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے ’حکومتی سطح پر مالیاتی ڈسپلین ضرور آیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کسی حد تک بہتر ہوئے ہیں لیکن معیشت کو چلانے کے لیے ابھی ایکسلیریٹر کی ضرورت ہے۔‘

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان میں صنعتی ترقی کی شرح چھ فیصد ہوئی ہے۔

ان کے مطابق صنعتی پیداوار جیسے سیمنٹ، کھاد، گاڑیاں، موبائل فونز اور پیٹرولیئم مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کی اقتصادی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

خرم شہزاد کے مطابق حکومت صنعتوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک جامع پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کے تحت آئی ایم ایف سے بات چیت کے بعد ٹیکس اور بجلی کی قیمتیں کم کی جائیں گی۔

انھوں نے بتایا کہ معیشت کی ترقی کے لیے حکومت اصلاحات، منصوبہ سازی اور سرمائے کی فراہمی کو آسان بنانے پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے چھوٹی صنعتوں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ کی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق پاکستانی کی معاشی ترقی کی رفتار مالی سال 2026 میں تین اعشاریہ پانچ فیصد جبکہ آئندہ سال 2027 میں چار اعشاریہ چار فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

عوام کی خوشحالی کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام نے عوام کو غربت میں دھکیل دیا ہے اور غربت اور بے روزگاری نے افرادی قوت کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیومن ڈوپلیمنٹ انڈیکس کے مطابق عوام کو ملنے والی معیارِ زندگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے 193 ممالک کی فہرست میں 168 ویں نمبر پر ہے۔

اس انڈیکس کے تحت پاکستانی عوام کی معیار زندگی یا ترقی جنوبی ایشیائی ممالک میں صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں افغانستان پاکستان سے پیچھے ہے اور فہرست میں باقی سب افریقی ممالک پاکستان سے نیچے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے خیال میں معاشی ترقی اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری سے ملازمت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے۔

لیکن صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں کاروبار کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ یہاں ٹیکسوں کی شرح نہ صرف خطے میں بلکہ کئی دیگر مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ صنعتوں کو درکار بجلی اور گیس کی قیمت بھی زیادہ ہے۔ 'اتنی زیادہ پیداواری لاگت کے سبب کسی بھی برآمدی کمپنی کے لیے باہر کے ممالک میں خریدار ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔'

انٹر لوپ کے چیئرمین اور حکومتی مشاورتی کمیٹی کے رکن مصدق ذوالقرنین کے خیال میں ’اتنا زیادہ ٹیکس اور کاروباری لاگت ہوتے ہوئے صنعتکاروں کے لیے منافع کمانا مشکل ہو گیا ہے۔‘ اُن کے مطابق وزیراعظم سمیت حکومتی وزرا کو اس بات کا ادراک ہے کہ ’ٹیکس کم ہونا چاہیے لیکن پھر اُس کے لیے انھیں ان شعبوں پر نظر ڈالنی چاہیے جہاں ٹیکس یا تو ہے ہی نہیں، یا بہت کم ہے۔‘

پاکستان کے وزیر خزانہ اورنگزیب خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان میں ’کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس اتنا زیادہ ہے کہ کئی کمپنیاں ٹیکس کی شرح زیادہ ہونے کے سبب پاکستان سے بزنس چھوڑ کر جا رہی ہیں۔‘

لیکن وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نیسلے، گلوگل، بی وائی ڈی سمیت مشرق وسطیٰ کی کمپنیاں اور معدنیات کے شعبے سے منسلک کمپنیاں پاکستان کا رُخ کر رہی ہیں۔

صنعتکار عارف حبیب کا کہنا ہے کہ کھپت کے مقابلے میں صنعتوں کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے اس لیے ابھی نئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کے پاس پیسہ ہے لیکن محدود موقع ہونے کے سبب یہ رقم سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ ہو رہی ہے لیکن حکومت چاہتی ہے کہ شرح نمو کو بڑھانے کے لیے توانائی کی قیمتیں اور ٹیکس کو کم کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے۔‘

لیکن عارف حبیب کو خدشہ ہے کہ شرح نمو تیز کرنے سے کہیں دوبارہ تجارتی اور مالیاتی خسارہ نہ بڑھ جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’بٹن دبا کر چیزیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت کی سمت صحیح ہے۔‘

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت دو چیزوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے، یعنی بجلی کی قیمتوں اور نجی شعبے کے لیے ٹیکسوں کو کم کرنا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بھی بات چیت جاری ہے۔

خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ حکومت ان اُمور کو حل کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک میں نجی سیکٹر اور کاروبار کو وسعت ملے۔

کیا آئی ایم ایف سے چھٹکارا ممکن ہوگا؟

پاکستان نے 2024 میں آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر مالیت کا پروگرام لیا تھا اور اب حکومت پُرامید ہے کہ 2027 میں ختم ہونا والا یہ پروگرام پاکستان کا آخری ہو گا۔

لیکن دوسری جانب اقتصادی تجزیہ کاروں کے خیال میں ترجیحات کے تعین اور اصلاحات کے بغیر یہ ناممکن ہے اور اُن کے خیال میں پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کے لیے نیشنل فنانس کمیشن کے تحت وسائل کی اکثریت صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد وفاق کے پاس موجود وسائل میں سے بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں، دفاع اور حکومت چلانے کے لیے ضروری اخراجات کے لیے درکار رقم، آمدن کے مقابلے میں کم ہے۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو این ایف سی فارمولے کے تحت 8200 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاق کے مقابلے میں صوبوں میں ٹیکس وصولی کی شرح بہت کم ہے۔

ترجمان وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ٹیکس وصولی کی شرح جی ڈی پی کا 11 فیصد ہے جبکہ صوبوں کی ٹیکس وصولی کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

اُن کے مطابق صوبوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جی ڈی پی کا کم سے کم تین فیصد تک ٹیکس اکٹھا کریں۔

ایسے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کو ملنے والے وسائل سے انھیں اپنے خرچے خود ادا کرنے چاہییں۔

مصدق ذوالقرنین کے خیال میں ’جو کام وفاقی حکومت کے نہیں، وہ انھیں نہیں کرنے چاہییں جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 700 ارب روپے وفاق خود ادا کرنے کے بجائے صوبوں کو منتقل کرے۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ’بجلی اور گیس کی سبسڈی کی رقم وفاق خود کیوں ادا کر رہا ہے۔ جب صوبوں کو بغیر کچھ کمائے اتنے وسائل مل رہے ہیں تو انھیں کچھ ذمہ داری بھی ادا کرنا چاہیے۔‘

مصدق ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی صوبہ اپنے شہریوں کو زیادہ سبڈی یا زیادہ رعایت دینا چاہتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ اس سے صوبوں کے مابین ایک اچھا مقابلہ پیدا ہو گا اور وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے اپنی آمدن بڑھائیں۔‘

ماہر معیشت خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اخراجات بڑھا کر شرح نمو بڑھانے کے بجائے معیشت کا دائر کار بڑھایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح بہت کم ہے، بچت یا سیونگ کی شرح کم ہے، ٹیکس کا بیس چھوٹا ہے۔ جب تک یہ بہتر نہیں ہوتا ملک میں مستحکم اقتصادی ترقی حاصل کرنا ناممکن ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی خوشحالی کے لیے ایک ایسا اکنامک ماڈل بنایا جائے جس میں پیداواری صلاحیت اور زرعی پیداوار بڑھائی جائے تاکہ ہر سال تقریباً دس ارب کی زرعی اجناس باہر سے نہ خریدنی پڑیں۔ وفاق وہ ضروری خرچے کرے اور جنھیں کرنا ضروری ہے لیکن باقی خرچے صوبے خود کریں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن سے پاکستان ریگولیٹڈ مارکیٹ بنے گا۔‘

وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے بقول این ایف سی کے فارمولے پر نظرثانی کے لیے کام ہو رہا اور اس سلسلے میں ورکنگ گروپس بن گئے ہیں۔ وہ پُرامید ہیں کہ ’عوام کی بہتری کے لیے خوش اسلوبی سے اس معاملے کا حل نکل آئے گا۔‘

اقتصادی تجزیہ کاروں کے خیال میں سخت اقتصادی فیصلوں سے ہی ملک کو آئی ایم ایف سے نجات حاصل ہو سکے گی۔