نیوکلیئر فیوژن میں بڑی پیشرفت کا اعلان: کیا مستقبل میں بجلی اسی جوہری توانائی سے پیدا ہو گی؟

لامحدود توانائئ حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہPHILIP SALTONSTALL

    • مصنف, ایسمی سٹیلارڈ
    • عہدہ, ماحول اور سائنس، بی بی سی

امریکی سائنسدانوں نے ایٹمز کے میلاپ سے توانائی پیدا کرنے سے متعلق ایک تحقیق میں بڑی کامیابی ملنے کا اعلان کیا ہے۔

فزکس کے ماہرین نے کئی دہائیوں سے جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کی ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ لامحدود ماحول دوست توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

منگل کے روز امریکی محققین نے تصدیق کی کہ انھوں نے اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ عبور کر لی ہے: یعنی اب وہ فیوژن کے تجربات کی مدد سے پہلے سے کہیں زیادہ توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توانائی کو گھروں تک پہنچانے میں ابھی مزید کوششیں باقی ہیں۔

ایٹمز کے میلاپ سے توانائی پیدا کرنے کا یہ تجربہ کیلیفورنیا میں لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری (ایل ایل این ایل) میں نیشنل اگنیشن فیسلٹی میں کیا گیا۔

ادارے کی ڈائریکٹر کِم بوڈل نے کہا کہ ’یہ تاریخی کامیابی ہے۔۔۔ گذشتہ 60 برسوں کے دوران ہزاروں لوگوں نے اس میں اپنا حصہ ڈالا اور صحیح نظریہ ہمیں یہاں تک لایا۔‘

یہ سچ ہے کہ سائنسدان ایک عرصے سے نیوکلیئر فیوژن سے توانائی کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

نیوکلیئر فیوژن سے توانائی کیسے پیدا کی جاتی ہے؟

توانائی کے حصول میں کامیاب نیوکلیئر فیوژن اس شعبے کے ہر سائنسدان کا خواب ہے۔ ستاروں کی روشنی اور حدت نیوکلیئر فیوژن کے عمل کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

اس میں لائٹ ایمز کے جوڑوں کو ایک دوسرے میں ضمن کیا جاتا ہے۔ اس فیوژن (میلاپ) سے توانائی خارج ہوتی ہے۔

یہ نیوکلیئر فشن (انشقاق) کا الٹ ہے جس میں ہیوی ایٹمز کے ٹوٹنے سے توانائی خارج ہوتی ہے۔

فشن وہ ٹیکنالوجی ہے جو اس وقت نیوکلیئر پاور سٹیشنز میں استعمال ہوتی ہے لیکن اس عمل سے بہت زیادہ فضلہ بھی پیدا ہوتا ہے جو طویل عرصے تک تابکاری پیدا کرتا رہتا ہے۔

یہ خطرناک ہو سکتا ہے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ اسے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جائے.

نیوکلیئر فیوژن کہیں زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے اور اس میں تابکار فضلے کی کم مقدار پیدا ہوتی ہے۔ یہ تابکاری بھی قلیل مدتی ہوتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہیں کرتا ہے اور اسی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔

مگر نیوکلیئر فیوژن کے لیے بہت زیادہ درجہ حرارت اور دباؤ درکار ہوتا ہے اور یہی اس کے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اب تک کسی بھی تجربے میں اتنی توانائی پیدا نہیں ہوئی جتنی اس تجربے کو کرنے میں لگی ہو۔

نیوکلیئر فیوژن

کیا مستقبل میں نیوکلیئر فیوژن سے بجلی پیدا ہو گی؟

بی بی سی سائنس کی مدیر ربیکا موریل کے مطابق سائنسدانوں نے اس تجربے میں فی الحال بہت کم توانائی پیدا کی ہے۔ یہ محض اتنی توانائی تھی کہ اس سے کچھ کیتلیوں میں موجود پانی میں اُبال لایا جا سکے۔

مگر یہ ایک بڑی پیشرفت ہے۔ اس نے ہمیں نیوکلیئر فیوژن سے بجلی پیدا کرنے کے قریب کر دیا ہے مگر اس کے حقیقت بننے کا راستہ کافی طویل ہے۔

اس تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عمل سائنس کے تحت کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ سائنسدان اس میں مزید وسائل لگائیں، اسے دہرایا جائے گا اور بہترین انداز میں کیا جائے گا تاکہ اس سے پیدا ہونے والی توانائی کی مقدار بڑھائی جا سکے۔

فیوژن کوئی سستا عمل نہیں۔ اس تجربے میں اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ مگر اس سے ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی حاصل ہوسکتی ہے اور اس بڑی کامیابی کی یہی قیمت ہوگی۔

اس تجربے پر کتنا خرچ آیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کیلیفورنیا میں نیشنل اگنیشن تجربہ گاہ 3.5 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے۔

یہ ایک کیپسول میں ہائیڈروجن کی ایک چھوٹی سی مقدار رکھتا ہے جس کا سائز کالی مرچ کے دانے برابر ہے۔

پھر ہائیڈروجن ایندھن کو گرم کرنے اور کمپریس کرنے کے لیے ایک طاقتور 192 بیم لیزر کا استعمال کیا جاتا ہے۔

لیزر اتنی مضبوط ہے کہ یہ کیپسول کو 100 ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کر سکتی ہے جو سورج کے مرکز سے زیادہ گرم ہے ، اور اسے زمین کے کرۂ فضائی سے 100 ارب گنا زیادہ کمپریس کر سکتی ہے۔

ان قوتوں کے تحت کیپسول خود پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتا ہے جس سے ہائیڈروجن کے ایٹمز کو ایک دوسرے میں ضم ہونے اور توانائی خارج کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد اس تجربے سے محض اتنی توانائی پیدا ہوئی کہ 15 سے 20 کیتلیوں میں اُبال لایا جا سکے۔

تجربے سے حاصل ہونے والی توانائی لیزر سے زیادہ تھی مگر اس میں وہ توانائی شامل نہیں جس کی مدد سے لیزر کو چلایا گیا۔ یعنی ہائیڈروجن ایٹمز کو ضم کرنے سے پیدا ہونے والی توانائی کہیں کم تھی اگر اس کا موازنہ درکار درجہ حرارت اور دباؤ پر خرچ ہونے والی توانائی سے لگایا جائے۔