فخر زمان انجری کے بعد ٹیم سے باہر: ’انڈیا خوش ہوگا کیونکہ اسے اب بھی چیمپیئنز ٹرافی 2017 فائنل کی اننگز یاد ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فخر زمان کا شمار ان جارحانہ پاکستانی بلّے بازوں میں ہوتا ہے جو کرکٹ شائقین کے خیال میں اکیلے ہی اپنی ٹیم کو کسی بھی خطرناک بولنگ اٹیک کے خلاف میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کے اور پاکستانی کرکٹ کے بیشتر مداح بے چین ہیں۔
کیوں نہ ہوں ایک تو چیمپیئنز ٹرافی چل رہی ہے اور دوسرا پاکستان اور انڈیا کا بڑا میچ اب محض دو دن بعد ہے اور ایسے میں فخر زمان کہہ رہے ہیں کہ وہ چیمپیئن ٹرافی ہی نہیں کھیلیں گے۔
وجہ یہ ہے کہ فخر زمان انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔
اس خبر کی تصدیق انھوں نے خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی۔ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’سب سے بڑے سٹیج پر پاکستان کی نمائندگی کرنا اس ملک کے ہر کرکٹر کا اعزاز اور خواب ہے۔ مجھے فخر کے ساتھ متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ بدقسمتی سے میں اب آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے باہر ہو گیا ہوں لیکن یقینی طور پر اللہ بہترین منصوبہ ساز ہے۔‘
انھوں نے خود کو ٹیم میں شامل کر کے ایک اچھا موقعے دیے جانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ گھر سے ہی اپنی ٹیم کو سپورٹ کریں گے۔
فخر زمان کا ون ڈے کرکٹ میں ریکارڈ ان کی صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے فخر زمان کی رنز بنانے کی اوسط 46 سے زیادہ ہے جبکہ ان کا بیٹنگ سٹرائیک ریٹ بھی تقریباً 94 ہے۔
وہ اب تک اپنے ون ڈے کیریئر میں 11 سینچریاں اور 17 نصف سینچریاں بنا چکے ہیں۔
گذشتہ چیمپیئن ٹرافی2017 میں ان کی بلے بازی اب بھی لوگوں کے لیے یاد گار ہے جس میں انھوں نے انڈیا کے خلاف میچ میں 114 رنز بنائے تھے اور پاکستان نے یہ میچ 180 رنز سے جیتا تھا۔ اس میچ میں انڈیا کی پوری ٹیم پاکستان کے سکور 338 کے جواب میں محض 30لا3 اوور میں 130 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی وجہ ہے کہ اس بار انڈیا کے میچ سے قبل ان کا ان فٹ ہو جانا ان کے مداحوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔
پاکستان اس سے پہلے چیمپیئنز ٹرافی کے 2004، 2009 اور 2017 کے انڈیا کے خلاف میچز جیت چکا ہے۔ اس سے اسے نفیساتی برتری حاصل ہے۔
تاہم اس بار چیمپئنز ٹرافی میں انڈیا اور پاکستان ایک ہی گروپ میں ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 23 فروری کو دبئی میں میچ ہوگا۔
اس بار انڈین ٹیم اچھی فارم میں نظر آرہی ہے اور اس کے کئی تجربہ کار کھلاڑی پاکستان کے خلاف اپنا ریکارڈ بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔
یقیناً یہ ٹورنامنٹ روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کے لیے بہت اہم ہونے والا ہے، خاص طور پر جب ان کی ریٹائرمنٹ کی خبریں زوروں پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ مداح مایوس اور کچھ خوش گمان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
فخر زمان اب چیمپیئن ٹرافی نہیں کھیلیں گے یہ بات ان کے مداحوں کو اچھی نہیں لگی۔ انہی میں سے ایک شازل شجاع بھی ہیں۔ ایکس پر ا پنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے فخر زمان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’انتہائی مایوس ہوں کہ آپ چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے۔ آپ وہ بہادر کھلاڑی ہیں جو اپنے بل بوتے پر مخالف ٹیم پر غلبہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک میچ ونر۔ مجھے ٹیم میں ایسا کوئی دوسرا کھلاڑی نظر نہیں آتا جو وہ کر سکے جو آپ کر سکتے ہیں۔ آپ یاد آئیں گے۔‘
سحرش جاوید سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ’آپ ایک ہیرا ہیں۔ آپ پورے پاکستان کا فخر ہے۔ میں صرف آپ کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچ دیکھتی ہوں کیونکہ آپ کے لیے نمبروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ صرف پاکستان کے لیے کھیلتے ہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔‘
کچھ شائقین بظاہر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے کوئی خاص پرُامید نہیں ہیں اس لیے ان کے خیال میں فخر زمان کا ٹیم میں نہ ہونا ان کے لیے اچھا ہی ہے۔
ایسے ہی ایک مایوس عمر یعقوب صارف نے لکھا ’پاکستان کی ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں ایک بھی میچ نہیں جیت پائے گی، ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے۔ اس کے بعد صرف آپ ہی تنقید سے بچ جائیں گے۔ بس انتظار کریں اور دیکھیں کہ ہم باقی کھلاڑیوں پر کتنی ملامت کرتے ہیں۔‘
لیکن کچھ شائیقین کرکٹ کو پوری امید ہے پاکستانی ٹیم کوئی اپ سیٹ ضرور کرے گی کیونکہ اس میں حیران کر دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ ایسے ہی کچھ تانے بانے ملا کر وہ پاکستان کی چیمپیئنز ٹافی میں جیت کی پیش گؤیی کر رہے ہیں۔
عمار نامی صارف نے لکھا ’کوئی بات نہیں پچھلی چیمپینز ٹرافی کا پہلا میچ بھی ہم بری طریقے سے ہارے تھے اور ہمارا ایک اوپنر خیر وہ تو پرفارمنس پر باہر ہوا تھا اور ایک فاسٹ بالر بھی۔اب شگون کے لیے ایک فاسٹ بالر کو بھی ساتھ لے جائیں۔ ‘
ڈینیئل الیگزینڈر نامی صارف کے خیال میں فخر زمان کی انجری پر شاید انڈیا کو کچھ تسلی ہوئی ہو۔ انھوں نے لکھا ’انڈیا خوش ہوگا، اسے اب بھی چیمپیئنز ٹرافی 2017 فائنل اننگز یاد ہے۔‘












