آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جمہوریہ پریتالا‘: جب انڈیا کے سات دیہات نے مل کر اپنا الگ ملک بنا لیا
- مصنف, بالا ستیش
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
انڈین ریاست آندھراپردیش کے این ٹی آر ضلع میں پریتالا نام کا گاؤں اپنے ہیروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں کی تاریخی اہمیت بھی ہے اور وہ ہے ’جمہوریہ پریتالا۔‘
یہ چھوٹا سا گاؤں آج جمہوریہ انڈیا کا حصہ ہے لیکن اس کی انفرادیت یہ ہے کہ ایک وقت یہ ’جمہوریہ پریتالا‘ تھا۔ اس نام کے پیچھے کہانی یہ ہے کہ سات دیہات نے مل کر ایک ملک بنایا تھا۔
انڈیا کے ایک ملک بننے سے پہلے ہی یہ گاؤں ملک بن چکے تھے۔ اس گاؤں کی کہانی بہت دلچسپ ہے، جو کچھ عرصے تک ایک آزاد ملک کے طور پر رہا۔
نظام کی حاکمیت میں
آندھرا پردیش کے ساحلی علاقے کا زیادہ تر موجودہ حصہ برطانیہ کو نظام حکمرانوں سے ملا تھا۔ ایک معاہدے کے مطابق اگرچہ آصف جاہ دوم نے ساحلی اضلاع برطانیہ کے حوالے کر دیے تھے لیکن وہ پریتالا اور کولر اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے تھے (ان علاقوں میں ہیروں کی بڑی مقدار پائی جاتی تھی)
سنہ 1766 سے لے کر 1788 کے دوران برطانیہ اور نظام میں کیے گئے معاہدوں کے مطابق پریتالا کو چھوڑ کر نظام نے باقی کا تمام ساحلی علاقہ برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ پریتالا کو اپنے پاس رکھنے کے بدلے نظام نے حضور نگر کے قریب منگالا پرگانا اور لنگاگیری پرگانا (جو آج تلنگانہ میں شامل ہیں) انگریزوں کو دیے۔
یوں پریتالا نظام کی حاکمیت میں ہی رہا لیکن یہ برطانوی صوبوں میں گھرا ہوا تھا۔ دونوں علاقوں کے درمیان ایک ناکہ موجود تھا۔ سات گاؤں پریتالا، موگولورو، اتھے پلی، مالاولی، بتھیناپاڈو، گنی اٹوکورو اور کوداوتی کل کو مشترکہ طور پر پریتالا تعلقہ کہا جاتا تھا۔ نظام کے افسران نے پریتالا میں اپنے دفاتر بنائے تھے اور یہاں سے علاقے کا انتظام سنبھالتے تھے۔
پریتالا کے اردگرد کا علاقہ 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا لیکن پریتالا نظام کے ہی ماتحت رہا۔ نظام کی باقی ریاست 17 ستمبر 1948 کو انڈیا میں ضم کر دی گئی لیکن پریتالا والے اس سے پہلے ہی نظام کے خلاف بغاوت کر چکے تھے اور 15 نومبر 1947 کو نظام کے اقتدار سے آزادی حاصل کر لی۔
آزادی کے فوراً بعد اُنھوں نے خود کو ایک خود مختار جمہوریہ قرار دے دیا۔ اس خطے کو اُنھوں نے ’جمہوریہ پریتالا‘ کا نام دیا اور اس کا الگ آئین تحریر کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاریخ کے استاد کرشن ساگرروپو اوپندر نے پریتالا کی تاریخ پر تحقیق کی اور اس تحقیق کو کوپّم کی دراوڑ یونیورسٹی میں ایم فل کے مقالے کے طور پر جمع کرایا اور بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا۔
ان کے اندازے کے مطابق اس دور میں نظام کے افسران کی جانب سے پریتالا میں کیے گئے مظالم بغاوت کے پیچھے ایک اہم وجہ ہو سکتے ہیں۔
’پریتالا کے لوگوں کو شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ نظام کی حکومت میں کام کرنے والے لنکا سببیاہ ساسٹری نامی شخص نے گنی آتوکورو اور باتھینا پادو میں بہت انتشار پھیلایا۔‘
’انھوں نے حکومت کی مدد سے لوگوں کو اذیت دی۔ نتیجتاً لوگوں نے لنکا سببیاہ ساسٹری کو قتل کر دیا۔ لنکا سببیاہ ساسٹری ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں گھوڑے پر جا رہے تھے جب انھیں حملہ کر کے تالاب میں پھینک دیا گیا۔‘
اوپندر نے کہا کہ ’نظام حکومت کی تحقیقات کے دوران لوگ اکٹھے ہوئے اور کہا، ’ہم نے خود انھیں مارا۔‘ اسی وقت، مادیرجو دیوراجو، شیخ مولا اور اووا ستیاناراینا جیسے لوگوں نے عوام کو بغاوت پر آمادہ کیا۔‘
جب پہلی عالمی جنگ کرسمس کے لیے رکی تو ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں خود بخود جنگ بندی ہو گئی۔
پولیس سٹیشن پر حملہ
انڈیا کو آزادی ملنے کے تین ماہ بعد 12 یا 15 نومبر 1947 کو کچھ لوگوں نے پریتالا کے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔
تاریخ کے استاد اُوپندر بتاتے ہیں کہ ’پولیس سٹیشن پر 15 نومبر 1947 کو حملہ ہوا تھا جبکہ پریتالا کے ستون پر درج کتبے کے مطابق یہ حملہ 12 نومبر کو ہوا تھا۔‘
ان دونوں میں سے کون سا دعویٰ درست ہے، اس کی بی بی سی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
مجموعی طور پر 15 نومبر کو پریتالا کے اندر سات گاؤں کو ایک آزاد جمہوری ملک کے طور پر اعلان کیا گیا اور اسے ’پریتالا جمہوریہ‘ کا نام دیا گیا۔
ہر گاؤں کے تین تین نمائندوں پر مشتمل ایک مرکزی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں کل 21 اراکین تھے۔ وکیل اووا ستیاناراینا نے گاؤں کے لیے ایک مختصر آئین لکھا تھا۔
سنہ 2009 کے آس پاس گاؤں میں تعمیر کیے گئے ایک ستون میں پولیس سٹیشن پر کیے گئے حملے میں سوشلسٹوں کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا۔
اُوپندر کی تحقیق کے دوران ملنے والے دستاویزات ظاہر کرتے ہیں کہ کانگریس نے اس بغاوت کی حمایت کی تھی۔ کس نے کتنا کردار ادا کیا، اس پر مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔
پریتالا کے ستون پر درج تفصیلات کے مطابق ’بمبے پرساد عرف ویرماچنی وینکٹیشور راؤ، پرنا سریرام مورتی، ڈوڈڈاپنی راما راؤ، ویرماچنی وینکٹیشور راؤ، مللیلا نرسیا، کوٹم ناگیا، سدھی رامولو، مولسا ویرایا، پینا رادھا کرشن مورتی، گنم رامی ریڈی، کُررا وینکٹ نرسیا اور دیگر کچھ لوگ پولیس سٹیشن پر حملے میں شامل تھے۔‘
ستون کے مطابق، وہ سب سوشلسٹ نظریات رکھتے تھے۔
اُوپندر نے بتایا کہ اس کمیٹی کے تمام سینیئر اراکین قومی کانگریس کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھے اور انھوں نے اس سے تعاون مانگا تھا۔
گاؤں میں رہنے والے اٹلوُری نرسمہا راؤ نے بی بی سی کو بتایا ’جہاں آج پریتالا ہائی سکول قائم ہے، وہاں جب میں چھوٹا تھا، ایک ہسپتال تھا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ اس میں نظام کے سرکاری دفاتر قائم تھے۔ وہ عمارت پتھر کی بنی ہوئی تھی۔ ہمارے گاؤں میں بہت سے آزادی کے مجاہدین تھے۔‘
قومی قیادت کی حمایت
یہ بغاوت اتنی سادہ نہیں تھی۔ مقامی لوگوں نے اس کے لیے ایک اچھی منصوبہ بندی کی تھی۔
اوپندر نے کہا کہ سبھاش چندر بوس کی طرف سے قائم کردہ آزاد ہند فوج میں خدمات انجام دینے والے تامل شہری رام چندرن کو نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے پریتالا لایا گیا تھا۔
’مقامی انتظامیہ نے نظام کی حکومت سے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فورسز بھیجنے کا مطالبہ کیا تاہم فوج کو مدراس ریاست کے انڈین علاقے سے آنا پڑا۔‘
اوپیدر کہتے ہیں کہ ’بالکل اسی وقت باغی مضبوط ہو گئے تھے۔ نیشنل کانگریس کی قیادت اور مدراس کی ریاستی حکومت کی حمایت سے، باغی نظام کی فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔‘
’اضافی افواج کو سرحد پر روک دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پریتالا کے لوگوں کا منصوبہ عمل میں لایا گیا تھا۔ نظام کی سلطنت کے عہدیداروں کو بے دخل کر دیا گیا تھا۔‘
اس تحریک کے بارے میں جاننے کے بعد جے پرکاش نارائن اور ارونا آصف علی نے پریتالا کا دورہ کیا۔
ایسا لگتا ہے کہ اس وقت، وہ سمجھ گئے تھے کہ حیدرآباد ریاست بالآخر ملک کی آزادی کے ساتھ کسی نہ کسی طریقے سے انڈیا میں ضم ہو جائے گی۔
’جمہوریہ پریتالا‘ جو دو سال تک موجود رہا
اوپندر کے مطابق سنہ 1938 میں عثمانیہ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی وندے ماترم تحریک میں فعال طور پر حصہ لینے والے بہت سے نوجوانوں نے اس گاؤں میں تحریک کی روح پھونک دی ہو گی۔
اوپندر نے کہا کہ ’بغاوت کی قیادت برہمن کرتے نظر آئے۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ دلت سمیت دیگر ذاتوں کے لوگ بھی شامل تھے۔‘
جغرافیائی طور پر کرشنا ضلع کے وسط میں واقع ہونے کے باوجود پریتالا کے بہت سے باشندوں کے ورنگل سے اچھے تعلقات تھے۔ پریتالا سے تعلیم یافتہ اور کاروباری لوگ ورنگل میں آباد ہونے کے لیے نقل مکانی کرتے تھے۔
اس خطے نے باقی تلنگانہ کے مقابلے میں تھوڑا پہلے نظام کی حکمرانی سے آزادی حاصل کی تھی۔ تکنیکی طور پر یہ ملک جمہوریہ پریتالا 15 نومبر 1947 سے 26 جنوری 1950 تک موجود تھا۔