جعلی افسر جس نے سرکاری اجلاس میں بیٹھ کر کروڑوں روپے کے فنڈز ہتھیا لیے

انڈیا

،تصویر کا ذریعہLAXMI PATEL/BBC

    • مصنف, لکشمی پٹیل
    • عہدہ, بی بی سی گجراتی

انڈیا کی ریاست گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بوڈیلی میں تین منزلہ کمپلیکس موجود ہے جس میں زیادہ تر فلیٹ خالی ہیں لیکن دوسری منزل پر فلیٹ نمبر 211 کے باہر ایک نوٹس بورڈ پر مختلف کاغذات چسپاں ہیں۔ ایک کاغذ پر لکھا ہے ’آفس آف ایگزیکٹو انجینیئر، بوڈیلی‘ اور اس کے نیچے ایک نام درج ہے۔

اس نوٹس بورڈ کو دیکھ کر یہ سوچنا فطری ہے کہ یہ کوئی سرکاری دفتر ہے لیکن حال ہی میں انکشاف ہوا کہ حقیقت میں یہ ایک فراڈ تھا جس کے تحت نہ صرف ایک جعلی سرکاری دفتر بنایا گیا بلکہ اس دفتر کے ذریعے محکمہ آبپاشی کے مختلف پراجیکٹس کے لیے سوا چار کروڑ کی گرانٹس بھی حاصل کی گئیں۔

پولیس کے مطابق اس جعلی دفتر کی نمائندگی کرنے والا ایک افسر سرکاری اجلاسوں تک میں شرکت کرتا رہا اور تقریباً دو سال تک کسی کو شبہ تک نہیں ہوا کہ حقیقت میں یہ ایک فراڈ اور جعلی دفتر تھا جس کا اصل میں کوئی وجود نہیں تھا۔

یہ معاملہ اس وقت کھلا جب 25 اکتوبر 2023 کو مقامی محکمہ آبپاشی کے انجینیئر سمیت دیگر افسران نے ایک اجلاس کے دوران ایک سرکاری دفتر سے آنے والی تجاویز پر غور کیا اور اسی دوران ایک افسر نے نکتہ اٹھایا کہ اس نام کا تو کوئی سرکاری دفتر بوڈیلی میں نہیں۔

چھان بین کی گئی تو پتا چلا کہ پچھلے ڈھائی سال سے بوڈیلی کے ایک سرکاری دفتر سے منصوبوں کی تجاویز آتی ہیں اور نہ صرف منظور ہو جاتی ہیں بلکہ مختلف کھاتوں میں گرانٹ کی تقسیم بھی کی جاتی رہی ہے اور اس دفتر کا ایک افسر سرکاری اجلاسوں میں بھی شرکت کرتا رہا ہے۔

مزید تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس فراڈ کے پیچھے سندیپ راجپوت نامی شخص تھا جس نے بوڈیلی میں ایک پورا فرضی سرکاری دفتر قائم کر کے سرکاری فنڈز میں سے 4.15 کروڑ ہتھیا لیے اور وہ بھی حکام کی منظوری سے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہLAXMI PATEL/BBC

اس پورے واقعہ کے بعد سندیپ راجپوت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے کیس کی تفتیش کی تو ایک اور ملزم ابوبکر سید کا نام بھی سامنے آیا۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقدمے کے مطابق، 25 اکتوبر 2023 کو صبح 11 بجے ایک میٹنگ ہوئی جس میں محکمہ آبپاشی کے افسران کے سامنے ایک سرکاری دفتر کی جانب سے موصول ہونے والا پروپوزل رکھا گیا تو ایگزیکٹیو انجینیئر محکمہ آبپاشی نے کہا کہ ان کے دفتر سے ایسی کوئی تجویز نہیں بھیجی گئی۔

جب اس دفتر اور متعلقہ افسر کے بارے میں مزید پوچھ گچھ ہوئی تو چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئیں جن کے مطابق پہلی بار 2021 میں 40 پراجیکٹس کے لیے 1.97 کروڑ روپے کی رقم بذریعہ چیک جاری ہوئی۔

پھر 2022-2023 مالی سال میں خواتین کے لیے پینے کے پانی سمیت مختلف پراجیکٹس کے لیے 2.18 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی اور پھر یہ رقم مقامی بینک میں ایگزیکٹیو انجینیئر آبپاشی کے کھاتے سے ہی چیک اور ای پیمنٹ کے ذریعے تقسیم کی گئی۔

تفتیش سے پتا چلا کہ سندیپ راجپوت نامی شخص نے 26 جولائی 2021 سے 25 اکتوبر 2023 کے دوران ایگزیکٹیو انجینیئر ایریگیشن پروجیکٹ ڈویژن بوڈیلی کا جعلی دفتر قائم رکھا اور اس نے ایگزیکٹیو انجینیئر کے نام پر ایک فرضی شناخت قائم کرنے کے بعد سرکاری پراجیکٹس کے ذریعے فنڈ حاصل کیے اور فرضی دستخط، جھوٹی تجاویز کا استعمال کرکے 4.15 کروڑ کی رقم کا غبن کیا۔

مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’سندیپ راجپوت نے کسی سابق یا موجودہ افسر یا ملازم کی مدد اور یا ملی بھگت کے تحت مجرمانہ سازش کی ہے۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہLAXMI PATEL/BBC

پولیس انسپیکٹر اے سی پرمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سندیپ راجپوت نے خود کو ایگزیکٹو انجینیئر ظاہر کیا اور تجاویز بھیج کر گرانٹ حاصل کی اور وہ سرکاری اجلاسوں میں بھی شرکت کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ابوبکر سید نامی ملزم سے بھی پوچھ گچھ ہوئی اور معلوم ہوا کہ ان دونوں ملزمان نے مل کر ایگزیکٹو انجینیئر کی سازش کی۔

بی بی سی نے اس معاملے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ سپانسر شپ آفیسر سچن کمار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔

ضلع کے پولیس چیف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جعلی دفتر سے ملنے والا سامان، دستاویزات اور کاغذات ضبط کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم ابوبکر کے گھر سے سامان بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس نے اس کیس کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ضلع کے ایس پی سمیت پولیس افسران شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے فون ڈیٹا کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزمان کے ساتھ اور کون لوگ شامل تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلی انجینیئر بننے والے سندیپ راجپوت نے بی کام تک تعلیم حاصل کی تھی۔

ادھر گجرات میں کانگریس پارٹی کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جعلساز سرکاری اجلاس میں بیٹھتا رہا جہاں متعدد سرکاری اہلکار اور افسران بھی موجود ہوتے اور اس کے باوجود جعلی اور جھوٹے پراجیکٹس کی منظوری دی جاتی رہی۔‘

پارٹی ترجمان ڈاکٹر منیش دوشی نے کہا کہ ’بوگس آفس نے اب تک سرکاری پراجیکٹس کے نام پر کل 4.15 کروڑ روپے کا گھپلا کیا۔ کیا سرکاری اہلکار اتنے ناخواندہ ہیں کہ جعلی فائلیں بھی پاس کر لیں گے؟ جعلی سرکاری دفتر کے نام پر فائلیں پاس ہوئیں اور کسی کو پتا نہیں چلا؟ کیا نظام سو رہا تھا؟‘

انھوں نے مزید سوال کیا کہ ’بڑے افسران کے آشیرباد اور ملی بھگت کے بغیر ایک جعلی سرکاری دفتر دو سال تک کروڑوں کا گھپلہ کیسے کر سکتا ہے؟ اس کام میں اصل کھلاڑی کون ہے؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اصل کھلاڑی کو بے نقاب کیا جانا چاہیے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

ریاستی وزیر برائے امور داخلہ ہرش سنگھوی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔