’ساڑھے چار بولرز کا جگاڑ اور ڈیتھ اوورز کی مار‘

رضوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

جگاڑ میں کشش بہت ہے کہ اگر یہ کامیاب ٹھہرے تو کسی جینئیس سے کم نہیں کہلاتا اور دانشمندی کے استدلال کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے مگر دقت اس کی یہ ہے کہ جگاڑ کیسا بھی ہو، بالآخر آشکار ہو کر ہی رہتا ہے۔

پی سی بی کی نئی سلیکشن پالیسی کے تحت چونکہ ٹیم سلیکشن کے معاملات کوچ و کپتان کے لیے ’نو گو ایریا‘ ہیں تو اب ایسے میں یہ سوال علیم ڈار سے پوچھا جائے یا اسد شفیق کی رہنمائی لی جائے کہ پچاس اوورز پھینکنے کے ذمہ دار بولنگ اٹیک میں کوئی ایسا آل راؤنڈر کیوں نہیں جو صرف دس اوورز کا کوٹہ نبھانے کی بجائے مڈل اوورز میں ساجھے داریاں توڑنے کے قابل ہو؟

صائم ایوب کی انجری نے جو دھچکا پاکستانی کمبینیشن کو لگایا، وہ بلا شبہ بہت گھمبیر ہے کہ ان کے جیسا پارٹنرشپ توڑنے اور بریک تھرو دلوانے والا جز وقتی سپنر کسی بھی کپتان کی خوش بختی ہوتا ہے۔

مگر یہ دھچکا لگے بھی اب اتنے میچز تو گزر چکے ہیں کہ سلیکشن کمیٹی کو صدمے سے باہر آ کر سوچ لینا چاہیے کہ موثر پانچویں بولنگ آپشن کے بغیر ون ڈے کرکٹ میں کامیابی کا خواب سراب کے سوا کچھ نہیں۔

اگرچہ آسٹریلیا میں پاکستان کی حالیہ کامیابی اپنی نوعیت میں نادر تھی کہ صرف چار بولنگ آپشنز کے ہمراہ رضوان چالیس اوورز کے اندر دس وکٹیں لے کر میچز جیتے مگر جس تھنک ٹینک نے اس مثال کو حکمت عملی بنا کر حالیہ چیمپیئینز ٹرافی کے لیے منصوبہ بندی کی، اسے شاید اپنی اداؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

گو ٹی ٹوئنٹی میں خوشدل شاہ پورے چار اوورز پھینک کر موثر بھی ثابت ہو سکتے ہیں مگر ون ڈے کرکٹ کی حرکیات میں ان کے اوورز کم ہی کوئی بریک تھرو دلوا پاتے ہیں اور سلمان آغا اگرچہ کسی مددگار پچ پر اکیلے ہی پانسہ پلٹ سکتے ہیں مگر بیٹنگ کو سازگار حالات میں وہ اکانومی سے اپنا کوٹہ ہی پورا کر سکتے ہیں۔

جس ’جگاڑ‘ کی بنیاد پر پاکستان ٹائٹل کا دفاع کرنا چاہ رہا ہے، اس کی کامیابی انگلینڈ، جنوبی افریقہ و آسٹریلیا جیسی کنڈیشنز میں تو ممکن ہے کہ وہاں دس وکٹیں حاصل کرنے کو کبھی چار بولر بھی کافی رہیں مگر ایشیائی کنڈیشنز میں ساڑھے چار بولرز کے ساتھ کھیلنا کوئی دانشمندانہ حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔

چیمپیئینز ٹرافی چونکہ اپنے دورانیے میں نہایت مختصر ایونٹ ہے اور شاید یہ جگاڑ یہاں بھی پھر سے چل پائے مگر عقلی اعتبار سے اس کی کامیابی کے امکانات کی کوئی ضمانت ممکن نہیں۔

ماڈرن کرکٹ میں کوئی بھی بولنگ اٹیک میچ نہیں بچا سکتا اگر وہ اننگز کے ہر مرحلے میں باقاعدگی سے وکٹیں حاصل نہ کر پائے کہ جونہی کوئی ساجھے داری جمی اور اننگز کا وقت گھٹنے لگا تو بلے بازوں کے ہاتھ کھلتے دیر نہیں لگتی۔

کیوی بیٹنگ اننگز کے پہلے بیس اوورز میں ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ پچ رپورٹ میں اگرچہ وہاب ریاض نے ’بیٹنگ پیراڈائز‘ کا امکان ظاہر کیا تھا مگر یہاں نئی گیند کے خلاف رنز کا حصول آسان نہ تھا۔

کیوی بلے باز ڈریسنگ روم سے جو بھی پلان لائے تھے، پہلے بیس اوورز انھوں نے پچ کے مزاج اور پاکستانی بولنگ کے ڈسپلن کو تحمل سے جھیلنے اور گیند کی کاٹ کم پڑنے تک کریز پر رکنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب محمد رضوان نے وکٹ گرتے ہی موقع غنیمت جان کر اپنے جز وقتی بولرز کا کوٹہ پورا کروانے کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ دراصل پاکستان کی اس پسپائی کی بنیاد ثابت ہوا جو ڈیتھ اوورز کے ہنگامے سے شروع ہوئی۔

پاکستان، نیوزی لینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جہاں ضرورت ول ینگ کو چلتا کرنے اور کیوی پیش قدمی روکنے کی تھی، وہاں محمد رضوان کا سارا دھیان ان دس اوورز کی گنتی میں پھنسا رہ گیا جو انھیں کسی نہ کسی طرح سستے میں پورے کروانا تھے۔

محمد رضوان کو یہاں وہ وسائل میسر نہ تھے جو محض پانچویں بولر کا کوٹہ نبھانے کی بجائے پاکستان کو واقعی برتری بھی دلوا سکیں اور جب پارٹنرشپ جم گئی تو وہاں حارث رؤف کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جائے جو اپنی ڈیتھ اوورز اکانومی و سٹرائیک ریٹ میں ہمیشہ ممتاز رہے ہیں۔

جو خطا اپنی بولنگ کے آخری دس اوورز میں پاکستان نے کی، اس سے بڑی خطا اپنی بیٹنگ کے پہلے دس اوورز میں کمائی۔ جہاں پہلی گیند سے ہی معلوم تھا کہ کامیاب تعاقب کے لیے سکور بورڈ چلائے رکھنا ہو گا، وہاں سارا دھیان اننگز کو طول دینے پر رہا۔

پچاس اوورز کے کھیل میں اگر پچیس سے زائد اوورز ڈاٹ بالز کی آنکھ مچولی میں گزر جائیں تو پھر پیچھے کون سا سکور اور کیا تعاقب؟