ماں بیٹی کے خلاف دو نوجوانوں کو قتل کرانے کا الزام

محمد ہاشم اعجاز الدین اور ساقب حسین کا تعلق آکسفرڈ شائر سے تھا اور دونوں کی عمر اکیس برس تھی

،تصویر کا ذریعہLEICESTERSHIRE POLICE

    • مصنف, جارج ٹور
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

برطانیہ میں ایک ٹک ٹاک انفلوئنسر اور ان کی والدہ پر الزام ہے کہ انھوں نے دو نوجوانوں کو منصوبہ بندی کے تحت سڑک کے حادثے میں جان سے مروا دیا۔ 

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ان افراد کے پاس ٹک ٹاک انفلوئنسر مہک بخاری کی والدہ عنصرین بخاری کی جنسی مواد پر مبنی ایک ٹیپ تھی جس کی بنیاد پر وہ انہیں بلیک میل کر رہے تھے۔

محمد ہاشم اعجاز الدین اور ثاقب حسین کا تعلق آکسفرڈ شائر سے تھا اور دونوں کی عمر اکیس برس تھی۔ 11 فروری کو یہ دونوں برطانوی شہر لیسٹر کے پاس ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس معاملے میں 23 سالہ مہک بخاری اور ان کی 45 سالہ والدہ کے علاوہ چھ دیگر افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

لیسٹر کراؤن کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت جمعرات کو شروع ہوئی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ثاقب حسین اور مہک کی والدہ عنصرین بخاری کے درمیان معاشقے کا آغاز 2019 میں ہوا اور یہ تعلق جنوری 2022 میں ختم ہوگیا تھا۔

استغاثہ کے وکیل کولن وڈ تھامپسن نے بتایا کہ ثاقب کے پاس عنصرین کی سیکس ویڈیوز اور تصاویر تھیں اور تعلقات ختم ہو جانے کے بعد بھی وہ بار بار عنصرین سے رابطہ کرتا رہا۔

مہک بخاری نے اپنے خلاف قتل کے دونوں الزامات کو مسترد کیا ہے

،تصویر کا ذریعہPHOTO SUPPLIED

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عدالت میں بتایا گیا کہ ’ثاقب حسین کا رویہ دن بدن جنونی ہوتا جا رہا تھا اور وہ عنصرین کو حاصل کرنے کے لیے غصے اور جھنجلاہٹ کا مظاہرہ بھی کرنے لگا تھا۔‘

استغاثہ کے بقول ’اسی غصے کے نتیجے میں اس نے عنصرین کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ انہیں دوبارہ رابطہ بحال کرنے پر مجبور کر سکے۔‘ 

تھامپسن نے کہا ’وہ انہیں دھمکی دینے لگا کہ اگر انھوں نے رابطہ نہیں کیا تو وہ ان کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز انسٹاگرام پر شائع کر دے گا اور ان کے شوہر اور بیٹے کو بھیج دے گا۔ 

عداکت کو بتایا گیا کہ عنصرین کی بیٹی کو اس افیئر کے بارے میں معلوم تھا اور جب انھیں بلیک میلنگ کے بارے میں پتا چلا تو انھیں یہ فکر لاحق ہو گئی کہ اس سے ان کا خاندان اور ان کی ذاتی سوشل میڈیا فالوئنگ متاثر ہو جائے گی۔ 

 تب انھوں نے اپنی والدہ کو ایک واٹس ایپ پیغام بھیجا ’میں جلد ہی کچھ لوگوں سے کہہ کر اس کے ہوش ٹھکانے لگواتی ہوں۔‘ 

جیوری کوبتایا گیا کہ ثاقب حسین عنصرین بخاری سے تیس ہزار پاؤنڈ کا مطالبہ کر رہا تھا جو بظاہر اس نے دونوں کے تعلقات کے دوران ان پر خرچ کیے تھے۔ رقم کی ادائیگی کے لیے لیسٹر میں ہی ایک مقام پر ملنا طے پایا تھا۔

سماعت کے دوران کیے جانے والے دعوؤں کے مطابق اس ملاقات میں رقم ادا کرنے کے بجائے ماں بیٹی نے ثاقب کا وہ فون حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں عنصرین کی تصاویر اور ویڈیوز تھیں۔

عدالت میں بتایا گیا کہ مہک اور عنصرین کے ساتھ چھ شریک ملزمان دو کاروں میں سوار ہو کر ثاقب کو سبق سکھانے کے ارادے سے نکلے۔

جیوری کو بتایا گیا کہ دس فروری کو اعجاز الدین اس ملاقات کے لیے ثاقب کے ساتھ جانے پر راضی ہو گئے۔ یہ ملاقات ہیملٹن کے علاقے میں ایک کار پارکنگ میں ہونی تھی۔

استغاثہ کے بقول ’جب انھوں نے وہاں دو کاروں، ایک آؤڈی ار دوسری لیون ، کو آتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی۔ وہ دونوں اپنی کار لے کر وہاں سے بھاگے۔‘

عدالت کو بتایا گیا کہ یہ وہی آؤڈی کار تھی جو مہک بخاری کے پاس ان دنوں بطور ریپلیسمنٹ کار موجود تھی۔ اس کار میں ٹریکنگ ڈیوائس تھی جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انھوں نے ثاقب اور اعجاز کا پیچھا کرتے ہوئے اس وقت سو میل فی گھنٹہ کی رفتار پر کار دوڑائی۔ 

یہ بھی پڑھیے:

’میں مرنے والا ہوں‘

ثاقب حسین پیسنجر سیٹ پر تھے جب کہ اعجاز کار چلا رہے تھے۔ ثاقب نے اس دوران مدد کے لیے پولیس کو 999 نمبر پر ایمرجنسی کال کی۔

 اس کال کی ریکارڈنگ عدالت میں سنائی گئی جس میں ثاقب کہہ رہے ہیں ’وہ لوگ میرا پیچھا کر رہے ہیں۔ انھوں نے چہرے پر ماسک چڑھائے ہوئے ہیں۔ وہ مجھے کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہ لوگ مجھے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں مرنے والا ہوں، پلیز سر، مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘

’وہ کار کو پیچھے سے ٹکر مار رہے ہیں۔ بہت تیزی سے۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں۔ میں مرنے والا ہوں۔‘

کال کٹنے سے پہلے ایک زور دار چیخ بھی سنائی دیتی ہے۔

جس مقام پر کار کریش ہوئی وہاں پہنچنے والی پولیس کی گاڑی سے ریکارڈ کی گئی فوٹیج میں اس جلتی ہوئی کار کو دیکھا جا سکتا ہے جس میں اعجاز اور ثاقب سوار تھے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس اور آگ بجھانے والے عملے کو آگ بجھانے کے بعد دو جلی ہوئی لاشیں ملیں۔ دونوں کی شناخت ان کے دانتوں کی جانچ کر کے کی گئی۔ 

استغاثہ کے وکیل تھامپسن نے عدالت میں کہا ’رقم ادا کرنے اور عنصرین سے ملنے کا لالچ دے کر ثاقب حسین کے لیے جال بچھایا گیا تھا۔‘ 

انھوں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ اس سازش کا مقصد ثاقب کا آئی فون حاصل کرنا تھا جس میں عنصرین کی تصاویر اور ویڈیوز تھیں۔

انھون نے کہا ’لیکن فون چھین لیے جانے کے بعد بھی ثاقب عنصرین کے شوہر کو افیئر کے بارے میں بتا سکتا تھا، اس لیے انھیں خاموش کرانا ضروری تھا۔ اس کے لیے یا تو انہیں کوئی سخت سبق سکھانا یا پھر ہمیشہ کے لیے خاموش کرا دینا ضروری تھا۔‘

عدالت کو بتایا گیا کہ اعجاز الدین کا اس پورے معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف اپنے دوست کی اس ملاقات کے لیے پہنچنے میں مدد کر رہے تھے۔‘ 

تھامپسن نے کہا ’یہ ان کے لیے ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ ایک ایسی غلطی جس نے ایک معصوم انسان کی جان لے لی۔‘ 

کل آٹھ ملزمان کے خلاف دو افراد کے قتل کے اس مقدمہ کی سماعت ابھی جاری ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے