پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا حکومتی منصوبہ قابل عمل بھی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت کی جانب سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کے لیے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دیے جانے کے بعد جہاں ایک جانب یہ سوال ہو رہا ہے کہ کیا یہ اعلان افغان شہریوں کے لیے مخصوص ہے تو دوسری جانب یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ آیا یہ ممکن بھی ہے کہ پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کر دیا جائے؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا حکومتی اعلان کے پیچھے کوئی مربوط حکمت عملی بھی ہے یا پھر یہ ماضی کی طرح محض ایک اعلان تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا۔
واضح رہے کہ منگل کے روز ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی 31 اکتوبر تک رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں ورنہ انھیں ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔
اس حوالے سے افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے کہ پاکستان حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاہم بی بی سی کی معلومات کے مطابق پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف ایک حکمت عملی مرتب کر لی ہے بلکہ اس پر فوری طور پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے تاہم اس حکمت عملی کا مرکز افغان شہری نظر آتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل سپیشل سکواڈ بھی تشکیل دیے جائیں گے۔
اسی اہلکار کے مطابق اس ضمن میں وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں کے حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پانچ لاکھ غیر ملکیوں کے پاس دستاویزات نہیں‘
بی بی سی کو حاصل شدہ معلومات کے مطابق پاکستان کے خفیہ اداروں کی طرف سے ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں سے متعلق ایک رپورٹ، جو وزارت داخلہ کو بھجوائی گئی، میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملک میں موجود ایسے غیر ملکیوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جن کے پاس پاکستان میں داخلے سے متعلق کوئی دستاویزات نہیں اور ان میں زیادہ تر تعداد افغان باشندوں کی ہے۔
بی بی سی سے بات کرنے والے وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس ضمن میں تیار کی جانے والی حکمت عملی پر عملدرآمد کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں ایسے ہی افغان اور دیگر غیر ملکی باشندوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جن کے پاس کسی قسم کے کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبائی انتظامیہ کو یہ واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ان کے ممالک کے قونصلیٹ اور سفارت خانوں سے رابطے میں رہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جن غیر ملکیوں کے پاس پاکستان میں رہنے کے دستاویزی ثبوت نہیں اور ان کے خلاف کوئی اور مقدمہ درج نہیں تو ان کے خلاف صرف 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انھیں ان کے ملکوں کو بھیجا جائے گا لیکن جو افغان اور دیگر غیر ملکی دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں تو انھیں اس وقت تک ان کے ملکوں کو واپس نہیں بھیجا جائے گا جب تک ان کے خلاف درج مقدمات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق جن غیر ملکیوں کے خلاف صرف 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے تو ان افراد کو متعقلہ عدالت میں پیش کر کے انھیں وطن واپس بھجوانے کا عمل بھی جلد شروع ہو جائے گا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ایف آئی اے کے حکام ایسے افراد، بالخصوص افغان شہری جن کو 14 فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا، کی امیگریشن کا عمل جیل میں ہی مکمل کرنے کے بعد انھیں طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN
وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں ایسے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جن کے پاکستانی ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور اس معیاد کو ختم ہوئے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے چند روز قبل ایک گینگ کو گرفتار کیا ہے جس میں زیادہ تر افغان باشندے شامل ہیں اور اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ گینگ ڈکیتی اور اغوا کے علاوہ ایک ایڈیشنل سیشن جج کے قتل میں بھی ملوث ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اپیکس کمیٹی، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شامل تھے، میں واضح موقف اپنایا گیا کہ جس طرح بیرون ملک بنا متعلقہ دستاویزات جانے والے پاکستانیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوتی ہے، اسی طرح پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی بھی ناگزیر ہے۔
افغان مہاجرین اور یورپ جانے کے خواہشمند
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق متعقلہ حکام کو مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کےادارے کے حکام کے ساتھ رابطے کا کہا ہے تاکہ جن افغان باشندوں کی بطور مہاجرین پاکستان میں رجسٹریشن ہوئی ہے اور ان کو جاری کیے گئے کارڈ کی تجدید نہیں ہو سکی تو اس پراسییس کو مکمل کرنے سے متعلق مشاورت کی جائے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت افغان باشندوں کی تعداد تین ملین یعنی تیس لاکھ کے قریب ہے جن میں سے دس فیصد لوگوں کی بطور مہاجر رجسٹریشن ہوئی ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق متعقلہ حکام کو وزارت خارجہ کے توسط سے ان سفارت خانوں سے رابطے کرنے کا بھی کہا گیا ہے جن کی یقین دہانیوں پر سنہ 2021 میں نیٹو فوسرز کے انخلا کے بعد بڑی تعداد میں افغان باشندے پاکستان آ گئے تھے لیکن ابھی تک ان افغان باشندوں کے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ویزوں کا پراسیس شروع نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان شہریوں کی جائیدادیں
خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں طالبان کے افغانستان میں قبضے کے بعد ایسے افراد اپنی فیملیز کے ساتھ پاکستان آ گئے تھے جو افغانستان میں امریکہ اور یورپی ممالک کے زیر انتظام چلنے والے اداروں میں کام کرتے تھے۔ ان افراد کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ وہ طالبان مخالف جذبات رکھتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ایسی فیملیز کی زیادہ تعداد اسلام آباد اور کراچی کے مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز میں کافی عرصے سے قیام پذیر ہے۔ ان ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز میں رہنے کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے، اس ضمن میں ابھی تک کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ان افغان باشندوں کی جائیدادوں کے بارے میں بھی تفصیلات جمع کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے جنھوں نے غیر قانونی طور پر پاکستان میں یہ جائیدادیں بنائی ہیں اور اس ضمن میں صوبائی محکمہ مال کو ضلعی انتظامیہ کی مدد سے تفصیلات جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
اہلکار کے مطابق پولیس اور سویلین خفیہ اداروں کو ان افراد کے کوائف اکھٹے جمع کا ٹاسک دیا گیا ہے جنھوں نے ان غیر ملکیوں کو پناہ اور نوکریاں دی ہوئی ہیں جن کے پاس پاکستان میں قیام کے کوئی ثبوت موجود نہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نادرا کے ان ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جنھوں نے پیسے لے کر ان غیر ملکیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے دور میں نادرا کے ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا جس کے تحت درجنوں ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی تاہم ان کے جانے کے بعد اس پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔
’پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا‘
سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کا کہنا ہے کہ ایسے غیر ملکی جن کے پاس پاکستان میں رہنے کی کوئی دستاویز نہیں ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ ادارے نہیں بلکہ ریاست کرتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ نگراں حکومت نے پاکستان میں بسنے والے غیر ملکیوں بلخصوص افعانیوں جن کی ڈاکومینٹیشن نہیں ہوئی، کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تو ایسی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے کوئی فریم ورک نہیں دیا جا سکتا اور ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد پر ہفتوں اور مہینے نہیں بلکہ سالوں لگ جاتے ہیں۔
تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ اگر اگلے سال انتخابات ہوئے تو آنے والی حکومت کو بھی ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔
انھوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں افغانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کو جو کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہ رہے ہیں، کو ان کے وطن واپس بھیجنا اتنا آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے بنائی گئی حکمت عملی پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد ناگزیر ہو گا۔
سابق سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر ایسے افغان خاندانوں کو جو رضامندی کے ساتھ واپس جانا چاہتے ہیں، کو چار، چار سو امریکی ڈالر امداد دے کر افغانستان روانہ کیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد وہ ہزاروں خاندان پاکستان میں واپس آ گئے۔
انھوں نے کہا کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل رہتا تو وہ افغان فیمیلز جو واپس افعانستان گئی تھیں، وہ دوبارہ پاکستان نہ آتیں۔
تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مہاجرین یا غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ انھوں نے کہا کہ ہر ملک کو اپنی سلامتی مقدم ہے اور پاکستان نے بھی اس ضمن میں جو پالیسی بنائی ہے اس پر کسی دوسرے ملک یا عالمی اداروں کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔











