وارانسی: انڈیا کا مقدس شہر جہاں زائرین موت اور نجات کے لیے آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہRajiv Malu EyeEm/Getty Images
- مصنف, پیکو ائیر
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
یہاں سردیوں کی دھند میں بھی چھ سے سات مقامات پر آگ جل رہی تھی۔ سر پر کپڑا باندھے کچھ فراد ننگے پاؤں جمع تھے اور آگ میں ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
ایک نیم برہنہ شخص، جس کے سر کے بال کمر تک آ رہے تھے، اپنی چھڑی ایک جلی ہوئی کھوپڑی پر مار رہا تھا۔ دور موجود کچھ لوگ نعرے لگا رہے تھے اور گھنٹیوں کے ساتھ ساتھ ڈھول بجنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
نئے سال کی دھند میں دریا کنارے نارنجی شعلوں کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں؟ یا پھر کیا مجھ پر کسی چیز کا نشہ طاری ہوگیا ہے۔۔۔ کیا اس کی وجہ جیٹ لیگ ہے یا دماغ کا چکرا جانا۔
میرے قریب کچھ لوگ آئے جن پر اوپر سے نیچے تک راکھ جمی ہوئی تھی۔ انھوں نے اس مقدس شہر کے سرپرست شیوا (تباہی کے ہندو دیوتا) کا ترشول پکڑا ہوا تھا۔
اس مقام سے گزرتے ہوئے میں ایسی گلی میں پہنچا جہاں اندھیرے میں موم بتی جلائی گئی تھی اور ایک بچہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہر گزرتے گروہ کے ساتھ ایک لاش لائی جاتی اور اسے دریا کی طرف لے جایا جاتا۔
میں خود دیوار کے ساتھ لگ گیا اور دنیا کے فانی ہونے کا احساس میرے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔

،تصویر کا ذریعہDinodia Photo/Getty Images
میرے پاس سے ایک اور لاش گزری جس کے ساتھ ریشم کی ساڑیوں میں ملبوس دو خواتین ننگے پاؤں چل رہی تھیں اور ان کی منزل دریا کا مقدس پانی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے تاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا جہاں مندروں میں چھوٹی موم بتیاں جل رہی تھیں اور راستوں پر کھڑے مرد مقدس کلمات ادا کر رہے تھے۔
ایک چوراہے پر تین مرد میرے سامنے کھڑے تھے اور پیچھے باندھی ہوئیں بندوقیں نظر آ رہی تھیں۔
میرے لیے یہ سب کافی عجیب تھا۔ صرف 72 گھنٹے قبل میں ایک دوسری دنیا میں تھا جہاں نئے سال کے سورج کے چمکنے کے ساتھ جشن کا سماں تھا۔
مگر یہاں ایسے بکرے دیکھے جا سکتے تھے جن کے ماتھوں پر سرخ نشان ہیں اور دریا کنارے چراغ جلائے گئے ہیں۔ دیواروں پر نارنجی رنگ کے چہرے، ہنستے بندر اور مقدس مورتیوں کی تصاویر درج تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAman Chotani/Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہر طرف دکانیں لاشوں کے لیے صندل کی لکڑی کی پیسٹ، دیسی گھی اور راکھ جمع کرنے کے لیے مٹی کے برتن بیچ رہی تھیں۔
اس موت کے شہر کو ’کاشی‘ یا ’روشنی کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کے مصنف رچرڈ لانوے، جنھیں وارانسی نے کافی متاثر کیا، نے اسے ’تاریکی کا شہر اور خواب‘ سے تعبیر دی تھی۔
اپنی کتاب میں انھوں نے پولیس کے چیف سپریٹنڈنٹ کے حوالے سے لکھا کہ بنارس میں ’مندروں سے خواتین اغوا ہوتی تھیں، خدا کے نام پر جسم فروشی ہوتی تھی اور مقدس مقامات پر چوریوں کے واقعات ہوا کرتے تھے۔ (شیو پرست) اگھور پنتھ انسانی گوشت کھانے کی روایت کے لیے جانے جاتے تھے جبکہ جعلی تانترک نشے میں دھت ملتے تھے۔‘
مگر جس بات نے مجھے سب سے متاثر کیا وہ یہ تھی کہ یہ معدوم شہر دراصل تفریح کا شہر ہے۔ میرے قریب دوڑتے ہوئے لوگ مُردوں کو مقدس دریا میں بہانے کے لیے جاتے تھے۔ اس دوران وہ آوازیں بلند کرتے اور پورے طریقہ کار میں چیخ و پکار سنائی دیتی۔
ایک طرف انڈیا کے شہروں میں رونق نظر آتی ہے۔ مگر اس مقدس شہر کا تفریح کا اپنا ہی ایک مخصوص انداز ہے۔ ہر راستے سے ٹریفک ایک ہی جگہ مڑتی ہے اور اس کا صوفیانہ انداز کچھ ایسا ہے کہ پورے شہر میں کوئی ٹریفک لائٹ نہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہYadid Levy/Alamy
راستوں پر عمر رسیدہ پولیس اہلکار چہرے پر ماسک لگائے اپنے بازو کھول کر کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے پاس سے گاڑیاں، گائے، سائیکل اور ٹرک تیز رفتار میں گزر جاتے ہیں۔
مصروف شاہراہ ففتھ ایونیو کے بیچ میں کتا سویا ہوتا ہے اور فٹ پاتھ پر لوگ۔ تو کبھی گلی میں تلواروں سے کرتب کرتا ایک شخص بھیڑ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
مجھے معلوم تھا کہ مقدس پانی ہی میری پہلی منزل ہوگا۔ تو میں نے ہوٹل میں بیگ رکھے اور شمشان گھاٹوں کی طرف جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ 20 منٹ کے سفر میں ہم نے آخری رسومات کے دو ہجوم اور بچوں کی پریڈ دیکھی۔
سامنے کی سیٹ پر بیٹھا ایک مقامی نوجوان مجھے کہنے لگا کہ ’یہ کوئی اچھا وقت نہیں۔‘ وہ مجھے متنبہ کرتا ہے جس دوران میں لاشوں کے ساتھ ماتمی جلوس دیکھتا ہوں۔
وہ بتاتا ہے کہ ’اسے کرما کہتے ہیں۔ سب اس دوران چھپ کر رہتے ہیں۔ کوئی شادیوں کی بات نہیں کرتا۔ سب خاموش رہتے ہیں۔ شہر میں اسے بُرا وقت سمجھا جاتا ہے۔‘
اگر وارانسی میں اسے خاموشی کہتے ہیں کہ جس میں، میں ٹرین کی آواز بھی نہیں سن پا رہا جو ہمارے اوپر اینٹوں کے بنے پُل سے گزر رہی ہے، تو یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ تہوار کے دنوں میں کیا ہوتا ہوگا۔ ’بُرا وقت 14 جنوری کو ختم ہوگا۔‘ اس نے مجھے بتایا ’پھر آپ جشن منائیں گے۔‘
میرے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہ تھی کیونکہ مجھے 13 جنوری کو واپس جانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMaciej Dakowicz/Alamy
ہم ایک گرجا گھر کے باہر پہنچے جہاں سے لوگ راکھ کو بہانے کے لیے مقدس دریا کی طرف جا رہے تھے۔ سڑک پر لگے سائن بورڈز پر درج تھا ’شہر میں اباکس کی کلاسوں کے لیے سب سے قدیم سینٹر‘ اور ’گلوریئس لیڈیز ٹیلر‘۔ میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ان درزیوں کی مہارت خواتین میں ہے یا سلائی میں۔
ایک دوسرے بورڈ پر لکھا تھا ’برٹش سکول فار لینگویجز کا نیا نام ٹراؤنس ایجوکیشن ہے۔‘ اس پر برطانوی دور کے خاتمے کا خلاصہ بھی موجود تھا۔
پرانے شہر میں ہر ایک مربع میل میں پانچ لاکھ کی آبادی جمع ہے جس کی وجہ سے بعض غیر ملکی سیاح ہار مان جاتے ہیں۔ جبکہ بعض کو ڈر رہتا ہے کہ انھیں جان بوجھ کر کوئی نشہ آور چیز نہ دے دی جائے۔
میرے گائیڈ نے دریا کے کنارے بتایا ’یہاں سب بدلتا رہتا ہے۔‘ پنڈت زمین پر بیٹھے ہوئے تھے جنھوں نے دھوپ سے بچنے کے لیے رنگ برنگی چھتریاں اپنے اوپر لگائی ہوئی تھیں۔ ان کے ماتھوں پر راکھ کے نشان تھے اور وہ مقدس کلمات ادا کر رہے تھے۔
’بدلتے رنگ۔ بدلتا جذبہ۔ بدلتی قوت۔ شہر میں آ کر آپ کو بڑا ہوشیار رہنا ہوگا۔‘
مجھے یہ بات پہلے ہی سمجھ آگئی تھی۔
دریا کے پاس سے ایک نیم برہنہ آدمی ہمیں دیکھتا ہوا گزرا جب ہم اندر ہٹ میں آگ کے قریب جمع تھے۔

،تصویر کا ذریعہGraham Prentice/Alamy
میں نے پوچھا ’کیا وہ پوجا کرنے جا رہا ہے؟‘
جواب میں بتایا گیا کہ ’ان کے لیے سب کچھ راکھ کی مانند ہے۔ ان سادھوؤں کو لاش جلانے کی آخری رسومات سے بہت لگاؤ ہے اور وہ اس کے آس پاس رہتے ہیں۔ وہ ہماری طرح کپڑے نہیں پہنتے۔ وہ دنیا کی رونقوں میں رہنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ وہ راکھ کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔‘
ہم نے کچھ دور نیلے لباس اور پگڑی میں ایک شخص کو دانائی کی باتیں کرتے سنا۔ میرے گائیڈ نے بتایا ’یہ ہنستا یوگی ہے۔‘ وہ خود بھی اسے دیکھ کر ہنسنے لگے جیسے تفریح کی کوئی چیز دیکھ لی ہو۔
ایک بڑی گائے ہمارے پاس سے گزری۔ ہم ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوگئے۔ نوجوان لڑکوں نے ہاتھوں میں تیل کے لیمپ تھام رکھے تھے اور وہ رات کی روایتوں کی پریکٹس کر رہے تھے۔
دوسری کشتیاں زیارت کرنے والوں کو واپس لے جا رہی تھی۔ شمال سے جنوب تک آگ جلتی دکھائی دے رہی تھی اور فضا میں کوئلے کی بو تھی۔
کشتی کے ملاح نے بتایا ’یہ واحد شہر ہے جہاں آپ 24 گھنٹے لاشوں کو جلانے کا عمل دیکھیں گے۔‘ ایسا لگا جیسے وہ کسی دکان کی بات کر رہے ہیں۔ دوسرے شہروں میں شمشان گھاٹ روایتی طور پر شہر کے باہر ہوتے ہیں۔ مگر اس شہر کے مرکز میں شمشان گھاٹوں میں لاشیں جلتی رہتی ہیں۔
میں اس تمام معلومات کے ساتھ واپس ہوٹل گیا۔ میرے نئے دوست نے مجھے بتایا کہ ’سب مائع ہے۔ کوئی بھی چیز اپنی اصل حالت میں برقرار نہیں رہتی۔‘











