آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امتیاز فاضل: 22 بچے کھونے والی ماں کہتی ہیں ’اس غم کو اپنے اندر نہ رکھیں۔۔۔ ورنہ آپ ٹوٹ جائیں گے‘
مانچسٹر کے علاقے لیونشلمے سے تعلق رکھنے والی 49 برس کی امتیاز فاضل 24 مرتبہ حاملہ ہو چکی ہیں لیکن ان کے صرف دو زندہ بچے ہیں۔ وہ پہلی بار سنہ 1999 میں حاملہ ہوئیں اور اس کے بعد کے 23 برسوں میں ان کے 17 اسقاط حمل ہوئے اور پانچ بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی ایک غیر معمولی جینیاتی حالت کی وجہ سے مر گئے۔
انھوں نے بی بی سی نارتھ ویسٹ ٹونائٹ کو بتایا کہ ان کا ان نقصانات کے بارے میں بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ اس طرح کی چیزیں جنوبی ایشیائی گروپوں میں ایک ممنوع موضوع بنی ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اسے تبدیل کرنا چاہتی ہیں اور اس سے جڑی منفی سوچ کو بھی تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کے اپنے خاندان والے ’مجھ سے چیزوں کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے‘ کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ ’اس تلخ یاد سے مجھے مزید تکلیف ہو سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ بہت زیادہ دکھ کی بات ہے؛ اسی لیے کوئی بھی اس قسم کی چیزوں کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ وہ اسے صرف اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اتنے نقصانات اٹھانے کے باوجود ’کسی نے مجھ سے یہ تک نہیں پوچھا کہ کیا میں ٹھیک ہوں یا اگر میں اب بھی اپنے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب میں اپنے بچوں کے بارے میں نہ سوچتی ہوں۔‘
سرینا کور دوسانجھ اور ان کے شوہر وک بھی بچے کھو جانے کے نقصان پر بات کرنے سے متعلق خاموشی توڑنے کے لیے پُر امید ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویسٹ مڈلینڈز کے والسال کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 29 برس کی عمر کے اس جوڑے نے ’ہمت کلیکٹو‘ کے نام سے ایک خیراتی ادارہ قائم کیا ہے، جو جنوبی ایشیائی خواتین اور مردوں کو اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے ورچوئل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
پچھلے دو سالوں میں دو اسقاط حمل سے گزرنے والے اس جوڑے نے کہا کہ دل کی تکلیف اب بھی ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں لوگ آسانی سے بات کر سکتے ہیں۔
سرینا کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں یہ چیز ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اور اسے ابھی بھی چھپایا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ حاملہ ہونے کی کوشش کرنے والے کو کسی بھی ایسی عورت سے بچنا چاہیے جس کا اسقاط حمل ہوا ہو کیونکہ یہ عارضہ متعدی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ایسا سٹگما یا منفی سوچ ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔‘ وک نے کہا کہ بچے کے نقصان کے بارے میں بات کرنے پر انھیں ملا جلا ردعمل ملا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ مردوں نے انھیں بتایا تھا کہ انھوں نے صدمے سے نمٹنے میں ان کی مدد کی تھی، لیکن دوسروں نے کہا تھا کہ یہ وہ موضوع نہیں ہے جس کے بارے میں انھیں بات کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم، انھوں نے کہا کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اپنا مسئلہ کسی کو بتانے یا شیئر کرنے سے اس سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے۔
سرینا نے کہا کہ ’ہماری کمیونٹی میں لوگوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ اسقاط حمل، مردہ پیدائش یا کسی بھی قسم کے بچے کے نقصان سے گزرے ہیں تو انھیں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ آگے چل کر لوگ یہ دیکھ سکیں کہ یہ نارمل ہے اور وہ اس کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔‘
امتیاز کو بھی یہی امید ہے۔
امتیاز کہتی ہیں کہ 22 بچوں کو کھونے کے غم نے انھیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، لیکن وہ اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے دوسروں کی سادہ مشورے کے ذریعے مدد کرنا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس غم کو اپنے اندر نہ رکھیں، اگر آپ اسے اپنے اندر رکھے رہیں گے تو آپ اسے برداشت نہیں کر پائیں گے۔ آپ کو ان حالات کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ آپ (اندر سے) ٹوٹ جائیں گے۔‘