نہ یہ پچ ایڈیلیڈ کی ہے نہ یہ پیس اٹیک انڈیا کا، سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
تاریخ اس وقت بابر اعظم کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے ایک نیا باب کھلنے کو ہے اور اگر بابر اعظم اس امتحان میں سرخرو ہوتے ہیں تو یہ بطور کپتان ان کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا۔
اپنے بلے سے وہ پاکستان کے لیے کئی یادگار فتوحات رقم کر چکے ہیں۔ اب اُنھیں عیاں کرنا ہے کہ وہ اپنے ذہن سے بھی اس ٹیم کے مستقبل کو سینچ سکتے ہیں اور ایک ایسے کرکٹ کلچر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو بجا طور پر چیمپیئن برانڈ کہلانے کا مستحق ہو۔
اگرچہ میتھیو ہیڈن کا کہنا ہے کہ فی الوقت جو مومینٹم پاکستان کو حاصل ہے، کوئی بھی ٹیم اس کا بوجھ سہارنے سے گریز ہی کرے گی مگر حقائق کی دنیا ابھی بھی اس حقیقت کو پوری طرح سے ہضم نہیں کر پائی کہ زمبابوے سے ہارنے والی ٹیم واقعی فائنل تک پہنچ چکی ہے۔
ادھر بٹلر کی ٹیم بھی ایک ایسا ہی جھٹکا آئرلینڈ کے ہاتھوں سہہ چکی ہے مگر اس کے باوجود حالات سے نبرد آزما ہو کر سیمی فائنل تک پہنچی اور شاہانہ انداز میں روہت شرما کی امیدوں کے سبھی چراغ گُل کیے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انگلش ٹیم ماڈرن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سرخیل ہے۔ ایڈیلیڈ میں جو وحشت بٹلر اور ہیلز کی تباہ کاری نے انڈین اٹیک پر طاری کی، وہ کسی بھی بولنگ اٹیک کی نیندیں اڑانے کو کافی تھی اور بابر اعظم بھی یقیناً اپنی تمام تر توجہ اسی پہلو پر مرکوز کیے ہوئے ہوں گے کہ اُنھیں انگلش بیٹنگ لائن کا ڈنک کیسے نکالنا ہے اور سکور بورڈ کو 150 کے لگ بھگ کیسے محدود کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسا نہیں کہ بابر کو وہ وسائل میسر نہیں جو کسی طوفانی بیٹنگ لائن کے آگے بند باندھ سکیں۔ میلبرن اگرچہ عموماً اس قدر باؤنسی پچ نہیں ہوتی مگر رواں سیزن کی بارشوں نے اس پچ کا مزاج کچھ یوں سا کر دیا ہے کہ شاہین شاہ، نسیم شاہ، حارث رؤف اور محمد وسیم کل بولنگ کے لیے بے قرار ہوں گے۔
شاہین شاہ نے انجری کے بعد اپنی بہترین فارم میں آتے آتے کچھ وقت ضرور لیا مگر اس کے بعد ان کی کارکردگی بالکل پیسہ وصول رہی ہے۔ وہ نئی گیند کے ساتھ اِن سوئنگ بھی ویسی ہی مہارت سے کر رہے ہیں جیسے انجری سے پہلے ان کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔
میلبرن کی کنڈیشنز کو ملحوظ رکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ بابر چاروں پیسرز کا کوٹہ مکمل کروائیں گے اور سپنرز کا کردار محدود رہے گا۔ پاکستانی پیس اٹیک کو یہ بھی ملحوظ رہے گا کہ انگلینڈ کا مڈل آرڈر اس ٹورنامنٹ میں پوری طرح آشکار نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ ہی کی طرح انگلینڈ کی فتوحات میں بھی کلیدی کردار ٹاپ آرڈر بیٹنگ کا رہا ہے اور پاکستانی بولنگ ایسے ٹاپ آرڈر میں نقب لگانے کے گُر جانتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف پاور پلے میں جو بولنگ پاکستانی پیسرز نے کی، وہ کسی کوچنگ کلاس سے کم نہیں تھی۔ میلبرن میں بھی پاکستان کو وہی کارکردگی دہرانی ہو گی۔
انگلش بیٹنگ کو یہاں صرف پاکستانی پیس کا ہی چیلنج درپیش نہیں ہو گا، یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ یہ پچ ایڈیلیڈ کی پچ نہیں اور یہ پیس اٹیک انڈیا کا نہیں بلکہ یہ بابر کے وہ چار پیسرز ہیں جو پے در پے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اس فائنل میں بلاشبہ اپنی بولنگ کے بل پر پہنچا ہے اور آسٹریلین کنڈیشنز کا تقاضہ بھی یہی تھا۔ بابر اعظم کی ٹیم نے ان پچز کا تقاضہ نبھایا ہے اور اب ان کی آخری کاوش یہاں میلبرن میں ہو گی جہاں اُنھیں ایک بار پھر یہ دکھانا ہو گا کہ حرفوں کے ہیر پھیر سے ماورا یہ واقعتاً دنیا کا بہترین پیس اٹیک ہے۔













