لوسی لیٹبی مقدمہ: بچوں کے مبینہ قتل میں ملوث نرس نے اپنی ڈائری میں لکھا 'میں نے جان بوجھ کر انھیں قتل کیا ہے‘

برطانیہ کی ایک عدالت کو معلوم ہوا ہے کہ ایک ایسی نرس نے جن پر زچہ بچہ وارڈ میں نومولود بچوں کو قتل کرنے کا الزام ہے اپنی ڈائری میں لکھا ہوا تھا کہ ’میں باعثِ شر ہوں‘ اور ’میں نے انھیں جان بوجھ کر قتل کیا کیونکہ میں خود قابل نہیں ہوں۔‘

لوسی لیٹبی پر سنہ 2015 اور 2016 میں کاؤنٹس آف چیسٹر ہسپتال میں سات نومولود بچوں کو قتل کرنے اور 10 بچوں کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔

مانچسٹر کے کراؤن کورٹ میں ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور اس کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی گھر کی تلاشی کے دوران یہ باتیں ان کی ڈائری سے ملی تھیں۔

لیٹبی کی جانب سے عائد کردہ 22 الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

عدالت کو معلوم ہوا ہے کہ یہ دراصل ’پوسٹ اٹ نوٹس‘ پر لکھے گئے تھے اور ان میں یہ عبارتیں بھی شامل تھیں کہ ’کون سے الزامات لگائے گئے ہیں اور کس نے لگائے ہیں؟ کیا ان کے پاس اپنے الزامات کو سہارے دینے کے لیے ثبوت موجود ہے؟‘

سرکاری وکیل نک جانسن نے جیوری کو بتایا کہ ان کے نوٹس میں ایسی بھی چیزیں موجود ہیں جن میں انھوں نے اپنی بے گناہی کا پرچار کیا ہے۔

ایک میں یہ لکھا تھا کہ 'میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے تو میرے پاس چھپانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔'

باقی نوٹس میں یہ بھی لکھا تھا کہ 'میں شر ہوں' اور 'میں نے انھیں جانتے بوجھتے ہوئے قتل کیا کیونکہ میں خود قابل نہیں ہوں۔' ایک عبارت میں انھوں نے بڑے حروف تہجی میں لکھا کہ 'میں بری ہوں، میں نے یہ کیا ہے۔'

ان میں سے کچھ بچوں کے والدین اس وقت عدالت میں موجود تھے جب سرکاری وکیل کی جانب سے جرح کی جا رہی تھی اور انھوں نے یہ نوٹ اس وقت دیکھا جب اسے بڑی سکرین پر دکھایا گیا۔

تاہم لیٹبی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ جانسن نے کہا کہ 'خواتین و حضرات اس مقدمے میں آپ کے کام کا دائرہ کار کچھ یوں ہو گا۔'

'تمام شواہد سننے کے بعد آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انھوں نے یہ انتہائی خوفناک کام کیے ہیں یا نہیں۔'

لیٹبی کا دفاع کرنے والے وکیل بین مائرز نے کہا کہ 'اگر کسی کو انسانی رویہ کی تھوڑی سی بھی سمجھ ہے' تو اس کے لیے یہ لکھائی 'ایک نوجوان خاتون کے پریشانی کے عالم میں لکھے گئے الفاظ ہیں جو اس نے تب لکھے جب اسے اپنے بارے میں لگائے گئے الزامات کا علم ہوا۔'

انھوں نے کہا کہ اس میں ایسے اقتسابات بھی لکھے تھے کہ 'میں کبھی شادی نہیں کروں گی یا بچے پیدا نہیں کروں گی' اور 'میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔'

انھوں نے کہا کہ اس ڈائری میں 'پریشانی عیاں ہے جرم نہیں'۔

عدالت میں اس سے قبل یہ بتایا گیا کہ لیٹبی پر ایک ایسے بچے کو قتل کرنے کا الزام ہے جس کی شناخت 'چائلڈ پی' کے نام سے کی گئی۔ یہ بچہ دراصل ٹرپلیٹس میں سے تھا اور اس کے بھائی 'چائلڈ او' کو مبینہ طور پر لیٹبی نے اس سے قبل ہلاک کیا تھا۔

جانسن نے بتایا کہ چائلڈ پی کی حالت 'اچانک بہت زیادہ خراب' ہو گئی اور ابھی انھیں کسی دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں تو ایک ڈاکٹر ان کی صورتحال کے حوالے سے 'پرامید' تھے لیکن پھر 'لوسی لیٹبی نے ان سے کہا کہ 'یہ یہاں سے زندہ بچ کر نہیں جا رہا، ایسا ہی ہے؟'

یہ بھی پڑھیے

عدالت کو بتایا گیا کہ بچہ کچھ ہی دیر میں ہلاک ہو گیا۔ جانسن نے کہا کہ 'ان کی اس بات نے ڈاکٹر کو چونکا دیا لیکن لوسی لیٹبی کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔

جانسن نے کہا کہ 'انھیں معلوم تھا کہ انھوں نے اس بچے کے ساتھ کیا کیا ہے اس لیے انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ کیا ہو سکتا ہے۔ وہ یہی کرنا چاہتی تھیں کیونکہ یہ کام وہ متعدد بچوں کے ساتھ کر چکی تھیں۔'

لیٹبی نے چائلڈ پی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کے الزام کی تردید کی ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے چائلڈ کیو کو انجیکشن میں ہوا اور فلوئڈ جو یا تو پانی یا سیلائن ہو سکتا ہے کی اضافی مقدار بھر کر ان کے پیٹ میں نیزوگیسٹرک ٹیوب کے ذریعے لگائی تاکہ انھیں قتل کر سکیں۔

اس بچے کو بعد میں ایک اور ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی طبیعت 'فوری طور پر بہتر' ہونے لگی۔

جانسن نے کہا کہ یہ بچہ ایک اور مثال ہے کہ 'اس وقت تحقیقات میں کچھ بھی غلط سامنے نہیں آیا' اور جب انھیں 'لوسی کی پہنچ سے دور کیا گیا تو وہ تیزی سے صحتیاب ہو گئے۔'

جانسن کا کہنا تھا کہ جلد ڈاکٹروں کو یہ شک گزرا کہ ان بچوں کی اموات اور انتہائی تشویش ناک حالت تک پہنچنے کے پیچھے 'کوئی طبعی وجہ نہیں بلکہ لوسی لیٹبی کا ہاتھ ہے۔'

سرکاری وکیل نے جیوری کو بتایا کہ 'انھیں معلوم تھا کہ کسی نرس کے خلاف ایسے الزامات عائد کرنا اتنہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

'ان کے پاس اس وقت وہ شواہد نہیں تھے جو آپ کے پاس ہیں اور لوسی لیٹبی کو فوری طور پر انتظامی امور سنبھالنے کا کہہ دیا گیا۔ انھیں بچوں سے دور رکھنے کے لیے انتظامی امور سنبھالنے کی ڈیوٹی دی گئی۔'

پولیس سے رابطہ کیا گیا اور 'ایک انتہائی طویل اور پیچیدہ' تحقیقات کی گئیں اور اس دوران ڈاکٹروں اور ماہرین کی آزادانہ ٹیم تشکیل دے کر ان متعدد کیسز کا بغور جائزہ لیا گیا۔

جانسن نے کہا کہ 'اس جائزے کے بعد لوسی لیٹبی کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔'