’کابلی والا‘ سلیم درانی: تماشائیوں کی فرمائش پر چھکے اور ضرورت کے وقت وکٹ لینے والے کرکٹر

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
تماشائیوں کی فرمائش پر چھکے لگانے والے اپنے زمانے کے انڈیا کے خوبصورت ترین آل راؤنڈر سلیم درانی کا طویل علالت کے بعد اتوار کو انتقال ہو گیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق انھیں کینسر کا مرض لاحق تھا اور انھوں نے انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے جام نگر میں آخری سانسیں لیں۔
اپنے زمانے کے معروف کرکٹر دلیپ سردیسائی کے بیٹے اور معروف صحافی راجدیپ سردیسائی نے ان کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا: ’انڈین کرکٹ کا واحد شہزادہ سلیم۔۔۔ 1971 کے تاریخی دورے پر میرے والد مرحوم کا تاحیات ’رومی‘، جو اپنی مرضی سے چھکے لگا سکتا تھا اور جادوگر کی طرح باؤلنگ بھی کر سکتا تھا (یعنی) سلیم درانی۔ میرے سلیم چچا کی وفات ہو گئی ہے۔ ایک عہد کا خاتمہ۔‘
انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’کیا کوئی سلیم درانی سے بھی زیادہ خوبصورت کرکٹر ہو سکتا تھا۔ اس آئی پی ایل والے عہد میں تو وہ لوگوں کا جنون ہوتے۔۔۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سلیم درانی کی یہ وہ تعریف ہے جو عام طور پر سنی جاتی ہے۔
ان کی کرکٹ کے لوگ ایسے دیوانے تھے کہ سنہ 1973 میں انگلینڈ کے دورے کے ایک میچ میں جب انھیں ایک ٹیسٹ نہ کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو پورے شہر میں پوسٹر لگے نظر آئے ’نو درانی، نو ٹیسٹ۔‘
کرکٹ میں ریکارڈز کی بات ہوتی ہے لیکن درانی کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو وہ معمولی کرکٹر نظر آتے ہیں
انھوں نے 29 ٹیسٹ میں 1202 رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور سات نصف سنچریاں تھیں۔ جبکہ انھوں نے 25 کے اوسط سے 75 وکٹیں بھی لیں۔ لیکن ان کی کرکٹ اور میدان میں ان کی موجودگی اتنی جاذب نظر تھی کہ وہ اپنے ان اعدادوشمار سے کہیں زیادہ بڑے کرکٹر نظر آتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اتنے جاذب نظر شخصیت کے مالک تھے کہ کرکٹ کو الوداع کہنے کے بعد وہ فلم انڈسٹری میں بھی نظر آئے اور اپنے زمانے کی خوبصورت ترین ہیروئن پروین بابی کے ساتھ فلم ’چرتر‘ (کردار) میں نظر آئے۔
سپن آل راؤنڈر سلیم درانی 11 دسمبر سنہ 1934 کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیدا ہوئے۔
لیکن جب درانی صرف 8 ماہ کے تھے تو ان کا خاندان غیر منقسم ہندوستان کے معروف شہر کراچی (اب پاکستان کا شہر) میں آباد ہو گیا۔ اس کے بعد جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا تو ان کا خاندان انڈیا چلا آیا۔

،تصویر کا ذریعہSalim Durani
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درانی کو انڈیا کی کرکٹ کی تاریخ میں ایک شاندار آل راؤنڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے سنہ 1960 میں آسٹریلیا کے خلاف ممبئی ٹیسٹ میں ڈیبیو کیا۔ درانی طوفانی بیٹنگ کے لیے جانے جاتے تھے۔
لمبے اکہرے جسم اور نیلی آنکھوں کے ساتھ سلیم درانی جہاں بھی جاتے لوگ انھیں گھیر لیتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ شائقین کے کہنے پر چھکا مارتے تھے اور وہ بھی اس جگہ جہاں چھکا لگاتے جہاں سے چھکے کا زیادہ مطالبہ آتا تھا۔
سلیم درانی کی مقبولیت اور اہمیت کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پہلے انڈین کرکٹر رہے جنھیں کھیل کے گرانقدر ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انھیں یہ ایوارڈ ان کی انگلینڈ کے خلاف گرانقدر خدمات کے لیے دیا گیا تھا۔ انھوں نے سنہ 1961-62 سیریز کے دوران کلکتہ (کوکلتہ) اور مدراس (چینئی) ٹیس میں آٹھ اور دس وکٹیں لی تھیں اور انڈیا کو فتح سے ہمکنار کیا تھا۔ اس سیریز میں انھوں نے سب سے زیادہ 23 وکٹیں لی تھیں۔
ان کا سب سے یادگار سپیل وہ ٹیسٹ میچ ہے جو انڈیا کے مایہ ناز بیٹسمین سنیل گواسکر کا پہلا ٹیسٹ تھا اور اس میں انھوں نے ایک ہی اوور میں کلائیو لائڈ اور گیری سوبرس کا وکٹ لے کر میچ کا رخ بدل دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSALIM DURRANI
مخصوص چھکے کی بات
سنہ 1973 میں اپنے آخری میچ میں سلیم درانی نے 73 اور 37 رنز بنائے اور انھیں دونوں بار آف سپنر پیٹ پوکاک نے آوٹ کیا۔ لیکن اس سے قبل ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک پارٹی میں پوکاک اپنی باؤلنگ کے بارے میں فخریہ انداز میں باتیں کر رہے تھے۔
سلیم درانی نے ان کی بات سن لی۔ وہ اپنے انداز میں بہت بے باک تھے اور انھوں نے پوکاک سے کہ کہ ’پیٹ، آپ کو آف سپن بالکل نہیں آتی۔ اگلی بار جب آپ مجھے گیند کریں گے تو میں ایسٹ اینڈ پر آپ کی پہلی گیند پر چھکا لگاؤں گا۔‘
جب کپتان مائیک ڈینس نے پوکاک کو گیند تھمائی تو انھوں نے ان سے کہا کہ درانی نے ایک دن پہلے انھیں کہا تھا کہ وہ ان کی پہلی گیند پر چھکا ماریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈینس نے کہا کہ ’پارٹی کی بات پارٹی تک ہی ہوتی ہے یہ معاملہ الگ ہے، یہ ٹیسٹ میچ ہے۔ آپ بے خوف آف اسٹمپ پر گیند ڈالیں میں نے آپ کے لیے مڈ وِکٹ بھی رکھی ہے۔‘
پوکاک نے بال ڈالی اور کیا تھا درانی نے وعدے کے مطابق ان کی پہلی گیند کو ایسٹ اینڈ سٹینڈ کی طرف چھکے کے لیے اچھال دیا۔
اس کے بعد درانی پوکاک کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ ’میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ آف اسپنر نہیں ہیں۔‘
درانی نے 73 رنز کی اپنی اننگز میں دو چھکے لگائے اور پھر بعد میں 37 رنز کی اننگز میں ایک چھکا لگایا۔

فلم میں اداکاری
ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے زمانے کے معروف فلم ساز بابورام اشارا نے انھیں اپنی فلم چرتر میں بطور ہیرو سائن کیا جس کے لیے انھیں 18000 روپے دیے گئے۔
انڈین کرکٹر یوجوویندر سنگھ نے ہمارے نامہ نگار ریحان فضل کے ساتھ بات چیت کے دوران بتایا کہ ’سلیم درانی بڑے مزے کے آدمی تھے۔ وہ دیکھنے میں اچھے تھے، اسی لیے انھیں فلم میں اداکاری کا موقع ملا۔ جب وہ فلم کی شوٹنگ کے بعد حیدرآباد آئے تو ہم نے سلیم بھائی سے ٹریٹ لینے کا سوچا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ انھیں اداکاری کے 18000 روپے ملے ہیں۔‘
’جب ہم نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے کہا: ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہم نے کہا، ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے پاس 18000 روپے ہیں۔ سلیم نے کہا، ہم نے وہ رقم پروین بابی پر لٹا دیے۔ اس طرح کے تھے وہ۔۔۔ بالکل بے فکر۔‘

،تصویر کا ذریعہDD News
سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغام
لیکن آج 88 سال کی عمر میں ان کے جانے کے بعد سوشل میڈیا ان کے مداح ان کے مختلف انداز کو یاد کر رہے ہیں۔
انڈیا کے اقوام متحدہ میں سابق سفارت کار ٹی ایس ترمورتی لکھتے ہیں کہ ’سلیم درانی نہیں رہے۔ ایک عہد کا خاتمہ ہوا۔ سنہ 1973 کے مدراس ٹیسٹ میں چیپک کے میدان پر میں ان کے مانگ پر چھکے اور ضرورت پر وکٹ لینے کی صلاحیت کو نہیں بھول سکتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
معروف صحافی ونود شرما نے لکھا ہے کہ ’میرے پہلے کرکٹر ہیرو نہیں رہے۔ چین کی نیند سوئیں مسٹر ہینڈسم۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
معروف کرکٹ کمنٹیٹر اور مصنف ہرش بھوگلے نے لکھا: ’کرشماتی، بڑے دل والے اور شاندار سلیم درانی اب ہمارے ساتھ نہیں رہے۔ اے کاش کے نئی نسل کو ان کی مزید کہانیاں سننے کو ملیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
سیکیا اروپ نامی صارف نے سلیم درانی کی شوٹنگ کے دوران بریک میں اداکارہ پروین بابی کو وکٹ کے پیچھے سے کرکٹ کے ہنر بتاتے ہوئے تصویر ڈالی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
ایک سرکاری افسر چتنیا کے پرساد نے لکھا: ’کرکٹ کی تاریخ میں بے نظیر اور بے مثال۔ ہم میدان پر اس فیشن آئیکون کی کھیلتے ہوئے بہت سی دھواں دار اننگز دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے۔ سلیم درانی ایک لیجنڈ تھے۔ آنے والی نسل کو ان کے بارے میں پڑھنا چاہیے۔‘
’آج آئی پی ایل کو ان کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم ان کی بیٹنگ کے انداز اور طاقت کو بہت یاد کریں گے۔‘
سلیم درانی جب سنہ 2018 میں کابل پہنچے تھے تو لوگوں نے ان کی تصویر ٹویٹ کی تھی اور لکھا تھا کہ ’دیکھو کرکٹ کے میدان میں کون آیا ہے وہی پرانا کابلی والا سلیم درانی۔‘











