15 سالہ بنگلہ دیشی لڑکی جسے انڈیا کی سیر کا جھانسہ دے کر 20 ہزار روپے میں جسم فروشی کے لیے بیچ دیا گیا

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کی ایک لڑکی کے انکشاف نے انٹرنیشنل ہیومن ٹریفکنگ پر روشنی ڈالی ہے
    • مصنف, امریندر یارلاگڈا
    • عہدہ, بی بی سی

’وہ مجھے انڈیا کے سیاحتی مقامات دکھانے کے بہانے یہاں لائے۔ لیکن جب میں یہاں پہنچی تو انھوں نے مجھے دھمکیاں دیں اور مجھے جسم فروشی پر مجبور کیا۔‘

بنگلہ دیش کی ایک 15 سالہ لڑکی نے انڈین ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کی پولیس سے رابطہ کرکے یہ شکایت درج کروائی ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں حیدرآباد سے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے جس سے بین الاقوامی انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر روشنی پڑتی ہے۔

حیدرآباد کے بندلا گوڈا کے انسپکٹر بی سرینواس راؤ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم لڑکی کو بنگلہ دیش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس بارے میں وزارت خارجہ سے رابطے میں ہیں۔‘

حیدرآباد پولیس نے دو خواتین اور ایک نوجوان کو اس معاملے میں براہ راست شامل ہونے کے لیے گرفتار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہHyderabad Police

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد پولیس نے دو خواتین اور ایک نوجوان کو گرفتار کیا ہے

لڑکی کو انڈیا کون لایا؟

15 سالہ لڑکی 8 اگست کو حیدرآباد کے بندلا گوڈا پولیس سٹیشن پہنچی۔ اس نے بتایا کہ وہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب میرپور سٹی تھانہ کی رہائشی ہے۔

لڑکی نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے التجا کی کہ ’میں ایک گینگ کے چنگل میں پھنس گئی ہوں، براہ کرم مجھے بچائیں۔‘

لڑکی کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے حیدرآباد سے شہناز فاطمہ، ہاجرہ بیگم نامی دو خواتین اور محمد سمیر نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

چندراین گُٹّہ کے اے سی پی اے سدھاکر نے کیس کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا: ’روپا نامی خاتون اس لڑکی کو سیاحتی مقامات دکھانے کے وعدے کے ساتھ بنگلہ دیش سے انڈیا لائی تھی۔ لڑکی نے بتایا کہ روپا نامی یہ خاتون بنگلہ دیش میں اس کے گھر کے قریب رہتی ہے۔‘

پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں سال فروری میں روپا نے لڑکی کے ساتھ ایک کشتی میں انڈیا-بنگلہ دیش سرحد پر دریائے سونائی کو پار کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہاں سے لڑکی کو کولکتہ لایا گیا، پھر وہ ٹرین سے حیدرآباد پہنچے۔

لڑکی کو اس کی ایک پڑوسن نے انڈیا کے سیاحتی مقامات کی سیر کے نام پر دھوکہ دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلڑکی کو اس کی ایک پڑوسن نے انڈیا کے سیاحتی مقامات کی سیر کے نام پر دھوکہ دیا

لڑکی کو جسم فروشی پر مجبور کیا گيا

پولیس کو پتہ چلا کہ لڑکی کو یہاں 20 ہزار روپے میں فروخت کر دیا گيا۔ سب سے پہلے روپا نے لڑکی کو شہناز فاطمہ نامی ایک ڈانسر کے حوالے کیا۔

اے سی پی سدھاکر نے کہا: ’انھوں نے لڑکی کو دھمکی دی اور اسے جسم فروشی پر مجبور کیا۔‘

لڑکی نے کہا کہ ’انھوں نے دھمکی دی کہ وہ پولیس کو بتائیں گے کہ لڑکی غیر قانونی طور پر انڈیا میں داخل ہوئی ہے اور پھر پولیس اسے جیل میں بند کردے گی۔‘

پھر شہناز فاطمہ نے لڑکی کو ہاجرہ بیگم کے حوالے کر دیا۔ ہاجرہ بیگم آٹو ڈرائیور محمد سمیر نامی شخص کی مدد سے لڑکی کو شہر کے مختلف مقامات پر لے جاتی تھی۔

پولیس کو معلوم ہوا کہ اسے ہوٹلوں میں پہنچایا جا رہا تھا اور جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی مدد سرور نامی ایک شخص نے بھی کی۔

بندلا گوڈا کے انسپکٹر سرینواس راؤ نے بی بی سی کو بتایا: ’لڑکی کو ہر روز ہوٹل لے جایا جاتا تھا۔ جب وہ بندلا گوڈا سے نکل رہی تھی تو وہ پولیس سٹیشن کے سامنے سے گزر رہے تھے، اسی وقت لڑکی سمیر کے ہاتھوں سے نکل بھاگی اور پولیس میں شکایت درج کرائی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ملزم اسے تقریباً چھ ماہ سے دھمکیاں دے رہا تھا اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنا رہا تھا۔

اس معاملے میں مغربی بنگال کی تین دیگر خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں پولیس ریمانڈ میں دیا گیا ہے جبکہ وہاں سے بچائی گئی بعض خواتین کو ریسکیو ہوم میں رکھا گیا ہے۔

بی بی سی نے گرفتار افراد کے اہل خانہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انھیں بیوٹی پارلر اور مساج پارلر میں نوکری کا لالچ دے کر جسم فروشی میں دھکیل دیا جاتا ہے

انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد

رواں سال اپریل میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی مرکزی وزارت نے راجیہ سبھا (پارلیمان کی ایوان بالا) میں ملک بھر میں انسانی اسمگلنگ کے معاملات کا ڈیٹا پیش کیا۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے راجیہ سبھا میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ ڈیٹا ایوان میں پیش کیا۔

وزارت نے انکشاف کیا کہ 2018 سے 2022 تک تلنگانہ میں ایسے 1301 کیس درج کیے گئے ہیں۔

غیر سرکاری ادارے پرجوالا سنستھا کی بانی سنیتا کرشنن نے کہا کہ تلنگانہ میں بڑی تعداد میں انسانی اسمگلنگ کے مقدمات درج ہونے کی وجہ یہاں کا مضبوط پولیس نظام ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیگر ریاستوں کے مقابلے یہاں زیادہ کیسز درج ہو رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کتنے کیسز میں جرم ثابت ہوئے ہیں اور سزائیں سنائی گئی ہیں۔‘

عدالت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سزائیں بہت کم معاملات میں ہوئی ہیں

سزا کم ہی ہوتی ہے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ تلنگانہ میں مقدمات درج ہورہے ہیں لیکن سزا سنانے کی شرح بہت کم ہے۔

مثال کے طور پر سنہ 2020 میں درج 184 مقدمات میں سے صرف دو مقدمات میں ملزمان کو سزا سنائی گئی۔

2021 میں 347 مقدمات میں سے ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ 2022 میں 391 مقدمات میں سے صرف ایک کو سزا دی گئی۔

سنیتا کرشنن نے بی بی سی کو بتایا کہ مقدمات کو حل کرنے کے لیے خصوصی ٹیموں کی کمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوجداری مقدمات میں کم سزائیں سنائی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’حیدرآباد سمیت کئی علاقوں میں انسداد انسانی سمگلنگ یونٹس موجود ہیں، لیکن وہاں کام کرنے والی پولیس روزانہ مختلف ڈیوٹیوں میں مصروف رہتی ہے، جس کی وجہ سے مقدمات کو حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

تلنگانہ کے ایک سینیئر آئی پی ایس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انسانی سمگلنگ کے معاملات کو حل کرنے میں چین کے لنکس (کیسز کے تار کہاں سے جڑے ہوئے ہیں اور کون اس میں ملوث ہے) کی نشاندہی کرنے میں شدید تاخیر ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا: ’جب لوگوں کو انسانی اسمگلنگ کے مقدمات میں گرفتار کیا جاتا ہے، تو وہ دوسرے ممالک اور دوسری ریاستوں سے ہوتے ہیں۔ ایسے میں انھیں لانا اور مقدمہ ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

کم عمر لڑکیوں کو مختلف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنوبی انڈیا کے علاقوں کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بنگلہ دیشی لڑکیوں کو حیدرآباد لایا گیا ہو، اس سے قبل بھی اس طرح کے کچھ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

پولیس نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ انھوں نے 2019 میں پہاڑ شریف تھانے کے علاقے میں پانچ بنگلہ دیشی خواتین کو بچایا تھا۔

گذشتہ سال حیدرآباد سی سی ایس پولیس کے ایک آپریشن میں پرانے شہری علاقے میں 60 غیر ملکی برآمد ہوئے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ ان میں سے 30 بنگلہ دیشی تھے جن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں۔

ساؤتھ ایسٹرن زون کے ڈی سی پی چیتنیہ کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ نوجوان خواتین کی سمگلنگ صرف حیدرآباد تک محدود نہیں ہے بلکہ بنگلہ دیشی خواتین اور لڑکیوں کو چنئی، ممبئی اور بنگلورو میں بھی سمگل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس کی ایک وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ مغربی بنگال میں بولی جانے والی زبان اور بولی کو پہچانتے ہیں۔ اگر آپ انھیں جنوبی انڈیا کے شہروں میں لے آئیں تو وہ زبان کو نہیں پہچان سکتے۔‘

ڈی سی پی چیتنیہ کمار نے انسانی سمگلنگ کے لیے بنگلہ دیش کو منتخب کرنے کی وجوہات کا بھی تجزیہ کیا۔

انھوں نے کہا: ’بنگلہ دیشیوں کو آسانی سے غیر ملکی نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ انڈینز کی طرح نظر آتے ہیں۔ تاہم، اگر وہ افریقی ممالک سے آتے ہیں، تو ان کی آسانی سے شناخت ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اسمگل کیا جا رہا ہے اور جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انسانی سمگلنگ کے ایجنٹ نوکریوں اور روزگار کے مواقع کے نام پر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو اپنا شکار بنا رہے ہیں۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس کام کے لیے ایجنٹ کو 20 ہزار سے 40 ہزار روپے تک معاوضہ دیا جا رہا تھا۔

سری نواس راؤ بتاتے ہیں: ’وہ انھیں بیوٹی پارلر اور مساج پارلر کی نوکریوں کی آڑ میں لا رہے ہیں۔ پھر وہ انھیں دھمکیاں دے کر جسم فروشی میں گھسیٹ رہے ہیں۔‘