آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کے ایسے ڈراپ باکس جہاں نوزائیدہ بچوں کو بلا سوال چھوڑا جا سکتا ہے
- مصنف, لِنڈا پریسلے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ایریزونا
امریکہ میں کچھ عرصے قبل اسقاطِ حمل کے آئینی حق کے خاتمے نے حالیہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر خاصہ اثر ڈالا ہے۔
جب سپریم کورٹ نے اس حق کو ختم کرنے کے لیے دلائل دیے تو اس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ نوزائیدہ بچوں کے لیے محفوظ ٹھکانے کے قوانین اسقاطِ حمل کا متبادل ہو سکتے ہیں۔
یہ قوانین ہر ریاست میں موجود ہیں اور یہ مشکل میں موجود ماؤں کو اپنے نوزائیدہ بچوں کو مختص جگہوں پر پیدائش کے فوراً بعد گمنام طور پر چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ ایسا کرنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی۔
یہ ایسے تین افراد کی کہانیاں ہیں جو ان ’سیف ہیون‘ قوانین سے گہرائی تک متاثر ہوئے ہیں۔
ماں
یہ ایریزونا کے وسیع و عریض میدانی علاقے میں سردیوں کی ایک تاریک اور نم رات تھی۔ مشیل ایک سنسان سڑک پر ڈرائیو کر رہی تھیں جب اچانک وہ رکیں۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ ’میں اتنے درد میں تھی کہ میں ہسپتال نہیں جا سکتی تھی۔ شہر سے 30 کلومیٹر دور ایک ندی کے کنارے مشیل نے ایک بچے کو جنم دیا۔‘
’یہ بہت خوفناک تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں صرف دعا کر رہی تھی، اپنی ماں سے بات کر رہی تھی۔ مجھے اپنی ماں چاہیے تھیں۔
جب مشیل بچے کو جنم دے رہی تھیں تو ان کی سب سے بڑی بیٹی کار کی پچھلی سیٹ پر سو رہی تھیں۔ مدھم روشنی میں اور بند موبائل فون کے ساتھ مشیل 15 منٹ تک بیٹھی رہیں اور ان کی نوزائیدہ بچی ایک کمبل میں لپٹی ان کی گود میں رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پھر اُنھوں نے گاڑی سٹارٹ کی اور تیزی سے گاڑی بھگانے لگیں۔ مشیل نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ حاملہ ہیں۔ وہ بہت خوف زدہ تھیں۔ وہ اپنی بچی کے والد سے الگ ہو چکی تھیں۔
وہ قریبی ہسپتال میں رکیں۔ وہ نوزائیدہ بچوں کے لیے ایریزونا کے ’سیف ہیون‘ قوانین سے واقف تھیں جن کے تحت وہ گمنام انداز میں بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے بچے کو حکام کے حوالے کر سکتی ہیں، جب تک کہ بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہو۔
وہ بچی کو اپنے ہاتھوں میں لیے استقبالیے کی طرف بھاگیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے کہا مجھے ڈیلیوری ڈپارٹمنٹ سے بات کرنی ہے۔ وہ آئے اور مجھ سے بات کی تو میں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اسے چھوڑ دینا سب سے اچھا آپشن ہو گا۔ میں صرف چاہتی تھی کہ وہ باپ سے محفوظ رہے۔‘
مشیل نے بچی نرسز کے حوالے کر دی۔ وہ جانتی تھیں کہ اب اسے گود لے لیا جائے گا۔
وہ تین منٹ سے بھی کم وقت تک ہسپتال میں رہیں۔
بے بی میل باکسز کیا ہیں؟
- مشیل نے اپنی بچی ڈاکٹروں کے حوالے کی مگر انھیں ہسپتال یا فائر سٹیشن میں خصوصی میل باکس یا دراز میں بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔
- قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں بھی ہسپتالوں اور گرجا گھروں کے ساتھ ایسے پنگھوڑے رکھے جاتے تھے
- اب بھی دنیا میں کئی جگہوں پر بچے چھوڑنے کے لیے جگہیں موجود ہیں مگر امریکہ واحد ملک ہے جہاں بچے چھوڑ دینے کے لیے جامع قانون سازی کی گئی ہے
- امریکہ میں سیف ہیون قوانین نوزائیدہ بچوں کا قتل روکنے کے لیے متعارف کروائے گئے تھے۔ سب سے پہلے یہ 1999 میں ٹیکساس میں متعارف کروائے گئے اور پھر یہ باقی ریاستوں میں بھی بنائے گئے
- بچے کی پیدائش کے دن اس کے قتل ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول کے مطابق سیف ہیون قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد سنہ 2008 سے 2017 کے درمیان بچوں کے پہلے ہی دن قتل ہو جانے میں 67 فیصد کمی واقع ہوئی ہے
- مگر ان دونوں کے درمیان تعلق ثابت کرنا مشکل ہے کیونکہ بچوں کی دیکھ بھال اب دسترس میں ہونے، بچوں کی پرورش کرنے کے ہنر اور ماؤں کے ڈپریشن کی بہتر فہم بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔
نرس
ایک نوزائیدہ بچے کی موت نے ہیدر برنر کو سیف ہیونز یا محفوظ ٹھکانوں کا ایک جوشیلا حامی بننے پر مجبور کیا۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے وہ ایریزونا کے شہر فینکس کے ایک ہسپتال میں ایمرجنسی روم میں تھیں جہاں وہ بچوں کی نرس تھیں۔
’ایک 15 سالہ بچی ہسپتال آئی اور پیٹ میں درد کی شکایت کی۔ ہم نے اس کا درجہ حرارت اور بلڈ پریشر وغیرہ چیک کیا۔ وہ باتھ روم گئی، خود ہی بچے کو جنم دیا اور اسے ایک کچرے کے ڈبے میں چھوڑ کر چلی گئی۔ کوئی 20 منٹ بعد صفائی کرنے والی خاتون نے بچہ دریافت کیا۔ ہم نے اس کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی مگر ہم ناکام رہے۔‘
ثبوتوں کے باوجود اس لڑکی نے بچے کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مبینہ طور پر اسے اس کے کسی رشتے دار نے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا تھا۔
’ہیدر اب ایریزونا سیف ہیونز پروگرام کی ڈائریکٹر اور نیشنل سیف ہیونز الائنس کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ بہت صدمہ انگیز تھا۔‘ ہیدر کا اندازہ ہے کہ سنہ 1999 سے اب تک ملک بھر میں ایسے 4687 بچے ’ڈیلیور‘ کیے جا چکے ہیں۔
الائنس کی اپنی ہیلپ لائن ہے اور اسے مہینے میں 60 سے 100 کالز موصول ہوتی ہیں۔ جون میں جب سپریم کورٹ اسقاطِ حمل سے متعلق مقدمے ’رو بنام ویڈ‘ پر غور کر رہی تھی تو اس دوران کالز میں 300 فیصد اضافہ ہوا۔ اسقاط مخالف گروہوں کا ایک طویل عرصے سے دعویٰ ہے کہ سیف ہیون قوانین نے اسقاط کی ضرورت ختم کر دی ہے۔ عدالتی سماعتوں میں بھی یہ مؤقف پیش کیا گیا۔
مگر الائنس کو کال کرنے والے لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف آخری آپشن کے طور پر ہی بچے کو وہاں چھوڑیں۔
ہیدر کہتی ہیں کہ ’ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ بچہ پالنے سے کیا چیز اُنھیں روک رہی ہے؟ زیادہ تر معاملوں میں مسئلہ بچہ نہیں بلکہ صورتحال ہوتی ہے۔ کیا وہ بے گھر ہیں؟ کیا اُنھیں بچے کی نگہداشت میں مدد چاہیے؟ میں نے ایک مرتبہ ایک لڑکی کا بجلی کا بل تک ادا کیا اور اس سے اس لڑکی کو محسوس ہونے لگا کہ اب اس کے لیے زندگی آسان ہو گئی ہے۔‘
کچھ خواتین کالرز اپنے بچے رکھ لیتی ہیں جبکہ کچھ بچوں کو خود کسی اور خاندان کی تحویل میں دینے کا انتخاب کرتی ہیں۔ ایسی خواتین خود اس خاندان کا انتخاب کرتی ہیں اور ان سے کبھی کبھی ملاقات بھی کر لیتی ہیں جو ان کے بچے کی نگہداشت کرے گا۔ مگر کچھ خواتین بچے کو محفوظ مقام پر رکھ دیتی ہیں۔
بچہ
فینکس کے مغرب میں پورٹر اولسن اپنے سوتیلے خاندان اور اپنے پیارے کتے کے ساتھ رہتے ہیں۔ پورٹر توانائی سے بھرپور 11 سالہ بچے ہیں جنھیں کیمپنگ، باغبانی اور کھانا پکانا پسند ہے۔
سنہ 2011 میں اولسن خاندان کو بچوں کے نگہبان ادارے نے کال کی جہاں اُنھوں نے گود لینے کے خواہشمند کے طور پر اپنا نام لکھوا رکھا تھا۔ مائیکل اولسن کہتے ہیں: ’مجھے کال آئی اور اُنھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک بچہ ہے۔‘
اُنھوں نے اپنی اہلیہ کو ٹیکسٹ پیغام بھیجا جس میں صرف اتنا لکھا کہ: ’میری زندگی کا سب سے بہترین دن۔‘
نائیکول اس وقت ایک کلاس میں پڑھا رہی تھیں۔ ’میں نے اپنی ڈائریکٹر کو کال کی اور پوچھا کہ کیا مجھے میٹرنٹی تعطیلات مل سکتی ہیں؟ اُنھوں نے پوچھا کہ کیوں کیا تم حاملہ ہو؟ میں نے کہا نہیں، مگر آج ہمارے گھر بچہ آنے والا ہے۔‘
پورٹر کی اصل والدہ اُنھیں ایک ہسپتال کے بے بی باکس میں چھوڑ گئی تھیں۔ ایریزونا میں عموماً بچے کے لیے اسی دن نیا خاندان تلاش کر لیا جاتا ہے۔ اور اولسن خاندان کی طرح کسی کو بھی بچے کے بارے میں پہلے سے نہیں بتایا جاتا۔
نائیکول کہتی ہیں: ’مجھے کبھی اس کی فکر نہیں تھی۔ میں نے صرف یہ سوچا کہ ہم وقت کے ساتھ اس بات کو سلجھا لیں گے۔‘ مگر پھر بھی اس جوڑے کو لگا کہ پورٹر کو خود سے یہ معلومات ہوں تو بہتر ہو گا۔
پورٹر کہتے ہیں کہ ’ایک دن میری امی نے مجھے ایک ڈی این اے کٹ دی۔ نتیجہ جو بھی آتا ہم نے اس کا جشن منانا تھا۔ ہم نے ٹیسٹ کیا اور ڈاکٹر نے کہا کہ مبارک ہو، آپ خوشی منا سکتے ہیں۔‘
پورٹر کہتے ہیں کہ ’میں یورپی، امریکی انڈین، ذیلی صحارائی افریقی، اور مشرقی ایشیائی ہوں۔‘
پورٹر کے پاس اپنے حقیقی والدین کے بارے میں جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس لیے کچھ لوگ سیف ہیون قوانین کی مخالفت کرتے ہیں۔ فیمینسٹ سکالرز نے بھی ان قوانین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قوانین کی وجہ سے ان سماجی و اقتصادی ناانصافیوں کا ازالہ نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے لوگ بچے چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اور اگر کوئی ماں اپنا بچہ چھوڑ دینے کے بعد اسے واپس حاصل کرنا چاہے تو کیا ہوتا ہے؟
ایریزونا کی میریکوپا کاؤنٹی کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی کیٹ لاؤڈینسلیگل کہتی ہیں کہ ’کچھ ریاستوں میں مائیں ایک مخصوص مدت کے اندر بچہ واپس حاصل کر سکتی ہیں۔ مگر ایریزونا میں ہمارے پاس اپنا ذہن بدل لینے والی خواتین کے متعلق کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔ بچے کو چھوڑ دینا اس سے دستبردار ہونا تصور کیا جاتا ہے۔ اگر والد کو لگے کہ کوئی بچہ اس کا ہے تو اس کے پاس حکام کو مطلع کرنے کے لیے 30 دن ہوتے ہیں۔‘
مشیل کا کیا بنا؟
مشیل کہتی ہیں کہ ’میں کبھی بھی اس کا چہرہ اپنے ذہن سے نہیں نکال سکی۔‘
جنم دینے کے تین دن بعد اُنھوں نے نیشنل سیف ہیونز الائنس کو کال کی۔ ہیدر برنر نے اس پریشان حال نوجوان خاتون کی مدد کرنے کی ٹھان لی۔
ہیدر کہتی ہیں کہ ’وہ بہت خوش قسمت تھیں۔‘ مشیل کو اپنی بچی سے دستبرداری کے 33 دن بعد وہ واپس مل گئی۔
مشیل کہتی ہیں کہ اسے واپس پانا دنیا کا سب سے خوبصورت احساس تھا۔ بچے کی نگہداشت کر رہے خاندان نے بچہ واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو مشیل کو یہ مقدمہ عدالت میں لڑنا پڑتا۔
مشیل نے بی بی سی سے بات کرنے پر شاید اس لیے آمادگی ظاہر کی کیونکہ ان کے لیے سب کچھ ٹھیک رہا تھا۔ مگر ان ہزاروں خواتین کا کیا جو اپنے بچوں سے دستبردار ہو جاتی ہیں اور واپس اُنھیں کبھی نہیں پا سکتیں۔
شاید یہ ان کے لیے سب سے اچھا یا واحد آپشن تھا، یہ ہم نہیں جانتے۔ کیونکہ تقریباً کسی بھی ایسی خاتون نے عوامی طور پر اپنی کہانی نہیں سنائی ہے۔
*مشیل کا نام رازداری کے تحفظ کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے۔