’2500 روپے دیں اور پولیس میں نوکری حاصل کریں‘: انڈیا میں جعلی پولیس سٹیشن بنا کر ملازمت کے نام پر دھوکے کی کہانی

جعلی پولیس سٹیشن

،تصویر کا ذریعہPankaj Yadav

انڈیا کی ریاست بہار کے پورنیہ ضلع میں ایک جعلی پولیس تھانہ کھول کر پولیس میں ملازمت دینے کے دھوکے کا پردہ فاش ہوا ہے۔

پورنیہ ضلع کے علاقے موہنی پنچایت میں پولیس سٹیشن کا کیمپ آفس بنا کر نوجوانوں سے رقم کے عوض ٹریننگ اور ملازمت دینے کا دھوکہ کیا گیا ہے۔

علاقے کے نوجوانوں کی پولیس میں ملازمت دینے کے لیے کروائی جانے والی یہ فرضی ٹریننگ دسمبر 2024 سے جنوری 2025 کے درمیان ہوئی تھی، جس میں بہار کے محکمہ پولیس میں گرام رکشا دل اور ہوم گارڈ فورس میں نوکری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

لیکن پورنیہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کارتیکیہ کے شرما کا کہنا ہے کہ ’فرضی یا جعلی پولیس سٹیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ گرام رکھشا دل کو پنچایت راج محکمہ کے تحت 30 دنوں تک تربیت دی جاتی ہے۔‘

تاہم اس جعلی پولیس سٹیشن بنانے اور علاقے کے نوجوانوں سے رقم کے عوض پولیس میں ملازمت دینے کا جھانسہ دینے والے مرکزی ملزم کا تعلق بھی بہار گرام رکھشا دل فورس سے ہے۔

کارتیکیہ کے شرما کے مطابق کہ ’ملزم نے کچھ لوگوں کو نوکریوں کا وعدہ کر کے دھوکہ دیا ہے۔ اب تک ہمیں ایسی 25 شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ اس پورے معاملے میں مقامی رہنما کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔‘

یہ معاملہ ہے کیا؟

انڈیا کی ریاست بہار میں دسمبر 2024 میں بہار ریاست دالپتی اور گرام رکھشا دل کے بینر تلے ایک ماہ طویل ٹریننگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا جو پورنیہ ضلع کے قصبہ تھانہ کے علاقے موہانی میں ایک مڈل سکول میں چل رہا تھا۔

بہار گرام رکھشا دل اور دالپتی فورس کے اہلکار کسی بھی ہنگامی صورت حال میں دیہی علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ یہ 18 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل فورس ہے جو آگ، سیلاب، وبا، امن برقرار رکھنے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے جیسے حالات میں ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔

یہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں اور خواتین نے اب شکایت کی ہے کہ انھیں نوکریوں کا وعدہ کر کے دھوکہ دیا گیا ہے۔

بی بی سی نے کئی شکایت کنندگان سے بات کی ہے جنھیں اس دھوکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

متاثرہ نوجوان

،تصویر کا ذریعہPankaj Yadav

’ملزم نے 300 لوگوں کو دھوکہ دیا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سالہ سنجنا کمار جنھوں نے قصبہ پولیس سٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے بی کام کی طالب علم ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'تقریباً نو مہینے پہلے، ہم سے 1500 روپے لیے گئے تھے۔ ہم ٹریننگ لینے کے لیے کچھ دنوں کے لیے سکول میں قائم ٹریننگ کیمپ گئے تھے، اور ملزم نے ہمیں بتایا کہ اگر گرام رکھشا تخت سے منظوری مل جاتی ہے، تو ہم سب کو سرکاری نوکری مل جائے گی۔ لیکن اب ملزم فرار ہو گیا ہے۔'

ایک اور نوجوان خاتون کا کہنا تھا کہ 'ہم ملزم کو نیشنل کیڈٹ کور سے جانتے تھے، ہم اسے اپنا بھائی سمجھتے تھے، اس نے گذشتہ ایک سال میں تقریباً 300 لوگوں کو دھوکہ دیا، اس کے پاس ڈگری نہ ہونے کے باوجود اس نے سرکاری سکول میں جعلی تھانہ قائم کیا اور ایک پولیس انسپکٹر کی طرح گھومتا رہا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ملزم نے میری ماں کو یونیفارم بھی دیا اور بتایا کہ اسے سرکاری نوکری مل گئی ہے۔ لیکن میری ماں نے کبھی کوئی تنخواہ وصول نہیں کی۔ وردی پر جس پر (بہار گرام رکھشا دل) لکھا ہوا ہے۔ اس نے ہم سے دس ہزار سے پندرہ ہزار روپے مانگے اور کہا کہ آپ کی تنخواہ 22 ہزار روپے ہو گی۔ اس نے مجھے بھی جوائن کرنے کو کہا۔ لیکن مجھے شک ہوا۔'

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ملزم نے بھاگلپور، سبل، پورنیہ اور کٹیہار سمیت کئی اضلاع کے نوجوانوں کو نوکریوں کا وعدہ کرکے دھوکہ دیا ہے۔

ایک شخص نریش کمار رائے نے بتایا کہ 'میں نے گرام رکھشا دل فورس کا فارم اس وقت بھرا تھا جب میں بے روزگار تھے۔ پھر مجھے ملزم کا فون آیا کہ مجھے سلیکٹ کر لیا گیا ہے۔ میں نے قرض لیا اور اسے 1500 روپے اور پھر 2500 روپے دیئے۔ پہلے اس نے کہا کہ ہمیں نوکری مل جائے گی، پھر اس نے ہمیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔'

جعلی پولیس سٹیشن

،تصویر کا ذریعہPankaj Yadav

قصبہ تھانے کی ’موہانی‘ برانچ

مقامی صحافی سید تحسین علی کا کہنا ہے کہ 'بیٹانہ میں ذیلی صحت مرکز کی عمارت کے ایک طرف ایک سکول چل رہا ہے، دوسری طرف ایک چھوٹی سی عمارت خالی ہے۔ ملزم نے اس خالی عمارت کو (جعلی) پولیس سٹیشن میں تبدیل کر دیا تھا۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ 'ملزم نے یہ کہا کہ یہ قصبہ تھانے کی برانچ ہے، وہ وہاں پولیس کی وردی میں بیٹھتا تھا اور بے روزگار لوگوں کو دھوکہ دے رہا تھا۔ گاؤں والوں کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے اس نے پولیس والوں کے ساتھ سیلفی لی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔'

ملزم جن کی عمر تقریباً 25 سال ہے، کے بارے میں صرف یہ معلوم ہے کہ وہ این سی سی کے رکن تھے۔ وہ این سی سی کے ذریعے زیادہ تر لوگوں سے رابطے میں رہا ہے۔

ملزم نے دسمبر 2024 میں ایک تصویر لگائی تھی جس میں اس نے مدھیہ ودیالیہ میں بہار راجیہ دل اور گرام رکھشا دل کا بینر اٹھایا تھا اور اس پر قصبہ تھانہ لکھا ہوا تھا۔

ملزم نے ایک ماہ تک نوجوانوں کو خالی سکول کی عمارت میں جعلی پولیس سٹیشن قائم کر کے تربیت دی اور 26 جنوری 2025 کو جب تربیت کا دورانیہ ختم ہونے کا کہا گیا تو اس نے باضابطہ طور پر موہانی گاؤں کے سربراہ شیامندر اوران کو مہمان کے طور پر مدعو کیا۔

شیامندر اورن نے ان نوجوانوں اور نوجوان خواتین کو مبارکباد دی جنھوں نے مبینہ طور پر پولیس تربیت مکمل کی تھی۔ ٹریننگ کے بعد ملزم نے ان تمام نوجوانوں کو باضابطہ طور پر پولیس آئی ڈی کارڈ بھی جاری کئے۔

شیام سندر نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ ملزم نے آکر مجھے تربیت کے متعلق بتایا اور میں نے سوچا کہ پولیس سٹیشن کو اس بارے میں علم ہو گا۔ اس نے نوجوانوں اور خواتین کو تربیت دی۔ میں مقامی رہنما ہوں، اگر کوئی مجھے کسی تقریب کے لیے بلائے گا تو میں جاؤں گا۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سکول میں اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت ہے، تو انھوں نے کہا کہ 'گاؤں کے سکول ٹیچر کیمپ چلانے کے لیے سرکاری خط مانگتے رہے، لیکن ملزم نے ایسا کوئی لیٹر کبھی نہیں دیا۔ وہ یہ کہتے ہوئے ٹالتا رہا کہ سرکاری اجازت نامہ پٹنہ سے آنا ہے جب آئے گا میں دے دوں گا۔ پوری ٹریننگ کے دوران کچھ بھی مشتبہ واقعے پیش نہیں آیا تھا۔'

ملزم اس وقت مفرور ہے پولیس مقامی رہنما شیام سندر کے کردار کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔

جعلی پولیس سٹیشن

،تصویر کا ذریعہPankaj Yadav

’پولیس گشت اور گاڑیوں کی چیکنگ بھی کی گئی‘

ملزم نے نوجوان کو فرضی پولیس ٹریننگ کروا کر ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں انھیں ملازمت دینے کا کہا گیا اور سب کچھ اصلی لگے اس لیے اس نے نئے تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں سے کئی عوامی مقامات پر گاڑیوں کی چیکنگ بھی کروائی۔'

مقامی صحافی پنکج یادو نے بتایا کہ 'ملزم اس عرصے کے دوران موہنی کے علاقے میں گاڑیوں کی چیکنگ، شراب کی جانچ اور گشت کرتا رہا اور اگر کوئی بغیر ہیلمٹ یا ڈرائیونگ لائسنس کے پکڑا گیا تو اس پر 400 روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ اگر شراب پائی جاتی ہے تو اسے ضبط کر کے تھانے لے جایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ پولیس سٹیشن کے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا تھا۔'

متاثرہ سنجیو کمار نے ملزم سے ملنے والے پولیس آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے دو دن تک اس نمائشی تقریب میں کام کیا۔

انھوں نے بتایا کہ 'ملزم این سی سی میں ہمارے سینئر تھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ گرام رکھشا بندھن کے لیے لوگوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ کوئی امتحان نہیں ہوگا، یہ براہ راست بھرتی ہوگی اور ہمیں اپنی ذات کی وجہ سے چھوٹ ملے گی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'پہلے ہم نے اسے 2500 روپے، پھر 200 روپے پولیس آئی ڈی کارڈ کے لیے دیے۔ ہم نے یونیفارم بھی سلائی۔ اس نے ہمیں دو دن تک نمائش میں کام کرایا لیکن ہمیں کوئی ملازمت کا لیٹر دیے بغیر غائب ہو گیا۔'

ملزم نے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا تھا، جس میں نوکریوں کی پیشکش کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

متاثرہ انیل کمار کے مطابق کہ 'اس نے ہم سب سے 10 ہزار روپے لیے اور 15 سے 20 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔ جب ہمیں حقیقت کا علم ہوا تو ہم اس کے گھر گئے اور اس سے ہماری رقم واپس کرنے کو کہا۔ لیکن وہ روپوش ہو گیا۔'

تاہم پورنیہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے شرما نے ایسے کسی واقعے سے انکار کیا ہے۔

اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'کسی ایسی نمائشی تقریب کا انعقاد کیسے ہو سکتا ہے، ابھی تک پولیس کے پاس گاڑیوں کی چیکنگ یا الکوحل ٹیسٹ کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق ملزم نے صرف ملازمت دلانے کے بہانے لوگوں سے دو ہزار سے لے کر دو ہزار پانچ سو روپے وصول کیے۔'"

یاد رہے کہ بہار میں فرضی تھانے قائم کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے کا یہ پہلا واقعے نہیں ہے۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ضلع بنگا میں ایسا ہی معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس میں انسپکٹر سے لے کر چوکیدار تک سب جعلی تھے۔

گزشتہ سال (2024) جموئی کے سکندرا تھانہ کے علاقے میں ایک فرضی آئی پی ایس افسر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔