غیرت کے نام پر اپنے تین بچوں سمیت سات افراد کو قتل کرنے والے شخص کا ’اعتراف جرم ‘

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے اپنے تین بچوں سمیت سات افراد کو قتل کرنے والے شخص گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

سی سی پی او پشاور عباس احسن نے بی بی سی کو بتایا کہ 21 جون کو تھانہ چمکنی پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ چوہا گجر پھندو روڈ پر ایک گھر میں موجود دو خواتین اور بچوں سمیت سات افراد کو نہایت بیدردی کے ساتھ قتل کیا گیا ہے۔

گرفتار ملزم ابراہیم جس کا تعلق چارسدہ سے بتایا گیا ہے نے ابتدائی تفتیش کے دوران سابقہ بیوی اور چار بچوں سمیت سات افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

قتل ہونے والے چار بچوں میں ایک ڈیڑھ سالہ بچی بھی شامل ہے جب کہ دیگر کی عمریں چھ سے بارہ سال کے درمیان ہیں۔

مقتول حبیب اللہ کا چار سالہ بچہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

ملزم اور مقتولین ایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھے۔

ملزم قتل کے بعد اپنے گھر کو تالا لگا کر چلا گیا

تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے 21 جون کی دوپہر ان ساتوں افراد کو قتل کیا اور گھر کو تالا لگا کر چلا گیا جس کے بعد شب بارہ بجے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔

بتایا گیا ہے کہ ملزم کا ایک بارہ سالہ بیٹا مزدوری کرتا تھا جب وہ شام کو گھر لوٹا تو گھر پر خلاف معمول تالا لگا دیکھا۔

بچے نے قریب موجود ایک شخص کے موبائل سے اپنے والد کو فون کیا اور انھیں بتایا کہ گھر آئیں۔ ملزم نے آکر تالہ کھولا اور اس کے بعد رات گئے خود پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔

ملزم نے ایف آئی آر تو نامعلوم افراد کے خلاف درج کروائی تاہم اس میں یہ واقعہ بیان کیا کہ میں محنت مزدوری کے لیے گھر سے باہر تھا مجھے واقعے کی اطلاع ملی تو میں فوراً گھر آ گیا۔

پولیس نے دوران تفتیش مختلف شواہد حاصل کیے اور ملزم کے خاندان والوں سے بھی پوچھ گچھ کی۔

پولیس ملزم تک کیسے پہنچی

ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں دوران تفتیش مدعی ابراہیم نے بتایا کہ میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

وقوعہ سے فرانزک اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کرنے سمیت مختلف زاویوں سے حقائق معلوم کرنے کی کوشش شروع کی گئی۔

دوران تفتیش مقتول حبیب اللہ کے مالک مکان کا اپنے مخالفین کے ساتھ جائیداد تنازعہ چلا آرہا تھاجس کی وجہ سے ابتدائی طور پر واقعہ جائیداد تنازعے کا نتیجہ لگا اور چند مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

ملزم ابراہیم مزدوری کرتا ہے جبکہ مقتول حبیب اللہ ایک چوکیدار تھے دونوں آپس میں رشتے دار تھے۔

پولیس نے دونوں کے آبائی علاقوں سوات اور تنگی ضلع چارسدہ سے بھی معلومات حاصل کیں۔

مزید پڑھیے

مقتول حبیب اللہ کے گھر سے ایک عدد سٹامپ پیپر بھی ملاجس سے یہ پتہ چلا کہ ملزم ابراہیم نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ اس سٹامپ پیپر پر یہ بھی درج تھا کہ ملزم نے اپنا گیارہ مرلے کا پلاٹ اپنی بیوی کے نام کیا ہے اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھائی ہے۔

چونکہ ملزم نے مقتولہ کو اپنی بیوی ظاہر کیا ہوا تھا اور خود ہی ایف آئی آر درج کروائی تھی اس لیے پولیس نے اس کے عزیزو اقارب سے پوچھ گچھ کے علاوہ اسے بھی شامل تفتیش کیا۔

پھر ابراہیم نے اقبال جرم کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سٹامپ پیپر پر اس سے لاعلمی میں دستخط کروائے گئے۔

ملزم نے بتایا کہ اس نے 21 جون کی دوپہر جون کو اپنی سابقہ اہلیہ، رشتے دارحبیب اللہ، اس کی بیوی اور اپنے تین بچوں سمیت حبیب اللہ کی بیٹی کو قتل کیا۔

ملزم نے کہا کہ اس نے یہ قتل غیرت کے نام پر کیے اور اسی کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا۔

ملزم کو سنیچر کو مجسریٹ کے سامنے پیش کیا جہاں اس نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔